ازقلم:سشیل کمار لوہانی اور رنجن گھوش
گرام پنچایتوں (جی پی) کو 73ویں آئینی ترمیم ایکٹ 1992 کے تحت زمینی سطح پر خود مختار طرز حکمرانی کا ایک نیا دور شروع کرنے کے مقصد سے اختیارات تفویض کئے گئے۔ انہیں مالی طور پر بااختیار، سیاسی طور پر جواب دہ اور اختراعی ہونا تھا۔ اگرچہ اس کے بعد سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اس مقصد کا حصول اب بھی آدھا-ادھورا ہے۔ آرٹیکل 243 ایچ کے تحت اپنا محصول بڑھانے کے آئینی اختیارات کے باوجود ، زیادہ ترگرام پنچایتیں( جی پی) مالی طور پر ریاست اور مرکزکے ذریعہ منتقل کی جانے والی رقم پر منحصر رہتی ہیں ۔ وزارت پنچایتی راج (ایم او پی آر) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک فائنانس اینڈ پالیسی (این آئی پی ایف پی) کے 2025 کے ایک مطالعے کے مطابق پنچایت کی مجموعی مالیات میں اپنا ذریعہ آمدنی (او ایس آر) کا حصہ قومی سطح پر صرف 6 سے 7 فیصد تک ہے۔ باقی 94 – 93 فیصد رقم معاونت کی صورت میں موصول ہوتی ہے۔یہ انحصار مقامی سطح پر اختراعی اقدامات کو کمزور کرتا ہے۔ یہ خود مختار مقامی حکومتوں کے بجائے زیادہ تر سرکاری اسکیموں کے نفاذ تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس صورتحال کو،نہ صرف ٹیکس قوانین میں تبدیلی کے ذریعے بلکہ پنچایتوں کے اندر ایک کاروباری اور اختراعی ذہنیت کو فروغ دے کر تبدیل کیا جائے۔
یہ اہم اس لیے ہے کہ مالی وسائل پرقابو پائے بغیر جی پی مقامی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی یا ترجیحات کا تعین نہیں کر سکتیں۔ این آئی پی ایف پی کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں جائیداد ٹیکس، صارف فیس یا کمیونٹی اثاثوں کے ذریعے معاشی صلاحیت موجود بھی ہو، وہاں بھی اختراع، ڈیجیٹل نظام اور سیاسی عزم کی کمی ،کارکردگی کو محدود کر دیتی ہے۔کیرالا، کرناٹک اور گوا جیسی ریاستوں میں فی کس او ایس آر (بالترتیب 286روپے، 148 روپےاور 1,635روپے)سےزیادہ ہے۔ ان ریاستوں میں ٹیکس کی ڈیجیٹل وصولی اور عوامی شمولیت بھی زیادہ ہے۔ اس کے برعکس جھارکھنڈ، بہار اور ہماچل پردیش میں اپنا ذریعہ آمدنی تقریباً نہ کے برابر ہے۔صنعت کاری،جیسا کہ جوزف شمپیٹر نے بیان کیا ہے، تخلیقی تبدیلی کا عمل ہے۔ پنچایتوں کے لیے اس کا مطلب محض وصولی کے غیر فعال طریقے سے نکل کر فعال تخلیق کی طرف بڑھنا ہوگا۔ انہیں خود کو ازسرنو دریافت کرنا ہوگا اور مقامی اثاثوں کو آمدنی کا ذریعہ بنانے، خدمات کو مؤثر انداز میں فراہم کرنے اور حاصل شدہ آمدنی کو ترقی میں دوبارہ لگانے کے طریقے تلاش کرنے ہوں گے۔
آئی آئی ایم احمد آباد (آئی آئی ایم اے) کی بہترین کاروباری طریقوں کی دستاویز سازی میں او ایس آر کے ساتھ حالیہ وابستگی نے اس سمت میں کئی مثبت پیش رفت کا انکشاف کیا ۔ مثال کے طور پر ، گجرات کے دھرمج میں ، جی پی 5 کروڑ روپے کےسالانہ بجٹ کے ساتھ کام کرتی ہے جس کا نصف حصہ مقامی طور پر پیدا ہونے والی آمدنی سے آتا ہے ۔ غیر کاشت شدہ زمین کو کثیر مقصدی پارک میں تبدیل کرکے ، جائیداد اور پانی کے ٹیکس کو ڈیجیٹل طور پر جمع کرکے اور اپنے تارکین وطن سے تعاون حاصل کرکے ، گاؤں نے 2.5 کروڑ روپے سے زیادہ کے ذخائر قائم کر لئے ہیں۔ اتراکھنڈ میں سیراسوگرام پنچایت ہر سال 15 سے 20 لاکھ روپے اپنی دلکش مقامات پر شادی سے قبل فوٹو شوٹس کے لیے برائے نام فیس وصول کر کے کماتی ہے۔ اس آمدنی سے وہاں سولر لائٹس اور سڑکوں کی تعمیر کی گئی ہے۔اسی طرح،اڈیشہ میں مکندپور پٹنہ گرام پنچایت کی آمدنی مندر کے کرایے ، بازار کے لیز اور جیو ٹیگ شدہ اثاثوں کے ذریعے 2006 میں 93,000 روپے سے بڑھ کر 2018 میں 36.78 لاکھ روپے ہو گئی۔یہ (اور کئی دیگر) گرام پنچایتیں ریاستی فنڈز کا انتظار کرنے کے بجائے خود کو مالی طور پر قابل عمل اداروں میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔
تاہم، یہ مثالیں بڑے پیمانے پر درکار تبدیلی لانے کے لیے ناکافی ہیں۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ زیادہ تر پنچایتیں کہاں پیچھے رہ جاتی ہیں؟ اس کی بڑی وجہ ووٹر کے ردعمل کے خوف کے پیش نظر ٹیکس عائد کرنے میں سیاسی ہچکچاہٹ سے منسوب کی جاتی ہے۔ بہت سے جی پی اب بھی دستی طور پر جائیداد کا جائزہ لیتی ہیں ، جس کی وجہ سے ناقص ریکارڈ اور کمزور نفاذ کے ساتھ اس کی قدر بہت کم رہ جاتی ہے ۔صارف فیسوں میں شاذ و نادر ہی اضافہ کیا جاتا ہے۔ بعض ریاستوں میں فیس کی حد کئی دہائیوں سے تبدیل نہیں ہوئی۔ اس کے نتیجے میں ایک تنگ اور جمود کا شکار ٹیکس کی بنیاد اور انحصار کی ایک جڑ پکڑتی ہوئی ثقافت وجود میں آ گئی ہے۔جیسے کہ این آئی پی ایف پی کی رپورٹ واضح کرتی ہے، قانونی طور پر مالی بااختیاری کا کوئی فائدہ نہیں جب تک عملی طور پر کام کرنے کی خود مختاری موجود نہ ہو۔
ٹیکنالوجی بتدریج اس صورتحال کو بدل رہی ہے، اگرچہ یہ عمل سست ہے۔ تمل ناڈو کا وی پی ٹیکس پورٹل جائیداد اور پیشہ ورانہ ٹیکس کی حقیقی وقت میں نگرانی کی سہولت فراہم کرتا ہے، جبکہ جھارکھنڈ میں پی او ایس پر مبنی ٹیکس وصولی کے طریقہ کار نے کارکردگی اور شفافیت میں اضافہ کیا ہے۔ ان نظاموں کو سوامتوا کی جائیداد کی نقشہ سازی کے عمل سے جوڑکر پنچایتوں کے محصولات کے دائرہ کار میں نمایاں طور پر اضافہ کیا جا سکتا ہے۔کچھ طرز عمل میں تبدیلی لانے والے اقدامات بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں، مثلاً بروقت ٹیکس ادا کرنے والوں کی عوامی سطح پر تحسین، یا (“آپ کے ٹیکس سےاس سڑک کی تعمیر ہوئی”) جیسی حوصلہ افزائی ،رضاکارانہ ادائیگی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ جب لوگ ٹیکس اور ٹھوس بہتری کے درمیان تعلق کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو مزاحمت کم ہوتی ہے اور “مالیاتی اعتماد” میں اضافہ ہوتا ہے۔
وزارت پنچایتی راج کی آئی آئی ایم احمد آباد کے اشتراک سے پنچایت کے عہدیداروں کے لیے خصوصی صلاحیت سازی کے پروگرام کی حالیہ پہل زمینی سطح پر او ایس آر کی بے پناہ صلاحیت کو حقیقت میں بدلنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ریاستوں کی معاونت کے لیے وزارت نے “سمرتھ” نامی ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی تیار کیا ہے، جو پنچایتوں کے لیے او ایس آر مینجمنٹ کو شروع سے آخر تک ڈیجیٹل طریقے سے انجام دینے میں سہولت فراہم کرتا ہے۔وزارت پنچایتی راج ریاستوں کو او ایس آر سے متعلق قوانین بنانے یا ان میں ترمیم کرنے کے لیے بھی ترغیب دے رہی ہے، تاکہ پنچایتوں کو مزید ترقی پسند اور بااختیار بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، ان پنچایتوں کی بھی رہنمائی کی جا رہی ہے جو زیادہ محصولات جمع کرتی ہیں یا وہ جو ترقیاتی مراکز کے قریب شہروں کے نواحی علاقوں میں واقع ہیں، تاکہ وہ تجارتی طور پر قابل عمل منصوبے تشکیل دے سکیں۔ہمیں امید ہے کہ ان مقامات پر صحیح کاروباری توانائی ایک ایسے مثالی اقتصادی سلسلے کو جنم دے سکتی ہے جس کے مثبت اثرات دور تک مرتب ہوں گے۔
اب اس بات کو تسلیم کرنے کاوقت آگیا ہے کہ اگرچہ ٹیکس کی شرحوں اور محصولات میں اضافے کو بہتر بنانا ضروری ہے، لیکن اصل تبدیلی صرف کاروباری طرز فکر ہی لا سکتی ہے۔ جیسا کہ آئی آئی ایم اے کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ گرام پنچایتیں جو بائیو گیس اور کھاد تیار کرنے والے پلانٹس، شمسی توانائی کی فروخت، کمیونٹی مارکیٹس اور ماحول دوست سیاحت جیسے مدور معیشت کے طور -طریقے استعمال کر رہی ہیں، مالی اعتبار سے زیادہ خود مختار ہیں اور مزید ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔ اس عمل کو تیز کرنے کے لیےپنچایتی راج کی وزارت او ایس آر میں اضافے سے منسلک کارکردگی پر مبنی مالی اعانت دینے کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، منتخب جی پی پر‘مالیاتی فیلوز’ کا تصور بھی آزمایا جا سکتا ہے جو مالیاتی منصوبہ بندی اور ڈیجیٹل انضمام کو سنبھال سکتا ہے ۔ 16 واں مالیاتی کمیشن صرف طریقہ کار پر عمل کرنے کے بجائے او ایس آر میں اضافہ کرنے والوں کو انعام دے کر پنچایتوں کی حوصلہ افزائی بھی کر سکتا ہے ۔
گرام سوراج کا دیرینہ خواب اس بات سے شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا کہ اوپر سے کتنی رقم آتی ہے ، بلکہ اس سے کہ اسے کس طرح مؤثر طریقے سے پیدا کیا جاتا ہے اورذرائع پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ پنچایتوں کو اکاؤنٹنٹس کی طرح کم اور کاروباری افراد کی طرح زیادہ سوچنے ، مواقع تلاش کرنے ، خطرات کا انتظام کرنے اور معاشرے میں فوائد کی دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہندوستان کی دیہی تبدیلی صرف نئی اسکیموں سے نہیں آئے گی-یہ تب آئے گی جب اس کی 2.5 لاکھ سے زیادہ گرام پنچایتیں خود کمائی کرنا سیکھیں گی اور جب مقامی حکمرانی ملک کا سب سے متحرک کاروباری ماحولیاتی نظام بن جائے گی ۔
(سشیل کمار لوہانی، ایک آئی اے ایس افسر ہیں اور فی الحال حکومت ہند کی وزارت پنچایتی راج میں ایڈیشنل سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ رنجن گھوش آئی آئی ایم اے میں فیکلٹی ممبر اور سینٹر فار مینجمنٹ ان ایگریکلچر کے چیئرمین ہیں۔)

