تحریر: اشفاق میر
برسوں تک بھارت اور عرب دنیا کے تعلقات کو ایک محدود دائرے میں دیکھا جاتا رہا—توانائی کی ضروریات، تارکینِ وطن کی موجودگی اور رسمی سفارت کاری۔ مگر وزیرِ اعظم نریندر مودی کا حالیہ دورۂ اردن، عمان اور ایتھوپیا اس روایتی فریم سے واضح انحراف کی علامت ہے۔ یہ محض دوروں کا تسلسل نہیں بلکہ خلیجی اور عرب خطے میں بھارت کے کردار کی ایک ساختی تبدیلی کا اعلان ہے۔ اس تبدیلی کی بنیاد بھارت کی خارجہ پالیسی میں اعتماد اور تسلسل ہے۔ اردن میں شاہ عبداللہ دوم کی جانب سے بھارت کی معاشی ترقی اور وزیرِ اعظم مودی کی قیادت کی کھلے عام تعریف محض خیرسگالی کا اظہار نہیں تھی بلکہ اس حقیقت کا اعتراف تھی کہ بھارت اب عالمی معیشت میں ایک فیصلہ کن قوت بن چکا ہے۔ شاہ عبداللہ کا جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کو جوڑنے والے معاشی کوریڈور کا تصور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عرب قیادت بھارت کو مستقبل کی عالمی سپلائی چینز میں ایک مرکزی ستون کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
اردن کے ولی عہد کی جانب سے وزیرِ اعظم مودی کو ذاتی طور پر میوزیم لے جانا اور پھر خود ہی ہوائی اڈے تک رخصت کرنا سفارتی دنیا میں غیر معمولی اشارہ تھا۔ عالمی سیاست میں ایسے اقدامات محض روایت نہیں بلکہ اعتماد، احترام اور طویل المدتی شراکت داری کے مظہر ہوتے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ بھارت کو اب صرف ایک شراکت دار نہیں بلکہ ایک معتبر قیادت کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
بھارت اور اردن کے درمیان دوطرفہ تجارت کو آئندہ پانچ برسوں میں پانچ ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف، اور قابلِ تجدید توانائی، پانی کے انتظام، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور ثقافتی تبادلوں میں تعاون، اس بدلتی ہوئی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ بھارت اب صرف مصنوعات نہیں بلکہ نظام، ٹیکنالوجی اور ترقیاتی ماڈلز بھی برآمد کر رہا ہے۔ اگر اردن میں سیاسی ہم آہنگی نمایاں تھی تو عمان میں معاشی اعتماد پوری شدت سے سامنے آیا۔ وزیرِ اعظم مودی کو ’آرڈر آف عمان‘ جیسے اعلیٰ ترین قومی اعزاز سے نوازا جانا غیر معمولی سفارتی واقعہ ہے۔ یہ محض ایک اعزاز نہیں بلکہ بھارت کی عالمی ساکھ پر مہرِ تصدیق ہے۔ یہ حقیقت کہ خلیجی تعاون کونسل کے چھ میں سے پانچ ممالک اپنے اعلیٰ ترین اعزازات وزیرِ اعظم مودی کو دے چکے ہیں، بھارت کی خلیج میں غیر معمولی قبولیت کو ظاہر کرتی ہے۔بھارت اور عمان کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ اس اعتماد کا عملی اظہار ہے۔ تقریباً بیس برسوں میں عمان کا یہ دوسرا بڑا تجارتی معاہدہ ہے، جس سے قبل صرف امریکہ کے ساتھ ایسا معاہدہ کیا گیا تھا۔ بھارتی برآمدات کے لیے تقریباً مکمل ڈیوٹی فری رسائی، روزگار کے نئے مواقع، ایم ایس ایم ایز، خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروبار اور ہنرمند افراد کے لیے نئی راہیں کھولے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ خدمات کے شعبے میں 100 فیصد غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت بھارت کو ایک ٹیلنٹ ہب کے طور پر مزید مضبوط بنائے گی۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ نریندر مودی کے اقتدار میں آنے پر یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ بھارت اور عرب دنیا کے تعلقات متاثر ہوں گے۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ثابت ہوئی۔ آج عرب دنیا بھارت کے ساتھ نہ صرف گرمجوشی سے روابط بڑھا رہی ہے بلکہ اسے ایک مستحکم، قابلِ اعتماد اور غیر مداخلت پسند شراکت دار کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
مودی کی عرب سفارت کاری اس بات کی عکاس ہے کہ بھارت اب کسی نظریاتی خانے میں محدود نہیں بلکہ ایک خودمختار عالمی طاقت کے طور پر اپنے مفادات اور شراکت داریوں کا تعین خود کر رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی نظام عدم استحکام کا شکار ہے، خلیجی ممالک کے لیے بھارت ایک ایسا شراکت دار بن کر ابھرا ہے جو دباؤ،شرائط یا مداخلت کے بغیر تعاون کی پیشکش کرتا ہے۔ آخرکار، یہ دورہ اس بات کا اعلان ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی اب ردِعمل نہیں بلکہ وژن، اعتماد اور طویل المدتی حکمتِ عملی پر مبنی ہے—اور عرب دنیا اس نئی بھارتی حقیقت کو نہ صرف تسلیم کر رہی ہے بلکہ اس کا خیرمقدم

