ہوائی سفر کا بڑھتا بحران اور مسافروں کے حقوق

تاثیر 6 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بھارت میں، حالیہ دنوں میں ہوائی سفر ایک بار پھر غیر یقینی حالات سے دوچار ہے۔ خاص طور پر اِنڈیگو کی جانب سے اچانک درجنوں فلائٹس کی منسوخی اور تاخیر نے ملک بھر کے ہزاروں مسافروں کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ مسئلہ صرف ایک ایئر لائن تک محدود نہیں بلکہ پوری ہوائی صنعت کے بنیادی ڈھانچے، منصوبہ بندی، قوانین کے نفاذ اور مسافروں کے حقوق کے حوالے سے کئی اہم سوالات کھڑے کرتا ہے۔ چوں کہ یہ بحران آئندہ دنوں میں بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، اس لئے اس مسئلہ اور اس کے ممکنہ حل پر غور و فکر  ضروری ہے۔
در اصل یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب اِنڈیگو نے پائلٹوں کی ڈیوٹی اور آرام سے متعلق ڈی جی سی اے کے نئے قواعد کو غلط انداز میں نافذ کر دیا۔ رات کی پروازوں پر نئی پابندیوں اور ڈیوٹی آورز میں تبدیلی کے سبب اچانک عملے کی کمی پیدا ہو گئی، جس کے نتیجے میں کمپنی کو اپنی درجنوں فلائٹس منسوخ کرنی پڑنی پڑی ہیں۔ کئی مقامات پر تین سے پانچ گھنٹے کی تاخیر بھی سامنے آئی ہے۔ اندازہ لگایا گیا کہ صرف ایک ہفتے کے اندر اندر ہزاروں مسافروں کو اپنے سفری منصوبے بدلنے پڑے، جس کا اثر کاروباری سفر سے لے کر ایمرجنسی حالات تک ہر طبقے پر پڑا ہے۔یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے، جب بھارتی فضائی صنعت اس طرح کے بحران سے گزری ہے۔ ماضی میں بھی مختلف وجوہات کے سبب پروازیں متاثر ہوتی رہی ہیں۔ چند برس قبل بھارت پاکستان کشیدگی کے وقت جموں، سری نگر، چنڈی گڑھ اور امرتسر جیسے اہم ہوائی اڈوں کے عارضی طور پر بند ہونے سے بڑی سطح پر پروازوں کی منسوخی دیکھنے میں آئی تھی۔ تاہم وہ ہنگامی نوعیت کے مسائل تھے، جبکہ موجودہ بحران خالصتاً انتظامی کمزوری اور ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کا بھارتی ہوائی بازار کمزور مسابقت کا شکار ہے۔ ایک طرف  اِنڈیگو تقریباً 60 فیصد مارکیٹ پر قابض ہے، تو دوسری طرف باقی بڑا حصہ ٹاٹا گروپ کی ملکیت والی ایئرلائنز،ایئر انڈیا اور وستارا  کے پاس ہے۔ظاہر ہے، مارکیٹ میں جب کھلا مقابلہ نہیں ہوتا ہے تو کسی ایک کمپنی کی غلطی، بدانتظامی یا ہڑتال جیسی صورتِ حال پورے ملک کے شہریوں کو متاثر کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ماہرین عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ بھارت جیسے بڑے ملک میں ایئرلائنز کی تعداد اور مسابقت دونوں بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ سرگرم مقابلے سے سروس کا معیار بھی بہتر ہو اور مسافروں کو متبادل بھی زیادہ مل سکیں۔
موجودہ بحران کے باوجود مسافروں کے پاس چند اہم حقوق موجود ہیں ،جن سے اکثر لوگ ناواقف رہتے ہیں۔ ڈی جی سی اے کے قوانین کے مطابق اگر پرواز ایئر لائن کی غلطی سے منسوخ ہوتی ہے تو مسافر مکمل رقم کی واپسی یا سات دن پہلے یا بعد کی مفت متبادل پروازدونوں میں سے کسی ایک کا حق رکھتا ہے۔اسی طرح تین گھنٹے سے زائد تاخیر کی صورت میں بھی مخصوص حالات میں مسافروں کو معاوضہ مل سکتا ہے، لیکن اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ مسافر نے ٹکٹ بُک کرتے وقت اپنا درست موبائل نمبر اور ای میل فراہم کیا تھا یا نہیں۔ بہت سے لوگ غلط یا پرانے نمبر درج کر دیتے ہیں، جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انہیں کمپنی کی جانب سے بھیجا گیا اپڈیٹ یا انتباہ وقت پر نہیں مل پاتا ہے۔
کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں بہترین طریقہ یہی ہے کہ مسافراپنی ایئر لائن کے آفیشل ایپ یا ویب سائٹ پر نظر رکھیں، ایس ایم ایس اور ای میل الرٹس فعال رکھیںاور ضرورت پڑنے پر کسٹمر کیئر سے براہِ راست رابطہ کریں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت اور ایئرلائنز دونوں اس حقیقت کا ادراک کریں کہ ہوائی سفر آج لاکھوںبھارتیوں کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ ایسے میں قواعد کا نفاذ انتہائی احتیاط سے، واضح منصوبہ بندی اور عملے کی شمولیت کے ساتھ کیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی طرح کی بدنظمی سے بچا جا سکے۔طویل مدت میں بھارت کو ایک ایسے فضائی نظام کی ضرورت ہے، جہاں، زیادہ کمپنیاں ہوں، مقابلہ حقیقی معنی میں موجود ہو،ایئرلائنز مسافروں کے حقوق کا احترام کریںاور مسافر بھی اپنے حقوق و ذمہ داریوں سے واقف ہوں۔یہ ذہن نشیں ہونا چاہئے کہ ہوائی سفر صرف دو شہروں کے درمیان فاصلہ طے کرنے کا نام نہیں بلکہ جدید معیشت کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔ اگر اس شعبے میں استحکام نہ ہو تو اس کا اثر روزگار، کاروبار، سیاحت اور مجموعی معاشی رفتار پر بھی پڑتا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ موجودہ بحران سے سبق سیکھتے ہوئے فضائی نظام کو زیادہ مضبوط، بہتر اور شفاف بنایا جائے گا تاکہ مسافروں کے حقوق کی ہر حال میں حفاظت ہو سکے۔