! نفرت کے شور میں محبت کا نغمہ

تاثیر 4 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بھارت کی گنگا جمنی تہذیب، جو ہندو اور مسلم ثقافتوں کے امتزاج سے بنی ہے، صدیوں سے اس سرزمین کی روح رہی ہے۔ یہ تہذیب مذہبی ہم آہنگی کی علامت بھی ہے اور سماجی اتحاد وباہمی احترام کی بنیاد بھی۔ پچھلے چند ہفتوں میں ملک نے کئی ایسے مناظر دیکھے ہیں، جو اس تہذیب کی تصویر کو نمایاں طور پر سامنے لائے ہیں اوریہ ثابت کیا ہے کہ انسانیت ہر تعصب سے بڑی ہے۔ اتر پردیش میں شیوم کو بچانے والے فیصل، آسام میں ہندو بھائیوں کی جان بچانے والے امام عبدالباسط، اور جموں میں صحافی ارفاز احمد کے لئے اپنی زمین ہدیہ کرنے والے کلدیپ شرما،یہ تمام واقعات اسی صدیوں پرانی تہذیب کے روشن دیے ہیں، جو شاید تھوڑی دیر کے لیے دھندلے ہوں، مگر بجھ نہیں سکتے۔ انھی روشن چراغوں میں ایک اور چراغ بہار کے بکسر ضلع میں جلا ہے، جہاں دیوی ڈیہرا گاؤں کے ایک ہندو خاندان نے اپنے بیٹے کی موت کے شدید صدمے کو انسانیت کی لافانی مثال میں بدل دیا ہے۔
18 نومبر کو ایک سڑک حادثے میں نوجوان شیوم کی موت ہوئی، اور گھر پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ شیوم اپنی خوش مزاجی، ملنساری، خدمت گزاری اور مذہبی رواداری کی وجہ سے گاؤں میں بے حد محبوب تھا۔ خاندان نے طے کیا کہ اس کی یاد کو ایسا روپ دیا جائے، جو صدیوں تک محبت اور الفت کی علامت بنا رہے۔ شیوم کے شرادھ کے دن، جب زخم ابھی تازہ تھے، خاندان نے اپنی ایک بیگھہ زمین مسلمان بھائیوں کے لئے قبرستان کے طور پر وقف کرنے کا اعلان کر دیا۔ قانونی کارروائی کے بعد یہ قبرستان باقاعدہ قائم ہوا اور اس کا نام رکھا گیا:’’ شیوم عرف اہیر دھام قبرستان‘‘۔ آہ ! کیا خوبصورت بات ہے کہ ایک نوجوان ہندو کا نام ایک مسلم قبرستان سے جوڑ دیا جائے، اور دونوں کو جوڑتی ہوئی صرف انسانیت!  یہ کوئی معمولی قدم نہیں، بلکہ نفرت کے شور میں محبت کا ایسا نغمہ ہے، جو دور تک سنائی دیتا ہے۔ یہ فیصلہ صرف ایک خاندان کا نہیں، بھارت کی اجتماعی روح کا ترجمان ہے،وہی ملک جہاں صدیوں سے لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے آئے ہیں، جہاں مسجد کے دروازوں پر دیے جلتے ہیں اور مندروں کے صحن میں روزے دار سایہ پاتے ہیں۔
اسی تہذیب کی ایک اور خوبصورت مثال بہار کے ہی ضلع مشرقی چمپارن کے موضع کیتھوالیا سے ہے، جہاں ایک مسلم خاندان نے چند برسوں قبل اپنی قیمتی زمین کا بڑا حصہ،تقریباً   23 کٹھہ (71 ڈسمل)،ویراٹ رامائن مندر کی توسیع کے لئے باضابطہ رجسٹری کے ذریعے عطیہ کر کے مثال قائم کی تھی۔ یہ کام نہ کسی تشہیر کی خواہش سے تھا، نہ سیاسی مصلحت سے،صرف انسانیت، محبت اور مذہبی ہم آہنگی کے جذبے سے۔ مہاویر مندر نیاس کے اس وقت کے سکریٹری آچاریہ کشور کنال نے اسے’’خطے کے لیے باعث فخر اور مذہبی رواداری کی زندہ مثال‘‘ قرار دیا تھا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ اس سرزمین پر مذہب سے پہلے انسانیت آتی ہے، اور اختلاف سے پہلے دلوں کو وسعت حاصل ہو جاتی ہے۔
لیکن افسوس کہ ان مثبت واقعات کے سامنے آنے کے ساتھ ہی ملک میں کچھ ایسی کوششیں بھی جاری ہیں، جو اس مشترکہ تہذیب کو کمزور کرنے کے لئے ہر ممکن ہتھکنڈا استعمال کر رہی ہیں۔ گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ کے تنازعات کو بھڑکا کر عدالتوں اور سماج پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ تاریخی حقائق کو مذہبی سیاست کے تابع کر دیا جائے۔ گودی میڈیا نے شیطانیت کی تمام حدوں کو ہی پا ر کردیا ہے۔جبکہ دوسری جانب، مغربی بنگال میں’’بابری مسجد‘‘ کے نام سے نئی مسجد بنانے کے اعلان جیسے اشتعال انگیز بیانات دیے جا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا کوئی سنجیدہ، سلجھا ہوا اور دین دار مسلمان ایسے غیر ذمہ دارانہ اعلان کا حامی نہیں ہو سکتا، کیونکہ فرقہ وارانہ آگ کبھی یک طرفہ نہیں بھڑکتی،وہ سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ یہ اعلان مذہبی عقیدت کا اظہار نہیں، بلکہ سازش کی بو دیتا ہے،جس کا مقصد مسلمانوں کے خلاف فضا تیار کرنا، ان پر شکوک و شبہات کی تہمتیں لگانا اور انہیں ایسے کردار میں پیش کرنا ہے، جو وہ ہیں ہی نہیں۔ یہ مسلمانوں کی صدیوں پرانی روایت،صبر، حسن اخلاق اور سماجی توازن کی پاسداری،سے متصادم ہے۔ ایسی طاقتیں گنگا جمنی تہذیب کو توڑ کر بھارت کو مستقل پولرائزیشن کی آگ میں جھونک دینا چاہتی ہیں۔
ایسے وقت میں ریاست بہار کے ضلع بکسر اورمشرقی چمپارن کے واقعات کے ساتھ ساتھ اتر پردیش، آسام اور جموں سے آئے ہوا کے خوش گوار جھونکوں کی معنویت میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک طرف چند لوگ مذہبی حساسیت کو ہوا دے کر سیاست چمکا رہے ہیں، دوسری طرف عام شہری اپنی جیب، زمین اور کردار سے ملک کو جوڑ رہے ہیں۔ یہ فیصلے نہیں، پیغام ہیں کہ نفرت کے شور میں بھی محبت کی آواز خاموش نہیں ہوتی۔مگر افسوس ہے کہ گودی میڈیا کے مارے سماج میںپچھلے کچھ برسوں سے مثبت واقعات کو نظر انداز کر کے صرف منفی بیانیوں کو جگہ دی جاتی ہے۔ اگر ان نفرتی بیانیوں کو درکنار کر کے صرف خوش گوار مثالوں کو قومی سطح پر پیش کیا جائے تو بہت سے تنازعات بے معنی ہو جائیں۔ عوام کو چاہیے کہ موجودہ نفرتی فضا پر تھو تھو کریں، اور یہ یاد رکھیں کہ بھارت کی بنیاد جھگڑوں پر نہیں، تہذیب کے اس بہاؤ پر ہے جو نہ کبھی رکتا ہے اور نہ ٹھہرتا ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم اس روشنی کو بچائیں، تو سازشوں کا اندھیرا زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گا۔ یہ تہذیب ہماری مشترکہ میراث ہے۔آئیے،  اسے محبت سے سنواریں اور نفرت کو درکنار کریں !