ہڈیاں جما دینے والی سردی میں حاملہ خواتین بستر اور کمبل کو ترس گئیں

تاثیر 22 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

ارریہ (راحیل عرفان)ضلع کا جوکیہاٹ ریفرل اسپتال ان دنوں اپنی بدانتظامی اور لاپروائی کے سبب سرخیوں میں ہے، جہاں صحت خدمات کے بلند و بانگ دعووں کے درمیان اسپتال کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہاں مریضوں کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں۔ حالیہ ہڈیاں جما دینے والی سردی نے مریضوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، خاص طور پر زچگی خانے میں انسانیت سوز مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ یہاں ایک ہی بیڈ پر چار سے پانچ خواتین کو رکھا جا رہا ہے، جبکہ کپکپا دینے والی ٹھنڈ کے باوجود اسپتال کی جانب سے مریضوں کو کمبل تک فراہم نہیں کیے گئے۔ حاملہ خواتین اپنے گھروں سے لائے ہوئے کپڑوں کے ذریعے کسی طرح خود کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بدنظمی کی انتہا یہ ہے کہ جہاں ایک طرف زچگی خانے میں جگہ کی شدید قلت ہے، وہیں دوسری جانب ایمرجنسی وارڈ کے بیڈز خالی پڑے ہوئے ہیں، جن پر چادریں تک موجود نہیں۔ اسپتال کے ہر کونے میں گندگی اور غلاظت کے ڈھیر لگے ہیں، جو کسی بھی وقت وبائی امراض کا سبب بن سکتے ہیں۔ مقامی باشندوں میں اس سنگین لاپروائی کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ غریب عوام گندگی اور ٹھنڈ کے درمیان علاج کرانے پر مجبور ہیں، لیکن محکمہ صحت کے افسران خوابِ خرگوش میں سوئے ہوئے ہیں۔ علاقے کے لوگوں نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فی الفور مداخلت کر کے اسپتال کے حالات کو بہتر بنایا جائے، کمبل اور صاف ستھرے بستروں کا انتظام کیا جائے، تاکہ مریضوں کو مزید اذیت سے بچایا جا سکے۔