ناری شکتی سے وِکاس تک: اب پوری توجہ خواتین کی قیادت پر مرکوز ہونی چاہیے

 

از قلم:لکشمی پوری

صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانا ہمارے روشن حال اور تابناک مستقبل کے لیے ایک منظم تصورہے ۔  اس تیز رفتار دور میں، ہم صنفی برابری کے حصول کے لئے اگلی ایک صدی کا مزید انتظار نہیں کرسکتے۔  ناری شکتی (خواتین کی طاقت) اور خواتین کا دیوی  کے طور پر تصور دنیا کے لیے ہندوستان کا تہذیبی تحفہ ہے ، جس کے لئے اب ہمیں علامتی عزت و احترام سے آگے بڑھ کر انہیں عملی طور پر بااختیار بنانا ہوگا اور خواتین کے احترام کی اپنی وراثت کو خواتین کی قیادت میں پائیدار ترقی  کی راہ میں تبدیل کرنا ہوگا۔

جب آدھی آبادی کی آزادی اور زندگی کے امکانات توسیع پاتے ہیں تو معاشرے کا تانا- بانا از سر نو تشکیل پاتا ہے۔  صنفی مساوات اپنے آپ میں ایک مثالی خیال ہے اور سماجی ، اقتصادی ، سیاسی ، تکنیکی اور ماحولیاتی ترقی کو کئی گنا بڑھانے والی ایک طاقتور قوت بھی ہے ۔  2015 میک کینسی گلوبل انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ ، نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے 2024 کا تجزیہ  اور ای وائی کا India@100کامطالعہ ، مل کر ایک زبردست معاشی تصویر پیش کرتے ہیں:  صنفی نابرابری کو ختم کرنے سے جی ڈی پی میں 20 سے 30 فیصد کا اضافہ ہوسکتا ہے اور 2047 تک ہندوستان کو 28 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے لیے یہ ناگزیر ہے ۔

ہماری نوجوان آبادی اسی وقت حقیقی ثمرات دے گی جب یہ خواتین کے ثمرات میں تبدیل ہو۔ شرحِ پیدائش کم ہو رہی ہے اور لڑکیوں اورجواں سال خواتین کی تمنائیں بڑھ رہی ہیں؛ ہندوستان میں اب اعلیٰ تعلیم میں تقریباً برابری حاصل ہو چکی ہے اور تقریباً 43 فیصد ایس ٹی ای ایم طلبہ میں خواتین کی حصہ داری ہے ۔ کئی برسوں تک خواتین کے کام کو غیر رسمی اور نہ نظر آنے والا تصور کیا جانے لگا تھا، تاہم اب خواتین کی افرادی قوت کی شراکت داری میں  دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے اور ضروری ہے کہ یہ اضافہ بہتر معیار، رسمی نوعیت اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ملازمتوں میں تبدیل ہو۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی ایک نمایاں خصوصیت ایسی نشان زد ترجیحی اسکیمیں رہی ہیں جن کی بنیادی طور پر خواتین لابھارتھی (مستفید ہونے والی) ہیں اور انہیں ایسے بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے پروگراموں میں شامل کیا گیا ہے جو صنفی طور پر حساس ہیں۔ اسکالرشپس، ہاسٹلز اور ان کے لئے مختص سیٹوں نے اعلیٰ اور تکنیکی تعلیم میں خواتین کی موجودگی کو مضبوط کیا ہے اور تعلیم، صحت، ماحول کے لئے سازگار اور نگہداشت پر مبنی معیشتوں میں داخلے کی راہیں ہموار کی ہیں۔ ڈیجیٹل مشنز اور دیہی پروگراموں نے لاکھوں-کروڑوں خواتین کو تربیت دی ہے اور ان کے ہاتھوں تک کفایتی ڈیٹا اور جن دھن اکاؤنٹس  کے ساتھ اسمارٹ فون کی پہنچ کو ممکن بنایا ہے، جس سے انہیں معلومات، بازاروں اور خدمات تک براہ راست رسائی حاصل ہوئی ہے۔

پردھان منتری اجولا یوجنا ، پی ایم مدرا ، سوچھ بھارت اور پی ایم آواس جیسی ترجیحی اسکیموں نے ماحول کے لئے سازگار توانائی ، قرض تک رسائی ، صفائی -ستھرائی اور محفوظ رہائش کو کروڑوں خواتین کے نام وقف کیا ہے  ، جبکہ سُکنیہ سمردھی اور لکھپتی دیدی جیسی اسکیموں نے ان کے بینک کھاتوں میں براہ راست فائدے کی منتقلی اور بڑھتی ہوئی آمدنی کو ممکن بنایا ہے ۔  اگلے مرحلے میں انہیں فیصلہ کن طور پر لابھارتھی سے ادھیکارپتی کی طرف منتقل کرنا ہوگا، جس میں انہیں مراعات پانے والوں سے لے کر مکمل حقوق کی حامل اور معیشت و معاشرے میں فیصلہ ساز شخصیات کے طور پر فروغ دینا ہوگا۔ یہی 2030 تک صنفی مساوات سے متعلق ایس ڈی جی 5 کے حصول کی اصل روح ہے۔

ہندوستان میں تفریق کا مطلب یہ ہے کہ بہت سی خواتین کو غربت ، ذات پات ، قبیلہ ، مذہب ، معذوری یا مقام کے ذریعے نقصان کی متعدد سطحوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔  طلاق ثلاثہ کے خاتمے نے مسلم خواتین کے شادی میں حقوق کو مضبوط کیا ہے ۔  آدیواسی پس منظر سے تعلق رکھنے والی خاتون دروپدی مرمو کاصدر جمہوریہ ہند کے طور پر انتخاب اس بات کی علامت ہے کہ ایک پسماندہ خاتون جمہوریہ میں کس حد تک ترقی کر سکتی ہے ، جس سے صنفی اور سماجی انصاف کے لیےعزم گہرا ہوتا ہے ۔  ہمیں ایسے مستقبل کی تعمیر کرنی چاہئے جہاں توجہ ایسی ترقی پر ہو جو غیر معمولی ہونے کے بجائے منظم اور توسیعی ہو۔

تشدد سے آزادی ایک ایسا عنصر ہے جس پر صنفی مساوات رکھنے والے سماج میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ہر شکل کے تشدد کو ختم کرنا،خواہ وہ گھریلو زیادتی ہو، انسانی اسمگلنگ، کام کی جگہ پر ہراسانی یا آن لائن نفرت ہو،ہمیشہ ایجنڈے کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے، ساتھ ہی خواتین کی صحت اور جنسی و تولیدی حقوق میں مسلسل سرمایہ کاری بھی ضروری ہے جو خود مختاری اور وقار کی ضمانت دیں۔

سیاسی آواز اور قیادت ہر دوسرے حل کے اثرات کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے اور خواتین کے مستقبل کے اصولوں کو تشکیل کرنے کو تقویت دیتی ہے ۔ زمینی سطح پر ، پنچایتوں اور شہری بلدیاتی اداروں میں 33فیصد سے 50فیصد ریزرویشن نے 1.5 ملین خواتین لیڈروں کو جنم دیا ہے ۔  ناری شکتی وندن ادھینیم ، جس میں لوک سبھا اور تمام ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی سیٹیں مختص کی گئی ہیں ، قانون سازی اور حکمرانی میں حقیقی برابری کی طرف ایک تاریخی قدم ہے ۔  خواتین انتخابی نتائج کو نئی شکل دے رہی ہیں ، جیسا کہ حال ہی میں بہار میں دیکھا گیا ہے ، ہوشیار رائے دہندگان ان حکومتوں کو نواز رہے ہیں جو تحفظ ، نقل و حرکت ، تعلیم ، صحت اور ذریعۂ معاش فراہم کرتی ہیں ۔

ثقافت ایک معنوی ڈھانچہ ہے جس کے ذریعے معاشرے خود کو سمجھتے ہیں اور اپنے مستقبل کا تصور کرتے ہیں۔ صدیوں تک یہ پدرانہ نقطۂ نظر سے تعمیر کی گئی تھی، حتی کہ ان تہذیبوں میں بھی جو خواتین کو دیوی کی طرح پوجتی تھیں، آج میڈیا اور ادب سے لے کر سینما، موسیقی، کھیل اور ڈیجیٹل مواد تک کی تخلیقی صنعتوں میں خواتین اس اسکرپٹ کو نئے سرے سے لکھ رہی ہیں اور دیوی کے تصور پر دوبارہ اپنا دعویٰ پیش کررہی ہیں، تاکہ ان کے تئیں احترام مساوی حقوق،وقار میں مساوات اور گھر، معیشت اور عوامی دائرے میں مشترکہ ذمہ داری کے طور پر ظاہر ہو۔

تبدیلی کے اگلے مرحلے کی قیادت اب پارلیمنٹ کی طرح ہی دفاتر ، بورڈ رومز ، لیباریٹریز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے بھی ہونی چاہیے ۔  سرکاری محکموں اور سیاسی جماعتوں سے لے کر یونیورسٹیوں ، تحقیقی کونسلوں ، اسٹارٹ اپس اور بڑے کارپوریشنوں تک ہر ادارے کو اپنے ڈی این اے میں صنفی برابری پیدا کرنی چاہیے ۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ صنفی مساوات کی تعلیم سے لے کر ملازمتوں کی ویلیو چین تک ، جہاں لڑکیاں کلاس روم سے سائنس ، ٹیکنالوجی اور وسیع تر انڈسٹری 4.0 ماحولیاتی نظام میں مصنوعی ذہانت تک  اپنا کیریئر بنا رہی  ہیں۔  اس کا مطلب ہے کہ کارپوریٹ لیڈر اور چیف ایگزیکٹوز بھرتی ، برقرار رکھنے ، دوبارہ داخلے اور ترقی اور سینئر مینجمنٹ اور بورڈز میں بہت سی خواتین کے لیے برابری کا عہد کررہے ہیں ۔  اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ تحقیق اور اختراعی نظام اور ایک اسٹارٹ اپ کلچر بھی ہے جہاں خواتین بانی ، سائنسداں اور تخلیق کار مساوی شرائط پر کریڈٹ ، سرپرستی اور بازاروں تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں ۔

اپنی جی-20 صدارت کے دوران ، ہندوستان نے خواتین کی زیر قیادت ترقی کو ایجنڈے کے مرکز میں رکھا ، جس میں ڈیجیٹل صنفی فرق کو ختم کرنے ، خواتین کی افرادی قوت کی شراکت داری کو بڑھانے  اور خواتین کی صنعت کاری اور قیادت کو توسیع دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ۔بااختیار خواتین ہمارے دور میں بڑی تبدیلی لانے والی شخصیات ہیں۔ وہ نہ صرف خود تبدیل ہوتی ہیں بلکہ اپنے خاندان، معاشرے، ملک اور دنیا کو بھی بدلتی ہیں، جس سے آبادیاتی فائدے کے دروازے کھلتے ہیں اور خواتین و لڑکیاں آزادی، انتخاب اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل بنتی ہیں۔ اگر ہندوستان اس تحریک کو مضبوطی سے جاری رکھے اور اسے وسعت دے، تو 2047 تک ناری شکتی کی قیادت میں وِکست بھارت (ترقی یافتہ ہندوستان) کا سفر اس کے دوبارہ تہذیبی عروج کو تیز کر دے گا اور اسے ایک عالمی قائد کے طور پر تقویت دیے گا۔

مضمون نگار اقوام متحدہ کی سابق اسسٹنٹ سکریٹری جنرل اور صنفی مساوات اور خواتین کی قیادت میں ترقی کی معروف عالمی کارکن ہیں۔یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں۔