امن و انصاف کے بغیر ترقی ممکن نہیں

تاثیر 27 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہا ہے۔ویڈیو میں ایک اسرائیلی فوجی کو ویسٹ بینک میں سڑک پر نماز پڑھ رہے ایک فلسطینی شخص پر اپنی فور وھیلر (اے ٹی وی)چڑھاتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ 25 دسمبر، 2025 کو پیش آیا ہے۔ ویسٹ بینک کایہ علاقہ اسرائیل اورفلسطین تنازع کا مرکزی نقطہ ہے۔یہ وہی علاقہ ہے ، جہاںفلسطینیوں کےلئے معاشی مسائل، پانی کی قلت، گھروں کی مسماری اور نقل مکانی عام ہے۔یہاں تشدد کے واقعات اکثر و بیشتر پیش آتے رہتے ہیں۔نماز پڑھتے ہوئے شخص پر گاڑی چڑھانے کا واقعہ ، نہ صرف اسرائیل اورفلسطین تنازع کی شدت کی ایک تازہ مثال ہے بلکہ انسانی حقوق کی پامالی اور مذہبی آزادی کے احترام کے حوالے سے سنگین سوالات بھی کھڑا کرتاہے۔
ویڈیو میں واضح طور پریہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک فلسطینی شخص سڑک کنارے نماز ادا کر رہا ہے۔اس درمیان ایک اسرائیلی فوجی، جو سادہ کپڑوں میں ہے اور کندھے پر رائفل لٹکائے ہوئے ہے، جان بوجھ کر اس پر گاڑی چڑھادیتا ہے۔ فلسطینی شخص زمین پر گر جاتا ہے، اور فوجی اس پر چلّا تے ہوئے اشاروں سے اسے وہاں سے ہٹ جانے کا کہتا ہے۔ متاثرہ شخص کے والد، مجدی ابو موخو کے مطابق، ان کے بیٹے کے دونوں ٹانگوں میں درد ہے۔ فوجی نے مبینہ طور پر اس پر مرچوں کا سپرے بھی استعمال کیا تھا، حالانکہ ویڈیو میں یہ واضح نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق متاثرہ شخص کو ہسپتال لے جایا گیا، لیکن خوش قسمتی سے اسے کوئی شدید چوٹ نہیں آئی ہے۔ وہ اب گھر واپس آ گیا ہے۔اس افسوسناک واقعہ کے تعلق سے ایک اطمینان بخش بات یہ ہے کہ اسرائیلی فوج نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ساتھ  ہی اس کے خلاف فوری انضباطی کارروائی کرتے ہوئے اس کی خدمات ختم کر دی ہیں۔اس کے علاوہ اس کا ہتھیار ضبط کرکے اسے پانچ دن کے لئے گھر میں نظربند کر دیاگیا ہے۔ فوج نے اسے’’اختیارات کا سنگین غلط استعمال‘‘ قرار دیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ ردعمل ظاہری طور پر فوج کی جانب سے نظم و ضبط کی بحالی کی کوشش ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کارروائی کافی ہے؟ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اکتوبر 2025 تک ویسٹ بینک میں 1,000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئےہیں۔ ہلاک شدگان میں سے زیادہ تر اسرائیلی فوجی کارروائیوں یا آباد کاروں کے تشدد کا نتیجہ تھے۔ اس کے مقابلے میں، اسی عرصے میں 57 اسرائیلی فلسطینی حملوں میں ہلاک ہوئے۔ یہ عدم توازن ،تنازع کی شدت اور یکطرفہ تشدد کی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔
نماز کی حالت میں ایک شخص پر گاڑی چڑھانے کا واقعہ ویسٹ بینک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آباد کاروں کے تشدد کی ایک اور مثال ہے۔ اسرائیلی واچ ڈاگ گروپ ’’یش ڈین‘‘کے مطابق، پچھلے دو عشروں میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلیوں کے مذہبی یا سیاسی طور پر محرک جرائم کے 94 فیصد سے زائد کیسز بغیر کسی سزا کے بند کر دیے گئے۔ صرف 3 فیصد معاملوں میں سزا ہوئی ہے۔ اس طرح کے واقعات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف تشدد کو روکنے کے لئے سنجیدہ کوششیں نہیں کی جا رہی ہیں، جو انسانی حقوق کے کارکنوں کے لئے تشویش کا باعث ہے۔
دوسری جانب، اسرائیلی فوج کا فوری ردعمل اور فوجی کے خلاف کارروائی ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس سے بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اس واقعے سے یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ کیا اسرائیلی فوج کے اندر نظم و ضبط اور تربیت کے معیارات کافی ہیں؟  اس کے علاوہ ، اسی دن ایک فلسطینی نے شمالی اسرائیل میں گاڑی چلانے اور چاقو زنی کے حملے میں دو افراد کو ہلاک کیا تھا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تشدد کا یہ سلسلہ دونوں طرف سے جاری ہے۔اسلامی نقطہ نظر سے، یہ واقعہ مذہبی آزادی اور انسانی وقار کی پامالی کی ایک واضح مثال ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اور جو کوئی ظلم کرتا ہے، وہ اس کا بدلہ پائے گا‘‘ (سورہ النساء 4:123)۔ فلسطینیوں کو اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی آزادی ہونی چاہیے، اور اس طرح کے حملوں کی روک تھام کے لئے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔
اب ضروری یہ ہے کہ اس تنازع کے حل کے لئے دونوں فریق تشدد سے گریز کریں اور مکالمے کی طرف بڑھیں۔ اسرائیلی حکام کو چاہئے کہ وہ آباد کاروں کے تشدد پر سخت کنٹرول کریں اور فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔ عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ، کو اس تنازع کے منصفانہ حل کے لئے دباؤ ڈالنا چاہئے۔ فلسطینیوں کو بھی اپنے حقوق کے لئے پرامن اور قانونی جدوجہد جاری رکھنی چاہئے۔ یہ حقیقت ہم سب کے دل و دماغ میں رہنی چاہئے کہ امن اور انصاف کے بغیر دنیا کا کوئی بھی خطہ ترقی نہیں کر سکتا ہے۔