شمالی بنگال کے چار اضلاع میں بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے ہوٹل بند کئے گئے

تاثیر 29 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

سلی گوڑی (مغربی بنگال)، 29 دسمبر: شمالی بنگال کے سرحدی علاقوں میں اب بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف ناراضگی واضح ہو رہی ہے۔ سلی گوڑی، مالدہ اور کوچ بہار کے بعد اب جنوبی دیناج پور کے بلور گھاٹ میں ہوٹل مالکان نے بنگلہ دیشی شہریوں کو کمرے فراہم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ چاروں اضلاع میں ہوٹلوں کے باہر پوسٹرز اور فلیکس لگائے جا رہے ہیں، جس سے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ملک کی بے عزتی کرنے والوں کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں۔
ہوٹل والوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دباؤ میں نہیں بلکہ ملک کے احترام کے لیے کیا گیا۔ بلورگھاٹ کے کئی ہوٹلوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ بنگلہ دیشی شہریوں کو کمرے فراہم نہیں کریں گے۔ ہوٹل مالکان کا مؤقف ہے کہ کاروباری نقصان کے باوجود ملک کے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
اس فیصلے سے بنگلہ دیشی شہریوں کی مشکلات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ علاج اور دیگر ضروریات کے لیے ہندوستان آنے والے بہت سے لوگ سلی گوڑی اور مالدہ میں ہوٹلوں کی کمی کی وجہ سے ادھر ادھر بھٹکنے پر مجبور ہیں۔ گزشتہ تین دنوں میں 10 سے زیادہ بنگلہ دیشی شہری ہندوستان میں داخل ہوئے ہیں، لیکن سلی گوڑی میں ہوٹل تلاش کرنے میں ناکامی کے بعد، وہ کرائے کی رہائش یا دیگر عارضی رہائش کی تلاش میں ہیں۔ اس صورتحال نے سکیورٹی خدشات کو جنم دیا ہے۔