تاثیر 5 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
آج 6 دسمبرہے۔ آج کا دن بھارت کی تاریخ کے ان لمحات میں شمار ہوتا ہے، جنھوں نے ملک کے سماجی تانے بانے، سیاست اور مشترکہ تہذیب پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ 1992 میں بابری مسجد کا انہدام صرف ایک مقدس عمارت کا گرنا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسے عہد کا آغاز بھی ثابت ہوا، جس میں مذہبی شناخت، جذبات اور سیاسی مفادات کو عوامی فضا پر غیر معمولی اثر انداز ہونے کا موقع ملا۔ آج 33 برس بعد بھی یہ دن مختلف طبقات کے لئے مختلف معنی رکھتا ہے،مسلمان اسے ’’یومِ غم‘‘ کے طور پر یاد کرتے ہیں، جبکہ کچھ ہندو شدت پسند اسے ’’یومِ شجاعت‘‘ قرار دیتے ہیں۔ لیکن کیا بھارت جیسے کثیرالثقافتی، کثیرالمذاہب اور جمہوری ملک میں ایسی تقسیم کی گنجائش ہے؟ کیا 6 دسمبر ہمیشہ نفرت یا فتح کے بیانیوں میں قید رہے گا؟ یا یہ دن محبت، میل جول اور مستقبل کی تعمیر کے نئے راستے بھی دکھا سکتا ہے ؟
جب ملک کی سیاست میں رام جنم بھومی تحریک زور پکڑ رہی تھی، 6 دسمبر 1992 کو ہزاروں ا فراد نے تاریخی بابری مسجد کو منہدم کر دیا۔ اس کے بعد ملک کے کئی حصوں میں خونریز فسادات ہوئے، بے شمار خاندان تباہ ہوئے، اور باہمی اعتماد مجروح ہوا۔ اس پورے سانحے میں سیاسی جماعتیں، شدت پسند تنظیمیں اور بے قابو ہجوم سبھی کسی نہ کسی سطح پر شامل تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب عدالتوں سے لے کر پارلیمنٹ تک، اور گلی کوچوں سے لے کر عالمی سطح تک، بھارت کی سیکولر شناخت اور سماجی ہم آہنگی پر سوال اٹھے۔سپریم کورٹ نے اس تنازعے کا قانونی تصفیہ ضرور کر دیا، آخر کار رام مندر کی تعمیر کی اجازت بھی دے دی اور مسلمانوں کے لئے متبادل زمین بھی فراہم کرنے کا حکم صادر کیا، لیکن عدالتی فیصلہ سماجی تقسیم کو ختم نہیں کر سکا۔ اس لئے کہ مسائل اکثر عدالتوں میں نہیں، دلوں میں حل ہوتے ہیں۔
آج صورتِ حال یہ ہے کہ تاریخ کے زخموں کو مندمل کرنے کے بجائے کچھ طاقتیں ایک بار پھر اسی آگ کو ہوا دینا چاہتی ہیں۔ وارنسی کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ کے حوالے سے بیانیہ تیز ہو چکا ہے۔ ماہر آثارِ قدیمہ کے کے محمد کے متنازعہ بیانات کو مخصوص میڈیا حلقے بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف مغربی بنگال میں ایک ایم ایل اے نے ’’بابری مسجد‘‘ کے نام سے نئی مسجد بنانے کا اعلان کر کے ماحول کو مزید پرآشوب بنا دیا ہے۔ یہ حرکت نہ مسلمانوں کی نمائندگی کرتی ہے، نہ انصاف کا ایسا تقاضہ ہے، نہ یہ امن کے حق میں ہے۔یہ صورتحال واضح طور پر فرقہ وارانہ فضا بگاڑنے کی ایک مذموم کوشش کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔اس کے ساتھ ساتھ، ’’پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991‘‘ جیسے اہم قانون کو چیلنج کرنے کے معاملے میں مرکزی حکومت کے مسلسل خاموش رہنے سے بھی شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔ متھرا کی شاہی عیدگاہ کمیٹی نے سپریم کورٹ میں یہ الزام دائر کیا ہے کہ مرکز جان بوجھ کر اپنا جواب داخل نہیں کر رہا تاکہ مقدمہ طول پکڑ سکے۔ اس طرح کی تاخیر سماجی اعتماد اور آئینی یقین دہانی دونوں کو کمزور کرتی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ملک کے عوام کو اسی چکر میں الجھایا جاتا رہے گا؟ بھارت کے عام شہری،چاہے ہندو ہوں یا مسلمان،نفرت نہیں چاہتے، لڑائی نہیں چاہتے، اور نہ ہی تاریخی تنازعات میں ہمیشہ جکڑے رہنا چاہتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ ملک محبت کی بنیاد پر بنا تھا اور اسی محبت پر ترقی کر سکتا ہے۔
یہی وہ پس منظر ہے، جس میں 6 دسمبر کو نئے معنی دینے کی ضرورت ہے۔ اس دن کو ’’یومِ غم‘‘ یا ’’یومِ شجاعت‘‘ کی جگہ ’’یومِ محبت‘‘ کے طور پر منایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ہم سب چاہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماضی کے زخموں کو کریدنے کے بجائے ہمیں مستقبل کےلئے پل باندھنے ہیں۔ مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان اعتماد بحال کرنے، گلی محلے کی سطح پر بھائی چارے کی فضا قائم کرنے، اور سیاسی مفادات کے خلاف سماجی اتحاد کی دیوار کھڑی کرنے کی ضرورت ہے۔
بھارت نفرت سے نہیں، محبت سے آگے بڑھنے کا مزاج رکھتا ہے۔ یہاں گنگا جمنی تہذیب کی ہزار سالہ روایت ہے، جس نے ہر دور میں نفرت کی سیاست کو شکست دی ہے۔ آج پھر اسی روایت کو زندہ کرنے کا وقت ہے۔چنانچہ 6 دسمبر کو ماضی کی تلخیوں کے بجائے محبت اور یکجہتی کے دن کے طور پر منانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ یہ دن ہمیں اختلافات کے بیچ پل باندھنے، دلوں کو جوڑنے اور ملک کی ہم آہنگی کو مستحکم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ کیونکہ امن ہی مستقبل کا راستہ ہے،اور محبت ہی امن کا واحد دروازہ۔

