تاثیر 25 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
ممبئی، جو بھارت کی مالیاتی راجدھانی اور کثیر الثقافتی شہر ہے، ایک بار پھر انتخابی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے۔ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے۔انتخابات 15 جنوری، 2026 کو ہو نے والے ہیں۔ نتائج 16 جنوری کو سامنے آئیں گے۔ یہ انتخابات نہ صرف ممبئی کی انتظامیہ کا فیصلہ کریں گے بلکہ مہاراشٹرا کی سیاست کے مستقبل کی سمت بھی طے کرنے والے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ٹھاکرے خاندان کے اتحاد کا اعلان، مہایوتی کی حالیہ جیتوں اور کانگریس کے الگ لڑنے کے فیصلے نے سیاسی منظر نامے کو دلچسپ بنا دیا ہے۔
ٹھاکرے بھائیوں، اودھو ٹھاکرے (شیو سینا یو بی ٹی) اور راج ٹھاکرے (ایم این ایس) کا اتحاد قابل دید ہے۔ تقریباً دو دہائیوں کی دشمنی کے بعد، انہوں نے بی ایم سی انتخابات کے لئے اتحاد کا اعلان کیا ہے۔اس اتحاد کو مراٹھی اسمیتا اور ممبئی کی شناخت کی حفاظت کا نام دیا جا رہا ہے۔ 24 دسمبر کو اس اتحاد کی رسمی حکمت عملی کا اعلان کیا گیاتھا۔ اودھو ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ یہ اتحاداقتدار کی ہوس نہیں بلکہ مہاراشٹرا کے مفادات کا تحفظ ہے۔ راج ٹھاکرے اس اتحاد کو وقت کی ضرورت قرار دے رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ اتحاد مراٹھی ووٹرز کو اکٹھا کرنے کی کوشش ہے، جو ممبئی کی 26 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں۔ اس کے علاوہ، مسلم ووٹرز (11 فیصد) بھی اس اتحاد کی توجہ کا مرکز ہیں، جنہوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اودھو گروپ کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ممبئی کی 227 وارڈز میں سے 72 مراٹھی اکثریتی اور 41 مسلم اثر والے وارڈز پر ان کی نظریں ہیں۔
تاہم، تازہ ترین صورتحال سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اتحاد ابھی مکمل طور پر ہموار نہیں ہے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) اور ایم این ایس کے درمیان بھنڈپ اور وکھرولی جیسی کلیدی سیٹوں پر ڈیڈلاک پیدا ہو گیا ہے۔ظاہر ہے، سیٹ شیئرنگ کے معاملات میں یہ رکاوٹ اتحاد کی طاقت کو کمزور کر سکتی ہے۔ اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو مراٹھی ووٹس کی تقسیم کا خدشہ ہے، جو بالآخر مہایوتی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اس اتحاد کا مقصد بالاصاحب ٹھاکرے کی وراثت کو زندہ کرنا ہے، جو 1966 میں شیو سینا کی بنیاد مراٹھی حقوق کی حفاظت کے لئے رکھی گئی تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ اتحاد عملی طور پر کامیاب ہوگا یا صرف جذباتی اپیل تک محدود رہے گا؟
دوسری طرف، مہایوتی، جو بی جے پی، ایک ناتھ شندے کی شیو سینا اور اجیت پوار کی این سی پی پر مشتمل ہے، ترقی اور انفراسٹرکچر کے کارڈ کو کھیل رہی ہے۔ حالیہ میونسپل کونسل اور نگر پنچایت انتخابات میں مہایوتی کی شاندار جیت (بی جے پی نے 117 سیٹیں جیتیں) نے اس کی طاقت کو مزید مستحکم کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کا کہنا ہے کہ یہ جیت مثبت ترقیاتی ایجنڈے کی بدولت ہے، اور بی ایم سی میں بھی مہایوتی کا ہی میئر بنے گا۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ 2014 سے اب تک کوستل روڈ، ممبئی میٹرو اور دیگر پروجیکٹس نے شہر کو تبدیل کر دیا ہے۔ وہ غیر ماراٹھی ووٹرز، بالخصوص شمالی بھارتی اور گجراتی (30-35 فیصد) پر اپنی گرفت مضبوط سمجھتے ہیں۔ تاہم، وہ تسلیم کرتے ہیں
کہ مسلم ووٹس ان کے خلاف جا سکتے ہیں۔
بی جے پی کے لئے یہ انتخابات ایک خواب کی تعبیر ہیں، کیونکہ 1980 میں پارٹی کی بنیاد کے بعد سے ممبئی میں اس کا اپنا میئر نہیں بنا ہے۔ 2017 کے انتخابات میں بی جے پی نے 82 سیٹیں جیتی تھیں، جو شیو سینا سے صرف دو کم تھیں۔ اب شیو سینا کی تقسیم کے بعد، بی جے پی کو امید ہے کہ وہ 150 سے زیادہ سیٹیں حاصل کر کے تاریخ رقم کرے گی۔ شندے گروپ کے رہنما سنجے شرساٹ نے ٹھاکرے اتحاد کو’’ڈوبتی کشتی کا سہارا‘‘ قرار دیا، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مہایوتی اتحاد کی کمزوریوں کو بھانپ رہی ہے۔
اس منظر نامے میں کانگریس کا الگ لڑنے کا فیصلہ دلچسپ ہے۔ حالیہ ہاروں کے بعد، کانگریس اقلیتوں، دلتوں اور مائیگرنٹ ووٹرز کو اکٹھا کرنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہے، جو ایم این ایس کی ماضی کی پالیسیوں سے ناراض ہو سکتے ہیں۔ بہر حال اب مقابلہ ٹھاکرے بمقابلہ مہایوتی تک محدود نہیں بلکہ کانگریس بھی ایک تیسرے محاذ کے طور پر ابھر سکتی ہے۔ویسے یہ انتخابات ماراٹھی اسمیتا بمقابلہ ترقی کی لڑائی ہیں۔ ٹھاکرے اتحاد ممبئی کو مہاراشٹرا سے الگ کرنے کی مبینہ سازشوں کا ذکر کر کے جذباتی اپیل کر رہا ہے، جبکہ بی جے پی ٹھوس ترقیاتی کاموں پر زور دے رہی ہے۔ دونوں اطراف کے دعوے درست ہو سکتے ہیں، لیکن اصل سوال ممبئی کے شہریوں کے مسائل، ٹریفک، پانی، صفائی اور مہنگا ئی وغیرہ کا ہے۔ بی ایم سی، جو ملک کی امیر ترین کارپوریشن ہے، کو کرپشن سے پاک اور مؤثر انتظامیہ کی ضرورت ہے۔ظاہر ہے، یہ انتخابات ممبئی کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے ہیں۔ چنانچہ ووٹرز کو چاہئے کہ وہ جذباتی نعروں اور ٹھوس منصوبوں کے درمیان توازن قائم کریں۔ اگر ٹھاکرے اتحاد اپنے ڈیڈلاک کو حل کر لیتا ہے توٹھیک ہے، ورنہ مہایوتی کی راہ آسان ہو جائے گی۔ ممبئی جیسا شہر، جو ہر ایک کا ہے، کو سیاست کی بجائے خدمت کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ 15 جنوری کا نتیجہ شہر کی بہتری کا سبب بنے گا۔
*******

