آل انڈیا مسلم انٹلکچول سوسائٹی کے زیر اہتمام ’’پیام انسانیتــ‘‘ ڈائلاگ کا انعقاد

تاثیر 1 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

لکھنؤ: یگانگت اور مشترکہ مقصد کایک زبردست مظاہرہ کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم انٹیلکچوئل سوسائٹی (اے آئی ایم آئی ایس) نے ہفتہ کے روز گورنر ہاؤس کے سامنے واقع سنگم بینکویٹ میں ’پیامِ انسانیت اور ہماری ذمہ داری‘ کے موضوع پر ایک شام مکالمہ کا انعقاد کیا۔ یہ پروگرام مختلف مذاہب،مختلف مکتبہ فکر اور پیشوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کے ایک اہم سنگم کے طور پر سامنے آیا، جہاں تمام شرکاء نے امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کا عہد کیا۔اس پروگرام میںپچاس سے زائد معروف مقررین موجود تھے، جن میں نمایاں مذہبی رہنما، سینئر جج، اعلیٰ حکومتی عہدیدار، نامور ڈاکٹرز، اسکالرز اور سماجی کارکن شامل تھے۔ تمام نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے آج کے سماجی و سیاسی ماحول میں ”مکالمے کے سچے سپاہی” اور ”تکثیری اقدار کے محافظ” بننے کا اعلان کیا۔ممتاز مقررین کی فہرست میں حضرت مولانا سید بلال عبد الحی حسنی ندوی، صدر، آل انڈیا پیام انسانیت فورم و ناظم ندوۃ العلماء لکھنؤ،حضرت مولانا خالد رشید فرنگی محلی، چیئرمین، اسلامک سنٹر آف انڈیا،مولانا سیف عباس نقوی، صدر شیعہ مرکزی چاند کمیٹی، جسٹس بی ڈی نقوی، سابق ضلعی جج، اور جسٹس وقار احمد انصاری، چیئرمین پرماننٹ لوک عدالت، پریاگ راج، سوتنتر پرکاش گپتا، انفارمیشن کمشنر، حکومت یو پی، ریو فادر ڈونلڈ ڈی سوزا، چانسلر، کیتھولک ڈائیوسس آف لکھنؤ،پنڈت شری گرو دیو اچاریہ جی، ہندو مذہبی رہنما،پروفیسر ایم ایل بھٹ، ڈائریکٹر، کلیان سنگھ سپر اسپیشلٹی کینسر انسٹی ٹیوٹ اینڈ ہسپتال وغیرہ کے نام نمایاں ہیں۔ان کے علاوہ پروگرام میں دیگر معزز شخصیات بھی شامل تھیں جن میںاودے پرتاپ (آئی پی ایس)، مولانا عمار حسنی ندوی، مس سنجیتا شرما، ڈاکٹر پی بی کھرے، پروفیسر ڈاکٹر کے کے سنگھ، ڈاکٹر سید احمد ارشاد، ایڈوکیٹ ابھے کمار سنگھ، پروفیسر ڈاکٹر رامیش چندر، پروفیسر ڈاکٹر راجندر پرساد، پروفیسر ڈاکٹر اے پی جین، پروفیسر ڈاکٹر آر کے گرگ، ڈاکٹر امنگ کھنہ، ڈاکٹر راج کمپل گپتا، ڈاکٹر روما سمارٹ جوزف، ڈاکٹر منوج پانڈے، مسٹر امرناتھ مشرا، مس شکھا سنگھ، ڈاکٹر پی آر دھوسیا، مولانا عبدالعلی حسنی، مفتی ڈاکٹر محمد ادریس ،ڈاکٹر مسیح الدین خان اور دیگر شعبہ طب، قانون، سرکاری خدمات اور سماجی کام کی نمایاں شخصیات شامل ہیں۔اس اہم پروگرام میں مقررین نے زور دیا کہ‘پیام انسانیت’کوئی تصوراتی خیال نہیں بلکہ ہندوستانی تہذیب کی بنیادی روح ہے، جو ویدوں میں، بدھ اور مہاویر کی تعلیمات میں، حضرت عیسیٰ مسیح کی شفقت میں، گرو گرنتھ صاحب کی حکمت میں اور قرآن مجید کے ”رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْن” ہونے کے حکم میں گونجتی ہے۔ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے ہر شہری کی تین فریضہ بیان کیے گیے:پہلاہم اس مکالمے کے سچے ترجمان بنیں گے: سوشل میڈیا سے پھیلتی تقسیم کے اس دور میں دانشوروں نے حقیقی گفتگو کے لیے جگہیں بنانے، جواب دینے کے بجائے سمجھنے کے لیے سننے اور مختلف رائے میں مشترکہ انسانیت تلاش کرنے کا عہد کیا۔دوسرا یہ کہ تکثیری اقدار کے محافظ بننا: محفل نے اس بات کی تصدیق کی کہ ہندوستان کی عظمت ”وحدت در کثرت” میں ہے اور اس کثرت کو دقیانوسی تصورات، شک اور نفرت کے زہر سے بچانے کا عہد کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلافات کی سیاست کاری کو شعوری طور پر مسترد کیا جائے اور اپنے ہمسایوں کے تہواروں کو اپنے تہواروں جیسے ہی جوش و خروش سے منایا جائے۔تیسرا اور آخری باہمی میل جول کی روشن روایت کو دو بارہ زندہ کرنا۔فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ان کہی کہانیوں — ہندوؤں کا مسجد کی حفاظت کرنا، مسلمانوں کا مندر کی نگرانی کرنا، سکھوں کا سب کے لیے لنگر چلانا اور عیسائیوں کا ہر مذہب کے بچوں کو تعلیم دینا — کو اجاگر کرنے پر مضبوط اجماع پیدا ہوا۔ یہ طے پایا کہ ان داستانوں کو تقسیم کی نا مناسب آوازوں سے بلند تر کرنا ہوگا۔