بنگلہ دیش میں طلبہ کی قیادت والی تنظیم میں گہرا اندرونی اختلاف، جماعت سے اتحاد کے سوال پر استعفے

تاثیر 28 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

ڈھاکا، 28 دسمبر:بنگلہ دیش میں فروری میں ہونے والے انتخابات کے لیے پرچہ نامزدگی جمع کرنے کی ا?خری تاریخ سے ٹھیک ایک دن پہلے، طلبہ کی قیادت والی نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) میں بھاری اندرونی اختلاف ابھر کر سامنے ا?یا ہے۔ جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد اور سیٹوں کی تقسیم کی مخالفت میں تنظیم کے دو اہم رہنماوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ کئی دیگر ناراض رہنماوں کے تنظیم سے جلد ہی علیحدہ ہونے کے تذکرے ہیں۔ ان رہنماوں نے تنظیم کے کنوینر ناہید اسلام کو خط لکھ کر جماعت کے ساتھ اتحاد کو غداری اور نظریے کو کمزور کرنے جیسا قرار دیا ہے۔بنگلہ دیش کے اہم اخبار ڈیلی اسٹار کے مطابق طلبہ تحریک سے پیدا ہوئی طلبہ کی قیادت والی این سی پی کی سینئر جوائنٹ سکریٹری تسنیم زرا نے ہفتہ کو اپنے استعفے کا اعلان کیا۔ جبکہ جوائنٹ سکریٹری ارشد الحق نے جمعرات کو عہدہ چھوڑ دیا۔ رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی سے اتحاد کو لے کر ناراض کئی دیگر رہنما جلد استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ان ناراض رہنماوں نے تنظیم کے کنوینر ناہید اسلام کو خط لکھ کر جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کو زمینی سطح کے رہنماوں کے ساتھ غداری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی کے نظریے کو کمزور کرے گا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ، ’’ہماری بنیاد ہماری پارٹی کا اعلانیہ نظریہ، جولائی بغاوت سے جڑی تاریخی جوابدہی اور جمہوری اخلاقیات کے بنیادی سوال ہیں۔‘‘