
از قلم : سوپن داس گپتا
پچاس برس سے بھی زیادہ عرصہ قبل، ہندوستانی سیاست پر ایک تجربہ کار برطانوی ماہر نےطنز کیا تھا کہ انتخابات ان چند کاموں میں سے ایک ہیں جو ’’ہندوستانی کافی اچھے طریقے سے کرتے ہیں‘‘۔ یہ بات اس پس منظر میں کہی گئی تھی، جب چندخدشات، جو مکمل طور پر بے بنیاد بھی نہیں تھے، کہ کہیں ہندوستان کی جمہوریت خطرے میں نہ پڑ جائے یا پھر اسے ’ہدایت شدہ‘ نہ بنا دیا جائے۔ان خدشات کے باوجود انتخابی عمل کےوقار کو عوامی زندگی کی ایک حوصلہ افزا خصوصیت کے طور پر دیکھا گیا۔ جمہوریت کے اس بنیادی ستون کو 1977 میں اُس وقت حتمی توثیق ملی جب ایمرجنسی کے سائے کے باوجود ہندوستان کے رائے دہندگان نے ایک آمرانہ حکومت کو ووٹ کے ذریعے باہر کا راستہ دکھادیا۔
انتخابی کمیشن (ای سی آئی) کی یہ صلاحیت کہ وہ اس بات کو یقینی بنا سکے کہ قانون ساز اداروں میں صحیح معنوں میں عوام کی خواہشات کی عکاسی ہو، آزادی کے گزشتہ سات دہائیوں میں بار -بار آزمائی گئی ہے۔ حالانکہ کچھ مواقع پر انتخابی عمل پٹری سے اترا – جن میں 1972 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات اور 1987 کے جموں و کشمیر انتخابات قابل ذکر مثالیں ہیں-لیکن مجموعی طور پرہندوستان کے انتخابی تجربے نے سیاسی نظام کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھنے میں مدد کی۔
جیسا کہ ایسے انتخابی نظام میں ہوتا ہے جہاں ‘پہلی –ترجیح- کی بنیاد پر- ایک کا انتخاب’کے تحت قانون ساز اداروں میں اکثریت سامنے آتی ہے، کچھ ایسے حیران کن ہارنے والے امیدواروں کی مثالیں بھی ہیں،جن کے انتخابی مہم کے دوران کے ذاتی مشاہدات حتمی نتائج کے مطابق نہیں رہے۔ 1971 میں شکست پانے والے فریق نے اصرار کیا کہ سوویت ساختہ ‘نظر نہ آنے والی سیاہی’ کے استعمال نے اندرا گاندھی کو بھرپور کامیابی دلائی۔ اسی طرح 2009 کے عام انتخابات کے بعد الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کی سیٹلائٹ کے ذریعے ہیرا پھیری کے ناقابل یقین دعوے بھی سننے میں آئے۔
جو کبھی صرف سازشی نظریات کے حامیوں کا خاصہ سمجھاجاتا تھا، گزشتہ ایک برس میں وہ مرکزی بحث کا حصہ بن گیا ہے۔ اپنی پارٹی کے ان تجزیہ کاروں سے حوصلہ پا کر جن کی پیش گوئیاں عوامی رجحان کے مطابق نہیں رہیں، قائد حزب اختلاف نے انتخابی فہرستوں کی صداقت کو چیلنج کیا ہے۔ بلند بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ انتخابی کمیشن خصوصی جامع نظرثانی کی آڑ میں اقلیتی ووٹروں کو اس بنیاد پر ووٹر فہرستوں سے نکالنےپر غور کر رہا ہے کہ شاید وہ ہندوستانی شہری نہ ہوں۔ یہ تنازعہ مغربی بنگال کی سیاسی جماعتوں کے درمیان رسہ کشی کا موضوع بن گیا ہے اور اس کے آسام اور دیگر شمال مشرقی ریاستوں تک پھیلنے کا بھی خدشہ ہے۔
چونکہ آئین کا آرٹیکل 321 اور عوامی نمائندگی ایکٹ الیکشن کمیشن کو انتخابات کے انعقاد پر ‘خصوصی دائرہ اختیار’ دیتا ہے ، اس لیے انتخابی عمل کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھا گیا ہے ۔ کئی دہائیوں کے دوران ،ہندوستان کے انتخابی کمیشن(ای سی آئی) نے انتخابات کے منصفانہ انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے بہت سے اختراعات متعارف کئے ہیں ۔ ان میں سب سے اہم مثالی ضابطۂ اخلاق ہے جو نامناسب سیاسی طرز عمل پر پابندیاں عائد کرتا ہے اور ای وی ایم جس نے ووٹوں کی ہیرا پھیری کو مزید مشکل بنا دیا ہے-حالانکہ یہ ناممکن نہیں ہے۔ اب پولنگ بوتھوں پر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کے لیے رہنما اصول موجود ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی ، ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے ساتھ ، انتخابی کمیشن پولنگ بوتھوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب پر زور دے رہا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ نظم و ضبط برقرار رہے اور حکام و رائے دہندگان کو دھمکیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
بلا شبہ، یہ بات درست ہے کہ ان میں سے کوئی بھی اختراع مکمل طور پر بے عیب نہیں ہے۔ ووٹوں کی گنتی کے مراکز سمیت مقامی سطح پر اکثر طاقت کے غیر مہذب استعمال کا غلبہ ہوتا ہےاور اس سے نتائج متاثر ہونے کے خدشات رہتے ہیں۔ وہیں،ریٹرننگ افسران کی طرف سے مبینہ بدعنوانی کی روایتی شہادتوں کو بھی یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اب جبکہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں انتخابی اصلاحات پر بحث ہو، تو یہ ممکن ہے کہ ملک کو مثالی جمہوری طرز عمل سے انحراف کی مزید کچھ مثالیں سننے کو ملیں جن پر انتخابی کمیشن کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جمہوری منصوبے کے ایک اہم شراکت دار کے طور پر پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ عوامی فلاح کے لیے انتخابات کے اپنے وسیع تجربے کو بروئے کار لائے۔ تاہم اچھی سیاست کے بڑے مقاصد کو اس وقت نقصان پہنچتا ہے جب سیاسی قیادت جسمانی نقصان پہنچانےسمیت انتخابی کمیش کے خلاف کھلی دھمکیاں جاری کرتی ہے اور سرکاری عہدیداروں-جن کے نظم وضبط پر پورا نظام منحصر ہے-کو اپنے آئینی فرائض کی انجام دہی سے روک دیتی ہے۔ مغربی بنگال میں جاری ایس آئی آر کے دوران حکمراں جماعت کا طرز عمل شرمناک ہے۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ درست ووٹر فہرستوں کا وجود جمہوریت کی ایک بنیادی شرط ہے۔ اگر پسماندہ طبقات کے افراد کو زبردستی پولنگ اسٹیشنوں سے دور رکھا جائے تو اس پر بجا طور پر شدید ردعمل سامنے آتا ہے۔ بدقسمتی سے جب بڑی تعداد میں لوگوں کے نام ووٹر فہرستوں میں شامل نہ ہوں یا ایک ہی شخص کے دو یا تین اندراجات ہوں جو نتائج کو بگاڑ سکتے ہیں، تو اس پر اتنےغم و غصے کا ا ظہار نہیں کیا جاتا۔ انتخابی کمیشن نے شناختی جعل سازی کے مسئلے کو ووٹر شناختی کارڈ اور تصاویر کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم دھوکے باز لوگوں نے اس نظام کو کمزور کرنے کے طریقے بھی ڈھونڈ لیے ہیں، مثلاً ان لوگوں کی جگہ ووٹ ڈال کر جو یا تو انتقال کر چکے ہیں یا مستقل طور پر منتقل ہو گئے ہیں۔ مشرقی ہندوستان میں ایک اضافی مسئلہ یہ ہے کہ ووٹر فہرستوں میں ایسے افراد کا اندراج بھی ہوتا رہا ہے جوہندوستانی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہی نہیں ہیں۔
فی الوقت جاری ایس آئی آر مشق کوئی پہلی بار نہیں ہے جب انتخابی کمیشن ووٹرز کی جامع جانچ کر رہا ہے۔ حالانکہ اس بڑے پیمانے کی مشق کے لیے کوئی ،ہر دس سال بعد یا اس طرح کا کوئی اور مقررہ وقت طے نہیں کیا گیا ہے، لیکن یہ بات بخوبی تسلیم شدہ ہے کہ جب تک یہ وقتاً فوقتاً ہونے والا جائزہ نہیں لیا جائے گا، تب تک انتخابات کے نتائج عوامی خواہشات کی صحیح عکاسی نہیں کر سکیں گے۔
بیسویں صدی کی شروعاتی دہائیوں میں، آئرلینڈ کے تناظر میں یہ کہا جاتا تھا کہ لوگوں کو’جلدی ووٹ دینے اور بار بار ووٹ دینے‘ کا مشورہ دیا جاتا تھا۔ایک باہمت اسکالر کو اس بات کو دستاویزی شکل دینا دلچسپ ہو سکتا ہے کہ ہندوستان کے کچھ حصوں میں کس طرح مردہ افراد کے ووٹ ڈالنےیا ایک امیدوار کے ووٹوں کو باآسانی اس کے حریف کی تعداد میں منتقل کرنے جیسے اختراعی طریقے رائج ہیں ۔ ایس آئی آر ان تمام تخلیقی سیاسی مثالوں کو تاریخ نہیں بنا دے گا،البتہ یہ اس عالمی اعتماد میں مزیداضافہ کرے گا کہ ہندوستان اپنے انتخابی عمل کوخوش اسلوبی سے انجام دیتا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ آنے والی دہائیوں میں، کسی ریاست یا علاقے کے بارے میں یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہاں انتخابات منعقد نہیں کئےجاتے، بلکہ ‘مینج’ کیے جاتے ہیں۔

