تاثیر 3 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے 12 وارڈوں پر ہو ئے ضمنی انتخابات کے نتائج آچکے ہیں۔یہ نتائج مقامی سیاست کا آئینہ بھی ہیں اور آئندہ شہری سیاست کی سمت کا اشارہ بھی۔متعلقہ12 وارڈوں میں سے سات نشستوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نمایاں جیت، تین وارڈوں میں عام آدمی پارٹی کی موجودگی اور ایک نشست پر کانگریس کی واپسی ہوئی ہے۔ سب سے بڑھ کر چاندنی محل سے آل انڈیا فارورڈ بلاک (اے آئی ایف بی) کی غیر متوقع کامیابی نے سب کو چونکا دیا ہے۔ یہ نتائج دہلی کے رائے دہندگان کی ترجیحات، ان کی ناراضگیوں اور زمینی حقائق کو بڑی واضح تصویرپیش کرتے ہیں۔
سب سے پہلے قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان ضمنی انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب محض 40 فیصد رہا ہے۔ یہ شرح 2022 کے ایم سی ڈی انتخابات (50.47 فیصد) سے نمایاں طور پر کم ہے۔اس کمی کو ، انتخابات سے شہریوں کی بے زاری، سرد موسم اور سیاسی حدت میں کمی کا مجموعی اظہار کہا جا سکتا ہے۔ تاہم کم ٹرن آؤٹ کے باوجود بی جے پی کی مضبوط موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ، کارکنوں کی متحرک مہم اور مقامی سطح پر رسائی اب بھی بہت مؤثر ہے۔ خاص طور پر شالی مار باغ، چاندنی چوک، دھینچاؤں کلاں، اشوک وہار، دوارکا ، اور گریٹر کیلاش جیسے متنوع حلقوں میں بی جے پی نے ووٹروں کو کامیابی سے متحرک کیا ہے۔
بی جے پی کی یہ جیت اس لئے بھی اہم مانی جا رہی ہے کہ کئی وارڈوں پر مقابلہ براہ راست عام آدمی پارٹی سے تھا، جو گزشتہ دہائی میں دہلی کی شہری سیاست کا اہم ستون رہی ہے۔عام آدمی پارٹی نے تین نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے اپنی موجودگی ضرور برقرار رکھی ہے، مگر مجموعی تناظر میں اس کا مظاہرہ درمیانی سطح کا رہا ہے۔ یہ نتائج اس بیانیے کو تقویت دیتے ہیں کہ دہلی میں شہری سطح پر بی جے پی کی گرفت مضبوط ہوتی جا رہی ہے، جبکہ عام آدمی پارٹی کو مقامی مسائل، صفائی، بدانتظامی اور کونسلرز کی کارکردگی جیسے شعبوں میں عوامی سوالات کا سامنا ہے۔
سب سے بڑا سیاسی سرپرائز چاندنی محل وارڈ میں آل انڈیا فارورڈ بلاک کے امیدوار محمد عمران کی شاندار جیت ہے۔ یہ نہ صرف دہلی کی سیاست میں اے آئی ایف بی کی پہلی بڑی کامیابی ہے بلکہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ مقامی سطح پر شخصیت، کارکردگی اور علاقائی مسائل کو لے کر چلنے والے امیدوار بڑی سیاسی جماعتوں کو بھی مات دے سکتے ہیں۔ اے آئی ایف بی اگرچہ ایک قدیم جماعت ہے، جس کی بنیاد 1939 میں نیتا جی سبھاش چندر بوس نے رکھی تھی، مگر دہلی میں اس کی موجودگی تقریباً نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ اس کے باوجود ہزاروں ووٹوں سے اسے کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ یہ جیت اس علاقے میں عوامی ناراضگی، نئے چہروں کی تلاش اور مقامی متبادلات کی خواہش کی جانب واضح اشارہ کرتی ہے۔کانگریس کی جانب سے سنگم وہار اے میں ایک نشست پر جیت کو جزوی بحالی کا عندیہ تو سمجھا جا سکتا ہے، مگر مجموعی طور پر پارٹی کی کارکردگی محدود رہی ہے۔ البتہ اس کامیابی نے یہ ضرور ثابت کیا کہ دہلی کے چند حصوں میں کانگریس کا ووٹ بینک اب بھی موجود ہے اور مناسب حکمت عملی کے ساتھ اسے دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھیں تو یہ ضمنی انتخابات دہلی کی شہری سیاست میں ایک اہم پیغام چھوڑ کر گئے ہیں۔اور وہ ہے، عوام بڑی جماعتوں کی کارکردگی کو سخت نظر سے پرکھ رہے ہیں، اور ہر انتخاب ایک موقع ہے کہ مقامی مسائل کے حل کے بارے میں حقیقی جواب دہی سامنے آئے۔ بی جے پی کی مضبوط واپسی،عام آدمی پارٹی کی محدود برتری، کانگریس کا جزوی احیا اور اے آئی ایف کی دھمک، یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ دہلی کے ووٹر اب زیادہ باشعور، متحرک اور انتخابی عوامل کو بدلنے کی صلاحیت والے ہو چکے ہیں۔
دہلی کے میونسپل ڈھانچے میں یہ نتائج مستقبل کے نئے تانے بانے کا ایک اہم پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ بی جے پی کی جیت اُس کے لئے حوصلہ افزا ہے، جبکہ عام آدمی پارٹی کے لئے یہ ایک وارننگ ہے کہ وہ اپنی کارکردگی اور زمین پر موجودگی پر بھرپور توجہ دے۔ شہری حکومت کے لئے بھی یہ نتائج ایک اشارہ ہیں کہ صفائی، انفراسٹرکچر، صحت و حفظان صحت اور مقامی ضروریات کو ترجیحی بنیاد پر حل کیا جائے، کیونکہ دہلی کا ووٹر اب صرف وعدوں پر نہیں بلکہ عملی نتائج پر فیصلہ سناتا ہے۔بہر حال یہ ضمنی انتخابات اگرچہ چھوٹے دائرے میں منعقدہوئے ہیں، مگر اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے دہلی کے مستقبل کی سیاست اور شہری انتظامیہ کے کردار پر بڑے سوالات بھی چھوڑے ہیں۔مانا جا رہا ہے کہ یہ سوالات کافی دنوں تک سیاسی جماعتوں کا تعاقب کرتے رہیں گے۔

