تاثیر 30 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
ملک میں وقف ترمیمی قانون 2025 کے نفاذ کے سلسلے میں سیاسی فضا ایک بار پھر گرم ہے، خاص طور پر مغربی بنگال میں، جہاں اس قانون کی مخالفت سب سے شدید رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ابتدا میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ کسی قیمت پر اس قانون کو ریاست میں نافذ نہیں ہونے دیں گی۔ لیکن اب حالات نے ایک غیر معمولی موڑ لیا ہے، اور ریاستی حکومت نے خاموشی سے اس قانون پر عمل درآمد کی سمت قدم بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ محض سیاسی تبدیلی کا اشارہ نہیں، بلکہ آئینی ذمہ داریوں، عدالتی ہدایات اور انتظامی ضرورتوں کا ایسا مجموعہ ہے، جس نے حکومت کو اپنے سابقہ اعلان سے ہٹ کر عملی راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔
وقف ترمیمی قانون، 2025 پارلیمنٹ سے رواں برس اپریل میں پاس ہوا تھا۔ اس کی مخالفت سب سے زیادہ مغربی بنگال میں ہوئی تھی۔ مرشدآباد میں اس کے خلاف پرتشدد واقعات بھی پیش آئے۔ ممتا بنرجی نے اُس وقت اعلان کیا تھا کہ وہ ’’مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالو راج کرو‘‘ کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گی، اور ریاست میں اس قانون کو نافذ نہیں کریں گی۔ مگر اب ریاستی اقلیتی فلاح و بہبود محکمہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور ضلع حکام کو 5 دسمبر تک وقف جائیدادوں کا مکمل ریکارڈ مرکزی حکومت کے متعلقہ پورٹل پر اپ لوڈ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ایسا ڈرامائی یو ٹرن کیوں آیا؟ سیاسی تجزیہ کاروں اور سرکاری ذرائع کے مطابق، اس یو ٹرن کی بنیادی وجہ آئینی مجبوری ہے۔ ریاست نے سپریم کورٹ میں اس قانون کے خلاف عرضی دائر کی تھی، مگر عدالت نے نہ اس پر اسٹے دیا اور نہ ہی مرکز کے فیصلے کو روکا۔ چنانچہ ممتا بنرجی کے پاس اس قانون کو نافذ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا، کیونکہ آئینی دائرے میں ریاستوں کو مرکزی قوانین کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاستی حکومت اس معاملے میں تنہا نہیں ہے۔ بنگال کے وقف بورڈ نے بھی عمل درآمد میں سہولت دینے کے لئے ہیلپ لائن، واٹس ایپ نمبر، اور ہفتہ وار میٹنگوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ بہت سی جائیدادوں کے ریکارڈ پہلے سے مرکز کے پاس موجود ہیں اور اب انہیں صرف نئے فارمیٹ میں اپ لوڈ کرنا ہے۔ یہ شفافیت کا عمل ہے، جس سے وقف املاک کی دستاویزات زیادہ مستحکم اور محفوظ ہوں گی۔اس ضمن میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ریاستی حکومت کے کئی اہم وزیر اور اس سے وابستہ دوسرے افراد یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اگرچہ وہ قانون کے مخالف ہیں، لیکن جائیدادوں کا ریکارڈ اپ لوڈ کرنا کوئی نقصان دہ قدم نہیں ہے، اس سے شفافیت بڑھے گی۔ یہ بیان اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ریاست اس وقت سیاسی دباؤ، عدالتی تقاضوں اور انتظامی ضرورتوں کے بیچ ایک عملی حل تلاش کر رہی ہے۔
بنگال کی مسلم آبادی تقریباً 30 فیصد ہے اور ممتا بنرجی کا سیاسی بیانیہ طویل عرصے تک اسی طبقے کے اعتماد پر قائم رہا ہے۔ اسی لئےاس قانون کی مخالفت ان کے لئے سیاسی طور پر لازمی بن گئی تھی۔ مگر مسلسل عدالتی اور آئینی رکاوٹوں کے بعد وہ اس حقیقت کو قبول کرنے پر مجبور ہوئیں ہیں کہ قانون کو روکنا ان کے اختیار میں نہیں ہے۔ اس عمل کو ’’سیاسی پسپائی‘‘ کہنا شاید درست نہ ہو؛ زیادہ مناسب لفظ ’’آئینی مجبوری ‘‘ہے۔دوسری جانب بی جے پی کا مؤقف ہے کہ ممتا بنرجی نے ابتدا میں محض سیاسی فائدے کے لئے قانون کی مخالفت کی، لیکن آخرکار انہیں مرکزی حکومت کے فیصلے کے سامنے جھکنا پڑا۔ اس دعوے میں سیاسی رنگ ضرور ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ مرکز کے پاس وقف املاک کا ڈیجیٹل ریکارڈ جمع کرنا قومی سطح پر ایک انتظامی ضرورت بنتا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں وقف املاک کے تنازعات کی بڑھتی تعداد اس بات کی متقاضی ہے کہ ان کا درست، شفاف اور مستند ریکارڈ موجودہو۔
مسلم تجزیہ کار اس پیش رفت کو منفی طور پر نہیں دیکھتے۔ تاریخ دان محمد عطا اللہ کے مطابق وقف املاک کا ریکارڈ مرکزی پورٹل پر اپ لوڈ کرنے سے ملکیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ بلکہ اس اقدام سے وقف املاک کا تحفظ مضبوط ہوگا اور بے ضابطگیوں میں کمی آئے گی۔ مالدہ مسلم انسٹی ٹیوٹ کے سابق صدر محمد عبدالرّفیق بھی اسی مؤقف کے حامی ہیں کہ آئینی حکم کے سامنے حکومت کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ویسے مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ممتا بنرجی کا فیصلہ سیاسی، آئینی اور انتظامی حقیقتوں کا نتیجہ ہے۔ قانون کے نفاذ سے جہاں شفافیت بڑھے گی، وہیں وقف املاک کے تحفظ میں بھی بہتری آئے گی۔ اگر ریاست اس پورے عمل کو حساسیت کے ساتھ آگے بڑھاتی ہے، تو اس سے نہ صرف مسلمانوں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ ریاستی انتظامیہ میں شفافیت اور نظم و نسق بہتر ہوگا۔وقف قانون پر اختلاف اپنی جگہ، مگر ریکارڈ کی درستگی اور شفافیت ہر طبقے کے مفاد میں ہے، اور شاید یہی اس فیصلے کا سب سے مثبت پہلو ہے۔

