دہلی اور یوپی ماحولیاتی بحران کے شکار

تاثیر 18 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

دہلی اور اترپردیش کے موجودہ ماحولیاتی حالات سنگین بحران کے دور سے گزر رہے ہیں۔دونوں ریاستوں میں زہریلی آلودگی اور شدید کوہرے نے عوامی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ دہلی میں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 415 تک پہنچ گیا ہے، جوشدید زمرے میں آتا ہے۔ آنند وہار، ویوک وہار اور اکشردھام جیسے علاقوں میں کل اے کیو آئی  416 سے زائد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ انڈیا گیٹ کے آس پاس 344 تھا۔ سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کی رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسموگ کی موٹی تہہ نے نظر کی حد کو کم کر دیا ہے، اور کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (سی اے کیو ایم) نے جی آر اے پی اسٹیج IV کے تحت سخت اقدامات کیے ہیں۔ اسی طرح، اترپردیش میں شدید کوہرے اور سردی کی لہر نے 20 اضلاع میں ریڈ الرٹ جاری کروا دیا ہے۔ لکھنؤ، بریلی، گورکھپور اور کانپور جیسے شہروں میں نظر کی حد صفر تک گر گئی، اور درجۂ حرارت میں 5 سے 10 ڈگری کی کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔ موسم محکمہ کی پیش گوئی کے مطابق، یہ صورتحال کل 20 دسمبر تک جاری رہے گی۔ یہ حالات نہ صرف صحت اور ٹریفک کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ تعلیم اور معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
دہلی کی زہریلی فضا میں سانس کی بیماریوں، دمہ اور دل کی تکالیف میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اے کیو آئی  506 کی سطح پر، جو خطرناک زمرے میں آتی ہے، بزرگ اور بچوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ڈاکٹروں کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ہسپتالوں میں سانس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اترپردیش میں کوہرے کی وجہ سے سردی کی شدت نے ٹھنڈک اور گلن کو بڑھا دیا، جس سے ہائپوتھرمیا اور جوڑوں کی تکالیف عام ہو گئی ہیں۔ موسم کی اس تبدیلی کی وجہ سے، لوگوں کو دن بھر الاؤ اور ہیٹر کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ یہ بحران خاص طور پر غریب اور مزدور طبقے کو متاثر کر رہا ہے، جو کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔
ٹریفک اور نقل و حمل کے شعبے پر یہ بحران سب سے زیادہ اثر انداز ہو رہا ہے۔ دہلی میں اسموگ اور کوہرے کی وجہ سے نظر کی حد کم ہونے سے فلائٹس اور ٹرینیں تاخیر کا شکار ہیں۔ انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے ایڈوائزری جاری کی ہے، جبکہ یمونا ایکسپریس وے پر حادثات کی وجہ سے  سی ایم  یوگی آدتیہ ناتھ نے افسروں کو فیلڈ میں الرٹ رہنے کے احکامات دیے ہیں۔ پٹرولنگ بڑھانے، ایمبولینس اور کرین کی دستیابی یقینی بنانے اور ٹریفک مینجمنٹ کو بہتر کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ اترپردیش میں بھی، کوہرے کی وجہ سے روڈ حادثات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور ٹریول گائیڈ لائنز جاری کی گئی ہیں جیسے فوگ لائٹس کا استعمال اور سپیڈ کم رکھنا۔ یہ اقدامات ضروری ہیں، لیکن ان کی افادیت اس وقت تک محدود رہے گی جب تک بنیادی وجوہات کو حل نہ کیا جائے۔
تعلیم پر اثرات بھی ناقابل انکار ہیں۔ اترپردیش کے کئی اضلاع میں اسکولوں کے اوقات تبدیل کیے گئے یا چھٹیاں دی گئی ہیں۔ لکھنؤ میں کلاس 1 سے 12 تک سکول 9 بجے کے بعد شروع ہوں گے، جبکہ بریلی میں 20 دسمبر تک کلاس 1 سے 8 تک کے سکول بند کر دیے گئے ہیں۔ سلطانپور، رائے بریلی اور امبیڈکر نگر جیسے اضلاع میں بھی ٹائم شیڈول تبدیل کیا گیاہے۔ یہ اقدامات بچوں کی صحت کی حفاظت کے لئے اچھے ہیں، لیکن طویل مدتی طور پر تعلیم کا حرج ہو سکتا ہے، خاص طور پر غریب بچوں کے لئے جو آن لائن کلاسز تک رسائی نہیں رکھتے۔ دہلی میں بھی، آلودگی کی وجہ سے آؤٹ ڈور سرگرمیاں محدود ہو گئی ہیں، جو بچوں کی جسمانی نشوونما کو متاثر کر رہی ہیں۔
ان حالات کی بنیادی وجوہات پر نظر ڈالیں تو، دہلی کی آلودگی کی ذمہ دار صنعتی اخراج، گاڑیوں کی دھواں اور ہمسایہ ریاستوں میں فصلیں جلانا ہے۔ موسم کی تبدیلی نے اسے مزید شدید بنا دیا ہے، جہاں سردی میں آلودگی کی تہہ نیچے بیٹھ جاتی ہے۔ اترپردیش میں، مغربی اور وسطی بھارت میں اینٹی سائیکلون اور بالائی ہواؤں کا اثر کوہرے کو بڑھا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ بحران گلوبل وارمنگ کا نتیجہ ہے، جو بھارت جیسے ملکوں کو شدید متاثر کر رہا ہے۔
حل کی بات کریں توجی آر اے پی۔ IV   جیسے اقدامات اچھے ہیں، جن میں کنسٹرکشن پر پابندی اور گاڑیوں کی حد بندی شامل ہے۔ لیکن انہیں مستقل بنانا ہوگا۔ حکومت کو گرین ٹرانسپورٹ، الیکٹرک گاڑیاں اور جنگلات کی حفاظت پر سرمایہ کاری بڑھانی چاہیے۔ اترپردیش میں، رین بسیروں، ہیٹر اور کھانے کی فراہمی جیسے اقدامات اچھے ہیں، لیکن عوامی بیداری مہمات بھی ضروری ہیں۔ جانکاروں کا کہنا ہے کہ یہ بحران نہ صرف ماحولیاتی بلکہ سماجی اور معاشی بھی ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہیں کیے گئے تو یہ تسلسل مزید سنگین ہو جائے گا۔ حکومت، عوام اور سائنسدانوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بھارت کی فضا صاف اور محفوظ بن سکے۔اگر بر وقت ایسا نہیں کیا گیا تو صحت اور ترقی دونوں خطرے میں پڑ جائیں گی۔
***************