بہار میں ووٹنگ کے جوش نے دنیاکی توجہ مبذول کرائی، جو قومی سیاسی منظر نامے اور آئندہ انتخابات میں تبدیلی کا اشارہ

تاثیر 7 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

پٹنہ، 7 نومبر : ہندوستان کے سیاسی نقشے پر ہمیشہ اثر ڈالنے والے بہارنے 2025 کے پہلے مرحلہ کے اسمبلی انتخابات میں64.66 فیصد ووٹ ڈال کر تاریخ رقم کی۔ اس اضافے نے نہ صرف ریاست کی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے بلکہ قومی اور عالمی سیاسی تجزیہ کاروں کی توجہ بھی مبذول کرارہی ہے۔
تاریخ میں جب بھی بہار میں 60 فیصد سے زیادہ ووٹ (1990، 1995 اور 2000 میں) ڈالے گئے ہیں، تب ریاست کے اقتدار میں تبدیلی ہوئی ہے۔ اس بار پہلی بار اتنی زیادہ شراکت نے این ڈی اے اور مہا گٹھ بندھن دونوں کے لیے سیاسی چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ سیاسی ماہرین سریندر اگنی ہوتری اور پروفیسر روی کانت پاٹھک کا خیال ہے کہ بہار کے انتخابی نتائج دیگر ریاستوں میں آئندہ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کی سمت کا تعین بھی کر سکتے ہیں۔
خواتین ووٹر اپنی مسلسل بڑھتی ہوئی شرکت کے ساتھ فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے انہیں ’خفیہ ووٹر‘ قرار دیا ہے۔ این ڈی اے کو امید ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانے کی اسکیموں اور روزگار کے پیکیج سے انہیں انتخابی میدان میں فائدہ ہوگا۔ دریں اثنا مہاگٹھ بندھن نوجوانوں اور خواتین کو راغب کرنے کی حکمت عملیوں پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار لو کمار مشرا کا خیال ہے کہ ووٹروں کی تعداد میں اضافہ نہ صرف بہار بلکہ پوری ملک کی سیاست پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ این ڈی اے یا عظیم اتحاد کا فائدہ یا نقصان قومی سیاسی مساوات، پالیسی سازی اور آئندہ لوک سبھا انتخابات کو متاثر کر سکتا ہے۔ عالمی سطح پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستان کی جمہوریت متحرک ہے اور ووٹر سرگرمی سے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔