دنیا کی نظر اب دوسرے مرحلے کی پولنگ پر

تاثیر 6 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بہار اسمبلی انتخابات 2025 کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ کل 6 نومبر کو اختتام پذیر ہو گئی۔ اس مرحلے میں 18 اضلاع کی 121 اسمبلی نشستوں پر پولنگ ہوئی۔اس کے ساتھ 1314 امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں بند ہو گئی ہے۔اس مرحلے میںریاست کے کئی اہم سیاسی چہرے بھی میدان میں تھے۔ انتخابی کمیشن کے مطابق شام پانچ بجے تک اس مرحلے میں اوسطاََ   60.13فیصد ووٹ سے زیادہ ووٹ  ڈالے گئے،  2020 کے مقابلے صرف زیادہ ہی نہیں ، بلکہ اس سے گزشتہ 20 برسوں کا رکارڈ بھی بریک ہوا ہے۔اس مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹنگ بیگوسرائے  میں اور سب سے کم بھوجپور میں رکارڈ کی گئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ اس بار بھی  دیہی علاقوں میں شہری حلقوں کے مقابلے میں عوامی جوش و خروش کچھ زیادہ دکھائی دیا۔
پہلے مرحلے میں تقریباً 3.75 کروڑ ووٹرز نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ یہ وہ طبقہ ہے، جس کے فیصلے سے  بہار کی سیاسی سمت طے ہوگی۔ 1314 امیدواروں میں سے کئی نام نہ صرف ریاست بلکہ ملک کی سیاست میں اہمیت رکھتے ہیں۔ راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر تیجسوی یادو راگھو پور سے انتخاب لڑ رہے ہیں، جہاں ان کا مقابلہ بی جے پی کے ستییش کمار سنگھ سے ہے۔ یہ نشست ماضی میں رابڑی دیوی اور جے ڈی یو امیدوار کے درمیان سخت مقابلے کے لئے مشہور رہی ہے۔ اسی طرح تیج پرتاپ یادو، جو اب اپنی نئی پارٹی ’جن شکتی جنتا دل‘ کے سربراہ ہیں، مہوا سے میدان میں ہیں، جہاں ان کا سامنا آر جے ڈی کے امیدوار مکیش روشن سے ہے۔دوسری طرف، بی جے پی کے دو نائب وزرائے اعلیٰ،سمراٹ چودھری اور وجے کمار سنہا—بھی اپنی اپنی نشستوں سے میدان میں ہیں۔ وجے سنہا لکھی سرائے سے مسلسل چوتھی بار قسمت آزما رہے ہیں۔ اس مرحلے میں اداکار اور گلوکارکھیساری لال یادو کی چھپرا سے آر جے ڈی امیدوار کے طور پر شمولیت نے بھی انتخابی فضا کو دلچسپ بنا دیا ہے۔ دربھنگہ کی علی نگر سیٹ سے بی جے پی نے گلوکارہ میتھلی ٹھاکر کو میدان میں اتارا ہے۔میتھلی اپنی انتخابی مہم کے آخر آخر تک نوجوان ووٹروں کو متوجہ کرتی ہوئی نظر آئیں ۔ انھوں نے اپنے چناوی وعدے میں یہاں تک کہہ دیا کہ چناؤ جیتنے کے بعد’’ علی نگر‘‘ کا نام بدل کر ’’سیتا نگر‘‘ کرنے کی کوشش کروں گی۔
پہلے مرحلے کی پولنگ مجموعی طور پر پُرامن رہی، لیکن کچھ حلقوں میں ہلکے تشدد اور تنازعات کی خبریں سامنے آئیں ہیں۔لکھی سرائے کے کھوشیاری گاؤں میں مبینہ بوتھ کیپچرنگ کے بعد پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔ نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار سنہا کے قافلے پر پتھراؤ کی خبر بھی ملی ہے، حالانکہ بعد میں یہ خبر موصول ہوئی ہے کہ گاؤں کی سڑکوں کی بدحالی کو لیکر کھوشیاری کے لوگوں نے نائب وزیر اعلیٰ کے خلاف احتجاجی نعرے لگائے۔ ان کی گاڑی پر گوبر اور چپل پھینکے جانے کی بھی باتیں سننے میں آئی ہیں۔ جب کہ چھپرا کے مانجھی حلقے میں سی پی آئی (ماؤ نواز) امیدوار ڈاکٹر ستیندر یادو کی گاڑی پر حملہ کیا گیا۔ اگرچہ ان واقعات نے لمحاتی تناؤ پیدا کیا، مگر الیکشن کمیشن اور پولیس کی فوری کارروائی نے حالات کو قابو میں رکھا۔
اس مرحلے میںسیوان کی رگھوناتھ پور سیٹ بھی خاصی زیرِ بحث رہی، جہاں مرحوم شہاب الدین کے بیٹے اسامہ شہاب آر جے ڈی کے امیدوار ہیں۔ ایک زمانے میں شہاب الدین کا سیوان پر گہرا اثر تھا، مگر وقت کے بدلنے کے ساتھ سیاسی حالات بھی بدل گئے ہیں، لیکن جو نہیں بدلا ہے وہ یہ ہے کہ تمامتر منفی پرچار کے باوجود وہاں کے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو ووٹرز اسی طرح اسامہ شہاب کے ساتھ کھڑے نظر آئے، جس طرح شہاب الدین کے ساتھ کھڑے رہتے تھے۔اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اسامہ شہاب سیاست کے میدان میں خود کو کتنا کامیاب ثابت کر پاتے ہیں۔
پہلے مرحلے میں ایک اور نمایاں پہلو یہ رہا کہ پہلی بار چناوی میدان میں اتری، پرشانت کشور کی سربراہی والی ایک معروف پارٹی،جن سوراج،نے خواجہ سرا امیدوار پریتی کنور کو گوپال گنج کے بھورے حلقے سے ٹکٹ دیا تھا، جو بہار کی سیاست میں ایک تاریخی قدم ہے۔ اس سے نہ صرف سماجی شمولیت کا پیغام عوام تک پہنچا ہے بلکہ انتخابی میدان میں نئی جہت بھی شامل ہوئی۔اگرچہ ایک رپورٹ کے مطابق، اس مرحلے کی ووٹنگ کے دوران 300 سے زیادہ ای وی ایم مشینیں بدلی گئیں اور 100 سے زائد شکایتیں موصول ہوئیں، لیکن مجموعی طور پر پولنگ کا عمل نظم و ضبط کے ساتھ مکمل ہوا۔ الیکشن کمیشن نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے ہر بڑے واقعے کو فوری طور پر حل کرنے کی کوشش کی۔اب جب کہ پہلا مرحلہ کامیابی کے ساتھ مکمل ہو چکا ہے، دنیا کی نگاہیں دوسرے مرحلے پر مرکوز ہیں، جہاں 20 اضلاع کی 122 نشستوں پر 11 نومبر کو ووٹنگ ہوگی۔ کل کی پولنگ کے ذریعہ بہار کے عوام نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ جمہوری عمل کے پختہ حامی ہیں۔ اگر اگلے مرحلے میں بھی امن و شفافیت برقرار رہی تو یقیناََبہار سیاسی بیداری کے ساتھ ساتھ جمہوری شعور کی ایک نئی مثال قائم کرے گا۔