متوازن اور ذمہ دارانہ رویہ بے حد ضروری

تاثیر 30 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

 اسمبلی انتخابات سے قبل مغربی کا سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی کولکتہ میں پریس کانفرنس نے اس گرماہٹ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی سربراہ اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی حکومت پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ شاہ نے در اندازی، بدعنوانی، انتظامی ناکامی اور ڈر کے ماحول کو انتخابات کا مرکزی ایشو قرار دینے کا اشارہ دیا ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی دو تہائی اکثریت سے اقتدار میں آئے گی۔
امت شاہ کے بیانات کا مرکزی نقطہ بنگلہ دیش کی جانب سے ہونے والی مبینہ در اندازی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ممتا حکومت انتخابات میں فائدہ اٹھانے کے لئے در اندازی کو فروغ دے رہی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے اسے ووٹ بینک سیاست کا حصہ قرار دیا ہے۔ امت شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاستی حکومت نے بنگلہ دیش کی سرحد پر باڑ لگانے کے لئے زمین فراہم نہیں کی، جس کی وجہ سےدراندازی جاری ہے۔ انہوں نے خود ممتا کو سات خطوط لکھنے اور گزشتہ چھ سالوں میں مرکزی افسران کی ملاقاتوں کا حوالہ دیا، لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلنے کا الزام لگایا ہے۔ شاہ نے دیگر ریاستوں جیسے تریپورہ، آسام، راجستھان اور پنجاب کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا ہے کہ وہاں در اندازی کیوں رک گئی، جبکہ بنگال میں جاری ہے؟  ان کا کہنا تھا کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، اور در اندازی سے آبادی کی ساخت تبدیل ہو رہی ہے۔
امت شاہ کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعظم کی فلاح و بہبود کی اسکیمیں’’ٹول سنڈیکیٹ‘‘ کی بھینٹ چڑھ گئیں، اور ریاست کی ترقی رک گئی ہے۔ شاہ نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بی جے پی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا ذکر کیا اور کہا کہ اس نے 2014 میں 17 فیصد ووٹ اور تین سیٹیں، 2019 میں 41 فیصد اور 18 سیٹیں، اور 2021 میں 21 فیصد ووٹ کے ساتھ 77 سیٹیں جیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2016 میں صرف تین سیٹوں والی پارٹی پانچ سالوں میں 77 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ شاہ نے وعدہ کیا کہ بی جے پی کی حکومت بننے پر ریاست کی ثقافت اور ورثے کو بحال کیا جائے گا، غریبوں کی فلاح کو ترجیح دی جائے گی، او ر در اندازی کو روکنے کے لئے پختہ انتظام کیا جائے گا۔
امت شاہ کے ذریعہ عائد الزامات ایک طرف ہیں، لیکن ٹی ایم سی کا موقف اس سے بالکل مختلف ہے۔ اگرچہ اس تازہ پریس کانفرنس پر فوری ردعمل دستیاب نہیں، مگر ماضی کے پٹرن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ممتا بنرجی اور ان کی پارٹی اسے سیاسی سازش اور پولرائزیشن کی کوشش قرار دیں گی۔ ٹی ایم سی اکثر بی جے پی پر فرقہ وارانہ تقسیم پیدا کرنے اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگاتی ہیں۔ ممتا نے ماضی میں سی اے ا ے او ر این آر سی جیسے قوانین کو در اندازی کے بہانے مسلم ووٹروں کو ہراساں کرنے کی کوشش کہا ہے۔ بدعنوانی کے الزامات پر ٹی ایم سی کا جواب یہ ہوتا ہے کہ بی جے پی خود مرکز میں کرپشن کے الزامات کا شکار ہے، اور بنگال کی ترقیاتی اسکیمیں جیسے ’’دوارے سرکار‘‘ اور’’لکشمی بھنڈار‘‘ ریاست کی ترقی کی مثالیں ہیں۔در اندازی کے معاملے میں ٹی ایم سی کا دعویٰ ہے کہ مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سرحد کی حفاظت کرے، اور ریاستی حکومت نے ہمیشہ تعاون کیا ہے۔ ممتا بنرجی بار بار یہ کہہ چکی ہیں کہ در اندازی کا ایشو سیاسی فائدے کے لئے اٹھایا جاتا ہے،لیکن اس ے بنگال کی معیشت اور سماجی ہم آہنگی کتنا نقصان پہنچتا ہے، اس پر کوئی توجہ نہیں دیتاہے۔
واضح ہو کہ بنگال کی آبادی میں مسلم ووٹرز کا تناسب تقریباً 27 فیصد ہے، جو انتخابات میں فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے۔ بی جے پی در اندازی کو مبینہ طور پر ہندو ووٹروں کو متحد کرنے کا ہتھیار بنا رہی ہے، جبکہ ٹی ایم سی اسے اقلیتوں کے تحفظ کا معاملہ قرار دے کر اپنا بیس مضبوط کرتی ہے۔ حالانکہ اس صورتحال کے اثرات ریاست کی ترقی پر پڑ رہے ہیں۔ در اندازی ایک حقیقی مسئلہ ہے، جو قومی سلامتی سے جڑا ہے، لیکن اسے سیاسی آلہ بنانا سماجی تقسیم کو بڑھاتا ہے۔ بدعنوانی روکنے کے لئے شفافیت کی ضرورت ہے، نہ کہ الزام تراشی کی۔ انتخابات سے قبل دونوں جماعتوں کو مثبت ایجنڈے پر توجہ دینی چاہیے۔ مثلاََ روزگار، صحت، تعلیم اور سرحدی تحفظ وغیرہ۔ بنگال کے عوام کو چاہئے کہ وہ پولرائزیشن سے بچتے ہوئے اپنا فیصلہ کریں۔غیر جانبدار تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بی جے پی جیتتی ہے تو یہ جیت ہندوتوا کی توسیع ہوگی، جبکہ ٹی ایم سی کی جیت علاقائی سیاست کی طاقت کو ثابت کرے گی۔ مجموعی طور پر، 2026 کے انتخابات بنگال کی سیاست کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے لئے متوازن اور ذمہ دارانہ رویہ بے حد ضروری ہے۔
**********