
پروفیسر جیوتھس ستیہ پالَن (این آئی آر ڈی پی آر)
بھارت میں دیہی روزگار کی ضمانت کا تصور اُس دور میں سامنے آیا تھا جب دیہی معیشتیں شدید بحران، غیر زرعی روزگار کے محدود مواقع اور کمزور بنیادی ڈھانچے سے دوچار تھیں۔ دو دہائیوں بعد میکرو معاشی تناظر میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے۔ غربت میں کمی آئی ہے، دیہی رابطہ بہتر ہوا ہے اور مالی شمولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باوجود عوامی روزگار کی مانگ برقرار ہے، جو اب مطلق محرومی کے بجائے زیادہ تر معاشی عدم تحفظ، موسمیاتی تغیرات اور علاقائی ترقی میں عدم توازن کی وجہ سے ہے۔ یہ تبدیلی روزگار کی ضمانت کے فریم ورک سے پسپائی نہیں بلکہ اصلاح کی متقاضی ہے۔
میکرو معاشی نقطۂ نظر سے، اجرت پر مبنی روزگار پروگرام طویل عرصے سے دیہی معیشت میں استحکام پیدا کرنے کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ یہ معاشی سست روی کے دوران کھپت کو متوازن رکھتے ہیں، مجبوری کی ہجرت کو کم کرتے ہیں اور اُن علاقوں میں طلب کو سہارا دیتے ہیں جہاں روزگار انتہائی موسمی نوعیت کا ہے۔ گرچہ مجموعی قومی پیداوار میں زراعت کا حصہ کم ہوا ہے، مگر یہ اب بھی افرادی قوت کے بڑے حصے کو جذب کرتی ہے جبکہ دیہی غیر زرعی روزگار کی تخلیق اتنی تیزی سے نہیں ہو سکی کہ پائیدار متبادل فراہم کر سکے۔ یہی ساختی عدم توازن عوامی روزگار کی مسلسل اہمیت کی وضاحت کرتا ہے۔ وِکسِت بھارت – گارنٹی فار روزگار اینڈ آجیویکا مشن (گرامین) بل، 2025 دیہی روزگار کو ایک وسیع میکرو-مالیاتی فریم ورک کے تحت مربوط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے محض فلاحی خرچ کے طور پر دیکھنے کے بجائے یہ بل روزگار کے تحفظ کو پیداوار، اثاثہ سازی اور مختلف اسکیموں کے باہمی اشتراک سے جوڑتا ہے، جو وِکسِت بھارت 2047 کے طویل مدتی ترقیاتی ویژن سے ہم آہنگ ہے۔
تقریباً دو دہائیوں کے تجربے سے واضح ہے کہ دیہی اجرتی روزگار کی ضرورت ختم نہیں ہوئی۔ گرچہ دائمی غربت میں کمی آئی ہے، لیکن دیہی گھرانوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی موسمیاتی جھٹکوں، صحت کے ہنگامی حالات اور منڈی کے اتار چڑھاؤ کے خطرات سے دوچار ہے۔ بارانی، قبائلی اور خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں عوامی روزگار کی مانگ بدستور زیادہ ہے، جو مستقل غربت کے بجائے آمدنی کے عدم استحکام کی عکاسی کرتی ہے۔ اسی دوران عمل درآمد کے نتائج میں قانونی حق اور عملی فراہمی کے درمیان مسلسل خلا نظر آتا ہے۔ گرچہ قانون ہر گھرانے کو 100 دن کے روزگار کی ضمانت دیتا ہے، لیکن زیادہ تر برسوں میں فراہم کیے گئے کام کے اوسط دن اس حد سے کہیں کم رہے ہیں۔ اس سے عوامی روزگار کا خودکار استحکامی کردار کمزور پڑتا ہے اور معاشی سست روی کے دوران دیہی طلب کو سہارا دینے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
اس پس منظر میں فی گھرانہ روزگار کی قانونی ضمانت کو 100 سے بڑھا کر 125 دن کرنا ایک اہم میکرو معاشی اقدام ہے۔ اس سے کمزور گھرانوں کی آمدنی میں پیش گوئی پذیری بڑھتی ہے اور عوامی اخراجات کے انسدادِ دورانیہ کردار کو تقویت ملتی ہے۔ موسمیاتی دباؤ یا زرعی سست روی کے ادوار میں یہ توسیع کھپت کو برقرار رکھنے اور مقامی معیشتوں میں شدید سُکڑاؤ کو روکنے میں مدد دے سکتی ہے۔
ماضی کے تجربات سے حاصل ہونے والا ایک اہم مالیاتی سبق یہ ہے کہ دیہی روزگار اس وقت زیادہ مؤثر نتائج دیتا ہے جب اسے اثاثہ سازی سے جوڑا جائے۔ وقت کے ساتھ روزگار کا بڑا حصہ پانی کے تحفظ، زمین کی ترقی اور قدرتی وسائل کے انتظام سے متعلق کاموں کے ذریعے پیدا ہوا ہے۔ ان سرمایہ کاریوں نے ضمنی فوائد پیدا کیے ہیں، جن میں فصلوں کی شدت میں اضافہ، زیرِ زمین پانی کی سطح میں استحکام اور خشک سالی کے خطرات میں کمی شامل ہے۔ نیا فریم ورک پانی کے تحفظ، بنیادی دیہی انفراسٹرکچر، روزگار سے وابستہ اثاثوں اور موسمیاتی لچکدار کاموں کو روزگار کی منصوبہ بندی کے مرکز میں رکھتا ہے۔ یہ تبدیلی روزگار پر ہونے والے اخراجات کو محض جاری اخراجات کے بجائے غیر مرکزیت شدہ عوامی سرمایہ کاری کے طور پر تسلیم کرنے کی عکاس ہے۔ مالیاتی نقطۂ نظر سے اس سے عوامی اخراجات کی پیداواری قدر بہتر ہوتی ہے اور درمیانی مدت کی ترقی کو سہارا ملتا ہے۔ اثاثہ پر مبنی روزگار مستقبل میں مالی دباؤ کو بھی کم کرتا ہے، کیونکہ کمزور علاقوں میں بار بار امدادی اخراجات پر انحصار گھٹ جاتا ہے۔ اس طرح یہ بل قلیل مدتی آمدنی کے تحفظ کو طویل مدتی پیداواری فوائد سے ہم آہنگ کرتا ہے۔
پہلے کے عمل درآمد میں ایک اور رکاوٹ منتشر منصوبہ بندی تھی۔ علیحدہ علیحدہ اسکیم پر مبنی کاموں نے پیمانے کو محدود رکھا اور اثاثوں کے معیار کو کمزور کیا۔ وِکسِت گرام پنچایت منصوبوں کا تعارف اس مسئلے کا حل پیش کرتا ہے، کیونکہ یہ روزگار کے کاموں کو جامع، گاؤں کی سطح کے ترقیاتی منصوبوں میں شامل کرتا ہے۔ مکانی (اسپیشل) ٹولز کے ذریعے تیار کیے گئے اور قومی منصوبہ بندی کے پلیٹ فارمز سے ہم آہنگ یہ منصوبے انفراسٹرکچر، پانی، رہائش اور روزگار سے متعلق سرمایہ کاری کے درمیان بہتر تال میل پیدا کرتے ہیں۔ کاموں کو ایک متحدہ دیہی انفراسٹرکچر فریم ورک میں یکجا کرنے سے تکرار کم ہوتی ہے اور عوامی سرمایہ کاری کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ اس طریقۂ کار سے دیہی روزگار کو ترقی کے مجموعی عمل کا حصہ بنایا جاتا ہے، نہ کہ ایک متوازی نظام کے طور پر۔
بل میں ریاستوں کو بوائی اور کٹائی کے عروج کے موسم میں 60 دن تک عوامی کام عارضی طور پر روکنے کی اجازت دینے کی شق کے واضح لیبر مارکیٹ اثرات ہیں۔ ان ادوار میں زرعی مزدوری کی مانگ بڑھتی ہے اور منڈی کی اجرتیں اوپر جاتی ہیں۔ اگر اسی وقت بڑے پیمانے پر عوامی کام جاری رہیں تو مزدوروں کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے، کسانوں کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں اور پیداوار پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
مقامی سطح پر طے شدہ اور وقت کی حد میں بند یہ وقفہ عوامی روزگار کو زرعی سرگرمیوں سے ٹکراؤ سے بچاتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ سالانہ روزگار کی زیادہ ضمانت موسمی کمی کی تلافی کر دیتی ہے۔ پیشگی منصوبہ بندی کے ساتھ روزگار کو کم مصروف ادوار میں پھیلایا جا سکتا ہے، جس سے مجموعی دستیابی متاثر ہوئے بغیر زرعی پیداوار اور اجرتی آمدنی دونوں کو سہارا ملتا ہے۔
بل مالیاتی پیش گوئی پذیری بہتر بنانے کے لیے ’’معیاری تخصیصات متعارف کراتا ہے۔ ضابطہ جاتی بنیادوں پر کی گئی تخصیصات ریاستوں کو درمیانی مدت کے مالیاتی فریم ورک کے اندر روزگار کے اخراجات کی منصوبہ بندی میں مدد دیتی ہیں اور تاخیر سے ادائیگیوں اور ردِعمل پر مبنی بجٹ سازی جیسے مسائل کو کم کرتی ہیں۔ مشترکہ مالی ذمہ داری بہتر اثاثہ انتخاب اور دیکھ بھال کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہے۔ اسی کے ساتھ مساوات کے تقاضے شفاف تخصیصی معیارات، بروقت فنڈ کی فراہمی اور مالی طور پر کمزور ریاستوں کے لیے حفاظتی انتظامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل نگرانی، عوامی افشا اور مضبوط سماجی آڈٹ پر زور اخراجات کے نظم و ضبط کو بہتر بنانے اور ترسیلی نظام پر اعتماد بحال کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ بل روزگار کی ضمانت کے حقوق پر مبنی بنیادی ڈھانچے کو برقرار رکھتا ہے، جن میں مطلع شدہ اجرتی شرحیں اور کام فراہم نہ ہونے کی صورت میں بے روزگاری الاؤنس شامل ہیں۔ جو چیز بدلتی ہے وہ ان حقوق کی فراہمی کا فریم ورک ہے۔
موسمیاتی خطرات، غیر مساوی ترقی اور لیبر مارکیٹ کی پابندیوں سے تشکیل پانے والی دیہی معیشت میں عوامی روزگار اب بھی ایک ناگزیر میکرو معاشی آلہ ہے۔ حقوق میں توسیع، بہتر منصوبہ بندی، اثاثوں کے معیار میں بہتری اور مالیاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنا کر نیا فریم ورک دیہی روزگار کے اصل وعدے کو تازہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بدلتی ہوئی میکرو معیشت میں تجربے کی روشنی میں کی گئی اصلاح پسپائی نہیں بلکہ تجدید ہے

