تہران نئی جنگی تیاریوں کے لیے عسکری حکمت عملی پر نظرثانی میں مصروف

تاثیر 17 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

واشنگٹن،17دسمبر:ایران نے اسرائیل کے ساتھ گذشتہ جنگ کے دوران اپنی عسکری ناکامیوں کا کھلے عام جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مغربی تہران میں واقع ایران نیشنل ایوی ایشن اینڈ اسپیس پارک میں اسٹریٹجک ہتھیار عوام کے سامنے پیش کیے گئے ہیں۔ برطانوی اخبار “فنانشل ٹائمز” کے مطابق اس اقدام کا مقصد اندرونی بیانیے کو ازسرنو ترتیب دینا اور جنگ کے صدمے کے بعد باز”ڈیٹرینس” کی شبیہ بحال کرنا ہے۔
ایرانی فلم ساز جواد مقوئی کی جانب سے یوٹیوب پر نشر کیے گئے انٹرویوز میں عسکری قیادت اور حکومتی عہدیداروں نے اعتراف کیا کہ مقامی ریڈار نظام اسرائیلی طیاروں اور ڈرونز کو تہران کے اندر حملے کرنے سے روکنے میں ناکام رہے۔ حکام نے اسرائیلی کارروائیوں کے انداز پر حیرت کا اظہار کیا خاص طور پر گھروں میں موجود عسکری کمانڈروں اور جوہری سائنس دانوں کو نشانہ بنانے پر۔جنگ کے دوران پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر محمد رضا نقدی نے کہا کہ دشمن کے طریقہ کار نے ہمیں حیران کر دیا۔ ہم نے غلط اندازہ لگایا اور اب تسلیم کرتے ہیں کہ ہم سے خطا ہوئی۔ ہمیں یہ توقع نہیں تھی کہ کمانڈروں اور سائنس دانوں کو ان کے گھروں میں اہل خانہ سمیت نشانہ بنایا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کا جولائی سنہ 2024ء میں تہران میں قتل اس پورے عمل کا سب سے شرمناک لمحہ ثابت ہوا۔ اس وقت ایران نے جواب دینے سے گریز کیا۔ آج ایرانی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ اسٹریٹجک تحمل نہیں تھا بلکہ اس تلخ حقیقت کا ادراک تھا کہ اس مرحلے پر مؤثر ردعمل کی صلاحیت موجود نہیں تھی اور عسکری تیاری کی بحالی کے لیے وقت درکار تھا۔اسی تناظر میں پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر علی محمد نائینی نے کہا کہ جنگ کے بعد کے عرصے میں ایران نے میزائلوں کی درستی اور کارکردگی بہتر بنانے پر کام کیا ہے۔ ان کے بقول ہم چوبیس گھنٹے نئی سطح کی تیاری کے لیے سرگرم ہیں۔ اگر طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل نہ ہوتے تو یہ جنگ بارہ دن کے بجائے آٹھ سال تک جاری رہتی جیسا کہ عراق کے ساتھ ہوا تھا اور دفاع سے حملے میں جانے میں گھنٹوں کے بجائے ایک سال لگ جاتا۔