دہلی کی دوہری مصیبت

تاثیر 28 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

دہلی، جو بھارت کی راجدھانی ہونے کے ناطے ملک کا دل کہلاتی ہے، آج شدید ماحولیاتی بحران کی زد میں ہے۔ ایک طرف ہوائی آلودگی نے شہر کو سانس لینے کے لائق نہیں چھوڑا ہے، تو دوسری طرف زیر زمین پانی کی آلودگی نے پینے کے پانی کو زہریلا بنا دیا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق جہاں دہلی کی ہوائی آلودگی کو کم کرنے کے لئے 8 سے 10 لاکھ کروڑ روپے کا بجٹ درکار ہے،  وہیںسینٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ (سی جی ڈبلیو بی) کی رپورٹ سے دہلی کے زیر زمین پانی میں فلورائیڈ، نائیٹریٹ اور دیگر آلودگیوں کی زیادتی کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ حالات نہ صرف صحت عامہ بلکہ شہر کی اقتصادی اور سماجی ساخت کے لئے بھی تشویشناک ہیں۔
ہوائی آلودگی کا بحران دہلی کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن ایک تازہ رپورٹ کے مطابق اب یہ ایک ناقابل برداشت سطح تک پہنچ چکا ہے۔ دہلی حکومت نے بھی تسلیم کیا ہے کہ یہ مسئلہ جلد حل ہونے والا نہیں ہے۔ آلودگی کے خاتمے کے لئے ایک جامع پلان کی ضرورت ہے، جس میں سڑکوں کی دوبارہ تعمیر، دھول روکنے کےلئے ان کی مکمل پختہ کاری ، الیکٹرک وھیکلز کا وسیع انفراسٹرکچر تیار کرنا اور عوامی ٹرانسپورٹ کو الیکٹرک موڈ میں کنورٹ کرنا شامل ہے۔ 2020 میں سپریم کورٹ کی ہدایات پر قائم کیے گئے کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (سی اے کیو ایم) دہلی، اترپردیش، راجستھان اور ہریانہ میں آلودگی کنٹرول کی نگرانی کرتا ہے۔ تاہم ،یہ بھی حقیقت ہے اس بحران پر قابو پانے کے لئے تربیت یافتہ عملہ کی کمی ہے۔ ساتھ ہی یہ ادارہ ناکافی اختیارات اور نفاذ کے کمزور میکانزم کا شکار ہے۔اس طرح آلودگی کا یہ مسئلہ موسمی نہیں بلکہ سال بھر کا ہے، اور اس کے لئے مستقل اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
دوسری طرف، زیر زمین پانی کی آلودگی سے متعلق رپورٹ اور بھی تشویشناک ہے۔ سی جی ڈبلیو بی نے نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کے مطابق دہلی کے بہت سے علاقوں میں فلورائیڈ، کلورائیڈ، نائیٹریٹ اور آئرن کی سطح معیاری حد سے زیادہ ہے۔ 2023 کےمانسون سیزن میں لیے گئے 103 سیمپلز میں سے 16.50 فیصد میں فلورائیڈ کی مقدار 0.28 سے 3.70 ملی گرام فی لیٹر تک پائی گئی ہے، جبکہ معیار 1 ملی گرام فی لیٹر ہے۔ نئی دہلی، شمالی دہلی، شمال مغربی دہلی، جنوبی دہلی، سہادرہ اور جنوب مغربی دہلی جیسے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ بارش کے اثرات جانچنے کے لئے مان سون سے پہلے اور بعد میں لیےگئے 24 سیمپلز  میں فلورائیڈ کی سطح بالترتیب 37.50 اور 37.66 فیصد زیادہ تھی۔ اسی طرح، نائیٹریٹ کی سطح 20.39 فیصد سیمپلز میں 45 ملی گرام فی لیٹر سے زیادہ پائی گئی، جو صحت کے لئے بے حدخطرناک ہے۔ زیادہ سے زیادہ نائیٹریٹ 294 ملی گرام فی لیٹر تک ریکارڈ ہوا ہے۔ بارش سے پہلے یہ شرح 16.67 فیصد اور بعد میں 25 فیصد تھی۔ رپورٹ میں راجستھان، ہریانہ اور کرناٹک کو فلورائیڈ آلودگی میں سب سے آگے بتایا گیاہے ،جبکہ دہلی چوتھے نمبر پر ہے۔ یہ آلودگی دانتوں کی خرابی، ہڈیوں کی کمزوری، گردوں کے مسائل اور کینسر جیسی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔
یہ دوہری مصیبت دہلی کی تیزی سے بڑھتی آبادی، بے قابو شہری کاری ، صنعتی فضلہ اور زرعی کیمیکلز کی وجہ سے ہے۔ ہوائی آلودگی میں وھیکلز کا اخراج، تعمیراتی دھول اور فصلوں کی باقیات جلانا مرکزی اسباب ہیں، جبکہ پانی کی آلودگی کے غیر قانونی اخراج، کیمیکلز کا استعمال اور ناکافی صفائی سسٹم سے پیدا ہوئی ہے۔ ہوائی آلودگی سے پھیپھڑوں کی بیماریاں، دمہ اور دل کی تکالیف بڑھ رہی ہیں، جبکہ آلودہ پانی سے معدے کی بیماریاں اور دائمی امراض۔ اقتصادی طور پر، صحت کی دیکھ بھال پر خرچ بڑھ رہا ہے اور پیداواریت کم ہو رہی ہے۔ سماجی سطح پر، غریب اور پسماندہ طبقات سب سے زیادہ متاثر ہیں، جو صاف پانی اور ہوا تک رسائی نہیں رکھتے۔
اس بحران سے نپٹنے کے لئے فوری اقدامات ضروری ہیں۔ ہوائی آلودگی کے لئے سی اے کیو ایم کو مزید اختیارات اور وسائل دیے جانے چاہئیں،ساتھ ہی حسب منصوبہ الیکٹرک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دی جانی چاہئے۔ پانی کی آلودگی روکنے کے لئے زیر زمین پانی کی نگرانی بڑھائی جانی چاہئے،آلودہ علاقوں میں متبادل ذرائع پیدا کرنے اور صنعتی ضابطوں کو مزید سخت کیا جانا چاہئے۔اس سلسلے میں حکومت، نجی شعبہ اور عوام کی شراکت داری ناگزیر ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو مل کر اس سلسلے میں ایک جامع ماحولیاتی پالیسی مرتب کرنی چاہئے، جس میں عوامی بیداری مہمات بھی شامل ہوں۔ اس الارمنگ صورتحال کو ابھی نہیں سنبھالا گیا تو دہلی ایک غیر قابل رہائش شہر بن جائے گی۔ ابھی وقت ہے کہ ہم اپنے ماحول کی حفاظت کو قومی ترجیح بنائیں۔ بصورت دیگر یہ بحران پورے ملک کو اپنی زد میںلینے کے لئے تیار ہے۔