!خاموشی حالات کو بہتر نہیں ہونے دے گی

تاثیر 15 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

اتر پردیش کے ضلع بہرائچ میں 13 اکتوبر 2024 کو درگا پرتیما وسرجن کے جلوس کے دوران پھوٹ پڑے فرقہ وارانہ تشدد نے ایک بار پھر مسلم کمیونٹی کو شدید عدم تحفظ کے احساس سے دوچار کر دیاتھا۔ اس واقعے میں ایک ہندو نوجوان رام گوپال مشرا ہلاک ہو گیا تھا۔اس معاملے میں ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ نے 11 دسمبر 2024 کو اہم ملزم سرفراز کو پھانسی اور نو دیگر مسلم نوجوانوں،عبد الحمید، فہیم، سیف علی، جاوید خان،ذیشان، ننکو، معروف علی، شعیب خان اور طالب کو عمر قید کی سزا سنا ئی ہے۔ تین ملزمین کو ثبوتوں کی کمی کی بنیاد پر بری کر دیا گیاہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ مسلم کمیونٹی کے لئے نہ صرف ایک عدالتی فیصلہ ہے بلکہ ایک گہرے تعصب اور ادارہ جاتی جانبداری کی علامت بن گیا ہے۔
عدالت کا فیصلہ رام گوپال کی ہلاکت کو’’دردناک اور وحشیانہ ‘‘قرار دیتا ہے۔فیصلے میں جسم پر متعدد گولیوں کے زخم، ناخن اکھاڑنے اور انگوٹھے جلانے جیسے الزامات شامل ہیں۔ عدالت نے اسے علاقے میں دہشت پھیلانے والا فعل قرار دیا ہے۔ساتھ ہی  سپریم کورٹ کے پرانے فیصلوں کا حوالہ دے کر پھانسی کی سزا کو جائز ٹھہرایاہے۔ تاہم، مسلم کمیونٹی کی نظر میں رام گوپال مشرا کی ہلاکت کی تصویر کچھ اور ہی ہے۔ واقعے کی جڑ جلوس کے دوران رام گوپال مشر اکا مبینہ طور پر ایک مسلم گھر کی چھت پر چڑھ کر بھگوا جھنڈا لگانے کی کوشش تھی، جو ایک واضح اشتعال انگیزی اور کسی کے گھر پر حملہ کی کوشش تھی۔ایک رپورٹ کے مطابق ملزمین کے وکیل مختار عالم نے عدالت کے سامنے ، معاملے کے وائرل ویڈیوز پیش کئے، جس میں رام گوپال مشرا ایک چھت کی ر یلینگ پر پہلے سے لگے سبز رنگ کے جھنڈے کو ہٹاکر اس کی جگہ بھگوا جھنڈا لگا تے ہوئے نظر آرہے ہیں۔اس کے بعد فائرنگ ہوئی ،لیکن کس طرف سے، یہ ابھی تک واضح نہیں ہو پایا ہے۔ تاہم ، عدالت نے اس پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف ایک طرف کےالزام کو قبول کیا ہے۔
مسلم کمیونٹی کے خدشات کی سب سے بڑی وجہ فیصلے میں منوسمرتی کا کھلا حوالہ ہے۔ جج پون کمار شرما نے صفحہ 135 پرمنوسمرتی سے ایک شلوک کوٹ کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سزا سے سماج کے ’’حیوانوں‘‘ میں خوف پیدا ہوتا ہے اور راج دھرم کی پابندی یقینی بنتی ہے۔ منوسمرتی کے بارے میں یہ جگ ظاہر ہے یہ ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی حمایت کرتا ہے اوربھارت کے آئین کی روح یعنی مساوات اور سیکولرزم کے اصولوں سے براہ راست متصادم ہے۔ مسلم ملزمین سے متعلق ایک کیس میں اس قدیم دھرم گرنتھ کے شلوک کا حوالہ دیا جانا عدالت کی غیر جانبداری پر سنگین سوال اٹھاتا ہے۔جانکاروں کا ماننا ہے کہ’’ یہ حوالہ اتفاقی نہیں بلکہ ایک سوچ کا اظہار ہے۔ مسلم کمیونٹی اسے اپنی شناخت اور آئینی حقوق پر حملہ سمجھتی ہے۔‘‘
اس عدالتی فیصلے سے جڑی ایک افسوسناک بات یہ ہے کہ تشدد کے دوسرے پہلوؤں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ رام گوپال مشر ا کی ہلاکت کے اگلے دن ہندو ہجوم نے مسلم علاقوں میں متعدد دکانیں، آٹو موبائل شو روم، نرسنگ ہوم اور ہسپتال کو آگ لگا دی اور توڑ پھوڑ کی اور الٹے انھیں مقدمے میں پھنسا دیا گیا۔ ننکوکی بیٹی کا دعویٰ ہے کہ ان کے والد اس دن نیپال میں تھے ، مگرپردھانی کی رنجش کی وجہ سے انھیں بھی ملزم بنا دیا گیا۔ یہ تمام باتیں ایک طرفہ تفتیش اور جانبداری کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے ابتداء میں مقتول کے جسم پر صرف گولیا ں لگنے کا ذکر کیا تھا ، مگر معاملے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے مسلم کمیونٹی کو ’’حیوان صفت‘‘ قرار دینے کے لئے ان پر چند نئے الزامات تھوپ دئے۔
ظاہر ہے یہ فیصلہ فرقہ وارانہ مقدمات میں ایک خطرناک نظیر قائم کر رہا ہے۔ قانونی ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ دنگوں میں عام طور پر اچانک اشتعال کی بنیاد پر ہلکی سزائیں دی جاتی ہیں، مگر یہاں سخت ترین سزا دی گئی ہے۔ مسلم کمیونٹی کو خوف ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہا تو ہر فرقہ وارانہ تنازعے میں صرف ایک کمیونٹی کو نشانہ بنایا جائے گا۔منصفانہ نقطۂ نظر سے یہ فیصلہ انصاف نہیں بلکہ سیاسی انتقام جیسا لگتا ہے۔ متاثرین اس فیصلے کو اپیل کے ذریعے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج تو کریں گے ہی، حکومت اور سول سوسائٹی کو بھی چاہئے کہ دونوں کمیونٹیز کی تکالیف کو تسلیم کرے۔رام گوپال مشر کی بیوہ کی طرح متاثرہ مسلم خاندان بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ بین المذاہب مکالمہ اور غیر جانبدار تفتیش ہی اس فرقہ وارانہ خلیج کو پاٹ سکتی ہے۔بصورت دیگر ایسے فیصلے نفرت کو مزید ہوا دیتے اور بھارت کی سیکولر روح کو مجروح کرتے رہیں گے۔ مسلم کمیونٹی کو بھی چاہئے کہ انصاف کی مانگ اور اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے متحد ہوکر اپنی قانونی جدوجہد جاری رکھے ۔ خاموشی حالات کو کبھی بہتر نہیں ہونے دے گی۔