!نیا سال آپ کو بہت بہت مبارک ہو

تاثیر 31 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

  آج یکم جنوری، 2026 ہے۔ گزشتہ سال 2025 کی تلخ وشیریں یادیں اب تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ آج کی صبح ایک نئی امید، نئے عزائم اور بہتر مستقبل کی بشارت لے کر آئی ہے۔ عالمی اداروں کی تازہ ترین پیش گوئیوں کے مطابق، 2026 میں عالمی جی ڈی پی کی شرح نمو تقریباً 3.1 سے 3.3 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ مہنگائی میں کمی آئے گی، شرح سود کم ہوگی، اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بدولت پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ بھارت جیسی ابھرتی معیشتوں میں یہ شرح 6.4 سے 6.8 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جو دنیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اسلامی مالیاتی نظام بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جہاں حلال تجارت اور سود سے پاک بینکنگ اربوں ڈالرز کی گروتھ لا رہی ہے۔ یہ اعداد و شمار ترقی کی نوید سناتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ ترقی سب کے لئے انصاف اور خوشحالی لائے گی؟
ماہرین کے مطابق بازارواد کا نظام، جو صرف منافع کو مقدم رکھتا ہے، 2026 میں بھی چیلنجز پیش کرے گا۔ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیاں، تجارت کی تقسیم اور جیوپولیٹیکل تناؤ عالمی تجارت کو متاثر کریں گے۔اے آئی سے نئی ملازمتیں تو پیدا ہوں گی، مگر پرانی نوکریاں ختم ہونے سے بے روزگاری اور عدم مساوات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماحولیاتی بحران، جیسے شدید موسم اور آلودگی، مزید سنگین ہو جائیں گے۔ غریب ممالک قرضوں تلے دبے رہیں گے، جبکہ امیر مزید امیر ہوتے جائیں گے۔ظاہر ہے، یہ صورتحال ایک صحتمند انسانی معاشرے کے لئے خطرہ ہے، جہاں پیسہ ہی سب کچھ نہ ہو بلکہ انصاف، ہمدردی اور توازن بھی اہم ہوں۔
اسلامی تعلیمات، جو نئے سال کے لیے بہترین رہنما ہیں،کے حوالے سے بات کریں تو ظاہر ہے کہ نئی شروعات کا بہترین موقع توبہ اور نیک عزائم ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اور سود نہ کھاؤ‘‘ (سورۃ البقرہ: 275)۔ سود پر مبنی نظام استحصال کو فروغ دیتا ہے، جبکہ اسلام زکوٰۃ، صدقات اور وقف جیسے اصول سکھاتا ہے، جو دولت کو سب میں تقسیم کرنے کی دلالت کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’’کوئی مومن نہیں جب تک وہ اپنے بھائی کے لئے وہی نہ چاہے جو خود کے لئے چاہتا ہے (صحیح بخاری)۔ یہ ہمدردی اور مساوات کی تعلیم خود غرض بازارواد سے بالکل مختلف ہے۔
اسلام میں نئے سال کے مفروضہ کی افادیت بس اتنی ہے کہ ہر لمحہ توبہ اور بہتری کا موقع ہے۔ نئے سال پر نئے سرے سے عزم کرنا جائز بلکہ مستحسن ہے، بشرطیکہ وہ اللہ کی رضا اور سماجی بہبود کے لئے ہوں۔ یعنی ’’زیادہ زکوٰۃ اور صدقہ دیں، تاکہ غریبوں کی مدد ہو اور معاشرے میں توازن آئے۔ ایمانداری اور عدل کو اپنائیں، تجارت میں حلال طریقے اختیار کریں۔ علم نافع حاصل کریں اور دوسروں کو سکھائیں، کیونکہ علم حاصل کرنا ہر مسلم مرد و عورت پر فرض ہے۔ صبر اور شکر کو اپنائیں، مشکلات میں اللہ پر توکل کریں۔ ماحول کا تحفظ کریں، کیونکہ زمین اللہ کی امانت ہے۔‘‘ یقین جانیںیہ عزائم نہ صرف ذاتی بہتری لائیں گے بلکہ معاشرے کو بھی مضبوط بنائیں گے۔ اسلامی اصولوں پر مبنی معیشت، جیسے سود سے پاک بینکنگ، عالمی سطح پر تیزی سے پھیل رہی ہے اور 2026 میں مزید ترقی کرے گی۔ یہ نظام روحانیت، اخلاقیات اور سماجی انصاف کو ترقی سے جوڑتا ہے۔انسانیت کے تقاضے بھی یہی ہیں کہ ترقی سب کی ہو۔ ہر شخص کو خوراک، تعلیم، صحت اور امن کا حق ملے۔ 2026 کے چیلنجز، جیسے ماحولیاتی بحران اور عدم مساوات، کو ہمدردی اور تعاون سے حل کرنا چاہئے۔
توآئیے! اس نئے سال میں ہم بھی یہ عہد کریں کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں میں انصاف، ایمانداری اور دوسروں کی مدد کو مقدم رکھیں گے۔یہ حقیقت ہمیشہ ہمارے دل و دماغ میں رچی بسی رہے گی کہ چھوٹے اقدامات، جیسے وسائل کی بچت، غریبوں کی مدد اور مثبت رویہ، ہمارے آس پاس کی دنیا میں بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ہماری کوشش ہو گی کہ ہمارے کسی بھی عمل سے کسی کی دل آزاری نہیں ہو۔ ہم اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق کا خاص خیال رکھیں گے ۔اللہ کرے کہ عالم انسانی کے لئے 2026 ایک امید بھرا سال ہو، جہاں ترقی صرف اعداد و شمار پر مبنی نہیں ہو بلکہ ہر انسان کی عزت، خوشحالی اور امن کا ضامن بنے۔ اللہ ہم سب کو توفیق دے کہ اس نئے سال 2026 میں ایک پرامن، عادلانہ اور صحتمند معاشرے کی تعمیر میںسرگرم کردار ادا کریں۔ اسی دعا کی قبولیت کی امید اور یقین کے ساتھ آپ کو نیا سال بہت بہت مبارک ہو!
***********************