ایندھن کی کمی نے غزہ میں اسپتال کو خدمات معطل کرنے پر مجبور کردیا

تاثیر 27 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

غزہ،27دسمبر:غزہ میں پچھلے اڑھائی ماہ سے جنگ بندی کے باوجود خوراک اور ادویات کے علاوہ ایندھن کی فراہمی بھی بلا روک ٹوک ممکن نہ ہونے کے باعث جمعہ کے روز غزہ میں کام کرنے والے ایک جنرل ہسپتال نے ایندھن نہ ملنے کی وجہ سے اپنی خدمات کو معطل کر دیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ ایندھن کی عدم موجودگی میں ہسپتال کو چلانا ناممکن ہو گیا ہے۔ اگرچہ اس ہسپتال کی بندش سے بھی ایک نیا انسانی بحران پیدا ہوگا۔
توقع کی جا رہی تھی کہ 10 اکتوبر سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد غزہ پر اسرائیلی بمباری رک جائے گی اور خوراک، ادویات ور ایندھن کی سپلائی کو بلا روک ٹوک اسرائیل اجازت دے دے گا۔ لیکن تقریباً اڑھائی ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک یہ امید پوری نہیں ہو سکی۔اسرائیلی فوج جب چاہتی ہے بمباری کرتی ہے اور انتہائی محدود مقدار میں غزہ آنے والی خوراک و امدادی سامان کو بھی روکنے کی پوزیشن میں ہے۔نصیرات ضلع میں قائم یہ ہسپتال تقریبا ساٹھ مریضوں کو ہمہ وقت علاج کی سہولت حاصل ہے جبکہ یومیہ اس ہسپتال سے ایک ہزار مریض اور زخمی علاج کے لیے رجوع کرتے ہیں۔