تدریسیات برائے مستقبل کے موضوع پر توسیعی خطبہ

تاثیر 5 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

دربھنگہ(فضاامام):-مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، کالج آف ٹیچر ایجوکیشن دربھنگہ میں ’’ تدریسیات برائے مستقبل ‘‘ کے موضوع پر ایک اہم اور معلوماتی توسیعی لیکچر منعقد ہوا۔ اس خصوصی لیکچر کی مقرر پروفیسرایم   وناجا، ڈین، اسکول آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ، حیدرآباد  تھیں۔ اس موقع پر اکیسویں صدی کی بدلتی ہوئی تعلیمی ضرورتوں، تدریسی طریقوں میں جدت اور نئے تعلیمی رجحانات کو اپنانے کی اہمیت اُجاگر کی گئی۔ اپنے کلیدی خطاب میں پروفیسر وناجا نے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کو تعلیم میں ایک انقلاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے معلم کے لیے لازم ہے کہ وہ جدید ڈیجیٹل وسائل اور سمارٹ ذرائع سے بخوبی واقف ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئی ٹیکنالوجی نصاب سازی، تدریسی انداز، طلبہ کی جانچ اور تعلیمی شمولیت کے ساتھ ساتھ پورے تعلیمی نظام کو نئے خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔  اس تقریر کو سننے کے لیے پی۔ایچ۔ڈی اسکالرز، بی۔ایڈ و ایم۔ایڈ کےزیر  تربیت طلبہ، بی۔اے اور قانون کے طلبہ کے علاوہ اساتذہ کی بڑی تعداد موجود تھی، جس سے یہ علمی نشست مزید مؤثر اور بامعنی بن گئی۔مہمانِ خصوصی کا استقبال پروفیسر محمد ٖفیض احمد ، پرنسپل  نے  گلدستہ نما پودے، روایتی شال اور دربھنگہ کی ثقافتی پہچان ’متھلا پاگ‘ کے ذریعے نہایت شاندار انداز میں کیا   جس نے مقامی تہذیبی ورثے کی خوبصورت عکاسی کی۔ استقبالیہ کلمات ڈاکٹر بیگ منتجیب علی نے پیش کیے۔پروگرام کی نظامت ڈاکٹر محمد افروز عالم نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی، جبکہ نشست کی صدارت پروفیسر ایڈم پال پٹیٹی نے کی۔ انہوں نے مستقبل کی تدریسی اصلاحات اور جدید اختراعات کو اساتذہ تربیت کا لازمی حصہ بنانے کی کوششوں کو سراہا۔ ڈاکٹر محمد کلیم اللہ کے اظہارِ تشکر  کے بعد قومی ترانہ پر علمی تقریب اختتام پذیر ہوا۔