امن ہی ترقی کا واحد راستہ ہے

تاثیر 9 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کے حالیہ دعوے نے مشرق وسطیٰ کی پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ آئی ڈی ایف نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں بتایا ہے کہ ایران نے جون 2025 کے 12 دن کے شدید فوجی تنازعہ کے بعد بڑے پیمانے پر  ایران نے بیلسٹک میزائلوں کی پیداوار شروع کر دی ہے۔ یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا ہے، جب ایرانی بحریہ نے فارس کی خلیج میں میزائل، کروز اور ڈرونز پر مشتمل بڑے فوجی مشقوں کا انعقاد کیا ہے، جو علاقائی طاقت کا مظاہرہ لگتا ہے۔یاد رہے، جون کے اس’’12 دن کے جنگ‘‘ میں دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے علاقوں پر بھاری حملے کیے تھے، جس سے ہزاروں شہری ہلاکتیں اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ اسرائیل نے ایران کی میزائل سہولیات کو نشانہ بنایا تھا، مگر اب مغربی سفارت کار بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ ایران پرانی ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت کو تیزی سے بحال کر رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف فوجی تناؤ میں اضافے کا سبب بن رہی ہے بلکہ انسانی جانوں اور علاقائی استحکام کے لئے خطرناک بھی ہو چکی ہے۔
در اصل یہ دعویٰ دہائیوں پرانے ایران اوراسرائیل کے درمیان دشمنی کا تسلسل ہے، جو پراکسی جنگوں سے اب کھلی فوجی کارروائیوں تک پہنچ چکا ہے۔ جون 2025 کا تنازعہ ایک ایسا موڑ تھا، جہاں ایران نے بے شمار میزائل داغے اور اسرائیل نے 360 سے زائد فضائی حملے کیے، جس سے ایران کا ’’ محور مزاحمت‘‘ کمزور پڑ گیا۔ آئی ڈی ایف کا خدشہ جائز لگتا ہے کہ ایران کی میزائل بحالی مستقبل کے کسی بھی تصادم میں اسرائیل کے لئے خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ ایران 2000 میزائل ایک ساتھ داغنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ تاہم، یہ صرف دفاعی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے، جیسا کہ ایران کی جوہری پروگرام کی بجائے میزائل پر توجہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت اسے قومی سلامتی کے لئے خطرے کی علامت سمجھ رہی ہے، جو مزید حملوں کی دھمکی دے رہی ہے۔ دوسری طرف، ایران کی فوجی مشقیں سارک (ایس اے اے آرسی) ممالک کے ساتھ بھی ہوئیں، جو علاقائی اتحاد کی کوشش لگتی ہیں، مگر یہ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کو تنہا کرنے کی پالیسی کو چیلنج کرتی ہیں۔
انسانیت حامی نقطہ نظر سے یہ کشیدگی بالکل دل دہلا دینےوالی ہے۔پچھلے جون کی جنگ میں دونوں اطراف کے شہریوں کو شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا،ایران میں توانائی مراکز اور اسرائیل میں شہری علاقوں پر حملوں سے بڑی تعداد میں بے گناہ لوگ مارے گئے۔ میزائل پروڈکشن کی دوڑ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جو خواتین، بچوں اور معصوم شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ مشرق وسطیٰ، جو پہلے ہی فلسطین، لبنان اور یمن کے تنازعات سے تباہ ہے، مزید اسلحہ سازی کی زد میں آ جائے گا۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ایسے تنازعات سے لاکھوں لوگ بے گھر ہوتے ہیں، غذائی بحران بڑھتا ہے اور انسانی ترقی رک جاتی ہے۔ انسانیت کی آواز یہ ہے کہ فوجی طاقت کی بجائے انسانی فلاح پر توجہ دی جائے،تعلیم ، صحت اور انفرا اسٹرکچر کے فروغ کے ساتھ غربت کے خاتمے کے لئے کام کیا جائے۔ اسرائیل اور ایران دونوں ممالک میں زیادہ تر عام انسان ہی رہتے ہیں۔ انھیں لڑائی جھگڑے سے کچھ بھی لینا نہیں ہے۔ ان کی مشترکہ تاریخ امن اور تجارت کی ہے، نہ کہ تباہی کی۔
جنگ مخالف ہونے کے ناطے، یہ واضح ہے کہ میزائل دوڑ ایک ’’منفی سرکل‘‘ ہے جو امن کو ناممکن بناتی ہے۔ اسرائیل کی دفاعی حکمت عملی جائز ہو سکتی ہے، مگر ایران کے ذریعہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کی بحالی کی کوشش کو جبراََ روکنا تشدد کا تسلسل ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ فوجی تصادم کبھی مستقل حل کا راستہ ہموار نہیں کرتے ہیں۔ 12 دن کے جنگ کے خاتمے کے بعد بھی تناؤ برقرار ہے، جو نئی تباہی کی دعوت دیتا ہے۔ اس کی بجائے، سفارتی ذرائع کار کو مضبوط کرنا چاہیے۔ امریکہ کی ثالثی والا جنگ بندی معاہدہ ناکام ہو چکا ہے، اب جوہری اور میزائل معاہدوں پر دوبارہ بات چیت ہونی چاہیے۔ ایران اور اسرائیل کو براہ راست مکالمے کی طرف راغب کرنا ہوگا، جہاں اعتماد سازی کے اقدامات جیسے اقتصادی تعاون اور علاقائی سلامتی فورم شامل ہوں۔ جنوبی کوریا اورشمالی کوریا کی طرح، یہ دشمنی بھی ختم ہو سکتی ہے اگر انسانی قدر کو فوقیت دی جائے۔
آخر میں، یہ دعویٰ ایک انتباہ ہے۔ایسا لگ رہا ہے کہ تباہی کے دن بڑی تیزی کے ساتھ قریب ہوتے جا رہے ہیں۔ میزائل کی بجائے امن کا پروڈکشن ہو، دونوں قومیں خاص طور پر وہاں کے عام انسان اس کے مستحق ہیں۔ انسانی جانوں کی قیمت اتنی زیادہ ہے کہ اسے کسی فوجی فتح سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کو جنگ کی بجائے خوشحالی کا گہوارہ بنانے کے لئے سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کرنے کا وقت آ گیا ہے، جہاں بچے کھیل سکیں اور خاندان محفوظ رہیں۔ یہ حقیقت اب عملی طور پر سب کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ امن ہی تحفظ کے ساتھ ترقی کا واحد راستہ ہے۔