شوہر کی درندگی، معمولی جھگڑے نے لی خونی شکل

تاثیر 23 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

مظفرپور (نزہت جہاں)بہار کے ضلع مظفرپور کے منیاری تھانہ علاقے سے انسانیت کو شرما دینے والی ایک ہولناک واردات سامنے آئی ہے۔ معمولی تکرار نے ایسا خوفناک رخ اختیار کیا کہ ایک 60 سالہ شوہر نے اپنی ہی بیوی کا سر دبیہ سے کاٹ کر تن سے جدا کر دیا۔ لرزہ خیز بات یہ ہے کہ قاتل شوہر پوری رات بیوی کی لاش کے ساتھ اسی کمرے میں موجود رہا اور صبح ہوتے ہی فرار ہونے کی تیاری میں تھا، مگر گاؤں والوں نے اسے دبوچ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔اس سنسنی خیز واقعہ منیاری تھانہ علاقے کے امرکھ گاؤں میں پیر کی دیر رات پیش آیا۔ مقتولہ کی شناخت 50 سالہ سرجی دیوی کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ ملزم شوہر کا نام کپلیشور مہتو بتایا جا رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق پیر کو میاں بیوی کے درمیان کسی بات کو لے کر کہا سنی ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے شدید جھگڑے میں بدل گئی۔ غصے میں اندھے ہو کر کپلیشور مہتو نے گھر میں رکھا دبیہ اٹھایا اور بیوی کے سر پر زور دار وار کر دیا، جس سے وہ بے ہوش ہو گئی۔ جب کچھ دیر بعد جسم میں کوئی حرکت نہ دیکھی تو درندہ صفت شوہر نے دوبارہ دبیہ اٹھایا اور بیوی کی گردن پر وار کر کے سر کو تن سے الگ کر دیا۔ واقعے کے بعد قاتل نے نہ چیخ و پکار کی، نہ کسی کو اطلاع دی، بلکہ پوری رات خاموشی سے لاش کے ساتھ کمرے میں رہا۔ صبح ہونے پر اس نے خود گاؤں والوں کو واقعے کی خبر دی اور وہاں سے بھاگنے لگا، مگر شک کی بنیاد پر لوگوں نے تعاقب کر کے اسے پکڑ لیا۔ چب گاؤں والوں نے کمرے میں بیوی کی لاش دیکھی اور سر کو تن سے الگ پایا تو پورے علاقے میں کہرام مچ گیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی، لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ایس کے ایم سی ایچ بھیج دیا گیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق کپلیشور مہتو کے دو بچے ہیں، ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 27 سال قبل وہ گھر سے غائب ہو گیا تھا، جس کے بعد بیوی نے ہی بچوں کی پرورش کی۔ اس دوران بیٹی کی شادی بھی ہو گئی۔ بیٹا منیاری سرکاری اسپتال میں کام کرتا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال قبل کپلیشور مہتو شدید بیمار حالت میں گھر واپس لوٹا، جہاں بچوں نے اس کا علاج کرایا۔ تب سے وہ بیوی اور بیٹے کے ساتھ رہ رہا تھا۔ واردات کی رات بیٹا اسپتال میں ڈیوٹی پر تھا۔ اس معاملے پر ایس ڈی پی او مغربی-2 اے سی گیانی اور تھانہ انچارج جے پرکاش گپتا نے بتایا کہ فرانزک ٹیم موقع پر پہنچ کر جانچ کر رہی ہے۔ مقتولہ کے بیٹے کی درخواست کی بنیاد پر ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس واردات نے ایک بار پھر گھریلو جھگڑوں میں بڑھتی ہوئی درندگی اور سماجی بگاڑ پر سنگین سوال کھڑے کر رہی ہے۔