تاثیر 25 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
سرکاری دوائیں آگ کی نذر، اسپتال بنا غیر قانونی مافیا کا گڑھ؟
سیتامڑھی:(مظفر عالم)
سیتامڑھی صدر اسپتال میں بدعنوانی، لاپروائی اور سازش کا ایسا ہولناک کھیل بے نقاب ہوا ہے جس نے پورے محکمۂ صحت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ دسمبر 2025 تک مؤثر، کروڑوں روپے مالیت کی قابلِ استعمال سرکاری دوائیں اسپتال کے مرکزی گیٹ کے عین سامنے جلائی جاتی رہیں — اور حیران کن طور پر اسپتال انتظامیہ کو “کچھ خبر ہی نہیں”! یہ سنسنی خیز انکشاف اس وقت سامنے آیا جب میڈیا ٹیم نے دو دن سے جاری اس مکروہ کھیل کا پردہ فاش کرتے ہوئے گلاب نامی ایک نوجوان کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا جو دواؤں کے پیکٹ آگ میں جھونک رہا تھا۔ پیکٹوں پر واضح درج تھا کہ دوائیں ابھی مکمل طور پر محفوظ اور مریضوں کے استعمال کے قابل ہیں۔
سوالوں کا طوفان کھڑا ہو گیا ہے، زندہ دوائیں جلانے کا حکم کس نے دیا؟ لاکھوں کی سرکاری ادویات اسپتال سے باہر کیسے نکلیں؟
کیا یہ سب کسی اندرونی ملی بھگت کے بغیر ممکن ہے؟
میڈیا کی اطلاع ملتے ہی اسپتال میں ہڑکمپ مچ گیا۔ اعلیٰ افسران دوڑتے ہوئے موقع پر پہنچے، نشے کی حالت میں پائے گئے نوجوان کو حراست میں لے کر پولیس کے حوالے کیا گیا، اور حسبِ روایت جانچ کا اعلان کر دیا گیا۔ مگر عوام پوچھ رہی ہے: کیا یہ جانچ بھی کاغذوں کی نذر ہو جائے گی؟
یہ معاملہ محض دواؤں کو جلانے تک محدود نہیں۔ عرصے سے الزام لگتے رہے ہیں کہ صدر اسپتال کا احاطہ غیر قانونی عناصر کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، جہاں سرکاری سامان کی غیر قانونی فروخت، ذخیرہ اندوزی اور کالابازاری کھلے عام ہوتی ہے۔ تازہ واقعے نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ کہیں یہ اسپتال منظم مافیا کا مضبوط اڈہ تو نہیں بن گیا؟
سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جن دواؤں سے غریب مریضوں کی جان بچ سکتی تھی، وہی دوائیں بے دردی سے جلائی گئیں۔ یہ صرف مالی گھوٹالہ نہیں بلکہ مریضوں کی زندگی سے کھلواڑ ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ واقعہ ہوا یا نہیں — اصل سوال یہ ہے کہ قصوروار کون ہے؟ کیا ذمہ دار افسران پر واقعی کارروائی ہوگی؟
یا پھر یہ سنگین گھوٹالہ بھی فائلوں کے اندھیرے میں دفن کر دیا جائے گا؟ سیتامڑھی کی عوام جواب مانگ رہی ہے — اور اس بار خاموشی خود جرم بن چکی ہے۔ ابھی کچھ ہفتے پہلے گاڑی پارکنگ کا معاملہ سامنے آنے کے بعد راتوں رات غیر قانونی پارکنگ کو ہٹایا گیا تھا ،

