تاثیر 2 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
بھوپال، 2 دسمبر :۔ بھوپال گیس سانحہ کی 41 ویں برسی پر، برکت اللہ بھون (سینٹرل لائبریری)، بھوپال میں 3 دسمبر کو صبح ساڑھے 10 بجے، گیس راحت وزیر ڈاکٹر کنور وجے شاہ کی موجودگی میں ’’سرو دھرم پرارتھنا سبھا‘‘ (کل مذاہب دعائیہ تقریب) کا انعقاد کیا گیا ہے۔ جس میں بھوپال گیس سانحہ میں ہلاک ہونے والے گیس متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا اور مختلف مذہبی پیشواوں کے ذریعے مذہبی کتابوں کا پاٹھ کیا جائے گا۔ مذکورہ شانتی پاٹھ اور دعائیہ پروگرام صبح ساڑھے 11 بجے تک رہے گا۔قابل ذکر ہے کہ بھوپال گیس سانحہ ہندوستان کے مدھیہ پردیش کے بھوپال شہر میں 3-2 دسمبر 1984 کو پیش آیا ایک خوفناک صنعتی حادثہ ہے۔ یونین کاربائیڈ انڈیا لمیٹڈ کیڑے مار ادویات کی فیکٹری سے متھائل آئیسو سائنٹ (ایم آئی سی) گیس کا رساو? ہوا، جس سے فوراً 2,159 لوگوں کی موت ہوگئی۔ موثر طور پر 2 ہفتوں میں تقریباً 8,000 لوگ مر گئے اور دیگر 8,000 گیس سے متعلق بیماریوں سے ہلاک ہوگئے۔ گیس اخراج تقریباً 60-45 منٹ میں 30 ٹن کے قریب ہوا تھا۔ یہ حادثہ تاریخ کے سب سے بڑے صنعتی المیوں میں مانا جاتا ہے، جس میں تقریباً 5 لاکھ لوگ متاثر ہوئے۔ اس سانحہ کی وجہ سے کئی لوگ جسمانی طور پر معذور ہو گئے اور اندھے پن جیسے امراض سے بھی متاثر ہوئے ہیں۔

