میانمار میں جنٹا کے سخت کنٹرول میں پانچ سال کے بعدقومی انتخابات کا انعقاد، اپوزیشن غیر حاضر

تاثیر 28 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

نیپیڈا ، 28 دسمبر : میانمار میں منتخب حکومت کی بغاوت کے تقریباً پانچ سال بعد، اتوار کو فوجی انتظامیہ جنٹا کے زیر کنٹرول تین مرحلوں پر مشتمل قومی انتخابات کا آغاز ہوا۔ فوج کے سخت کنٹرول میں ہونے والے اس الیکشن میں اپوزیشن غیر حاضر ہے۔ وسیع پیمانے پر خانہ جنگی کی وجہ سے یہ ووٹنگ ایک محدود علاقے میں ہو رہی ہے جس کی قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ اور مغربی ممالک اسے فوجی حکمرانی کو مضبوط کرنے کا بہانہ قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ الیکشن جمہوریت کی واپسی کی راہ ہموار کرے گا۔تقریباً پانچ کروڑ کی آبادی والے میانمار میں فوجی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں تین مرحلوں پر مشتمل پولنگ کا پہلا مرحلہ آج مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے شروع ہوا۔ دوسرے مرحلے کی پولنگ 11 جنوری اور تیسرا مرحلہ 25 جنوری کو ہو گا۔میانمار کے باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں ووٹنگ نہیں ہو رہی ہے جو تقریباً پانچ سال سے خانہ جنگی کا شکار ہے۔ میانمار کی کل 330 نشستوں میں سے تقریباً 65 ایسی پارلیمانی نشستیں ہیں جن پر ووٹنگ نہیں ہو رہی ہے۔