اپنے ملک میں رہیں اور مفاہمت کے مشکل راستے پر چلیں، پوپ کا لبنانیوںکو پیغام

تاثیر 1 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بیروت،یکم دسمبر:پوپ لیو چہاردہم نے اتوار کو بیروت پہنچنے کے فوراً بعد لبنانیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ملک میں رہنے کی ہمت کا مظاہرہ کریں جو اقتصادی اور سیاسی بحرانوں میں ڈوبا ہوا ہے جس نے نوجوانوں کی نقل مکانی کو بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے مشترکہ مستقبل کے لیے مفاہمت کی اہمیت پر زور دیا۔
بیروت کے قریب صدارتی محل میں حکام کے سامنے اپنے پہلے خطاب میں پوپ نے کہا کہ کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جب بھاگ جانا آسان ہوتا ہے یا محض کہیں اور جانا بہتر ہوتا ہے۔ ملک میں رہنے یا واپس آنے کے لیے ہمت اور بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے لبنانیوں سے مفاہمت کے مشکل راستے پر چلنے کی بھی اپیل کی اورکہا کہ بعض ذاتی اور اجتماعی زخموں کو بھرنے کے لیے کئی سال اور کبھی کبھی پوری نسلیں لگ جاتی ہیں۔ یہ اس وقت ہوا جب پوپ لیو چہاردہم 48 گھنٹے کے دورے پر اتوار کی شام بیروت پہنچے۔ اپنے دورے کے دوران وہ حالیہ برسوں میں مسلسل بحرانوں سے دوچار لبنانیوں کے لیے امن کا پیغام لائے ہیں۔70 سالہ پوپ ایئرپورٹ ، جہاں ان کا سرکاری استقبال کیا گیا جس میں صدر جوزف عون، وزیر اعظم نواف سلام، پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری اور آرمی کمانڈر جنرل روڈولف ہیکل شامل تھے، سے بعبدا کے صدارتی محل منتقل ہوئے۔ پوپ لیو کے پہنچنے سے چند گھنٹے قبل ایئرپورٹ سے صدارتی محل جانے والی سڑکوں پر بڑی تعداد میں ہجوم جمع تھا۔ لوگ لبنان اور ویٹیکن کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔