تاثیر 1 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
پچھلے کچھ برسوں کے درمیان ملک کے کئی خطوں میں مذہبی منافرت کا شور بڑھا ہے۔ سوشل میڈیا پر تلخیوں اور میدانِ سیاست میں غیر ذمہ دارانہ بیانوں اور بد زبانیوں نے معاشرے کی فضا کو بہت بوجھل کیا ہے۔ ایسے میں جموں سے اُبھری ایک خبر نے پورے ملک کو امید کی ایک نئی کرن دکھا ئی ہے۔یہ واقعہ صرف ایک متاثرہ خاندان کی مدد کی کہانی نہیں، بلکہ اُس بھارت کی زندہ تصویر ہے ،جو صدیوں سے محبت، بھائی چارے اور انسان دوستی کی بنیاد پر کھڑا ہے۔ یہ کہانی اس سرزمین کی اصل پہچان کا اعلان ہے، جہاں مذہب نہیں، دلوں کی کشادگی اور انسانیت کی خوشبو اہم ہوتی ہے، جسے پوری دنیا کشمیریت کے نام سے جانتی ہے۔
صحافی ارفاز احمد ڈینگ کا گھر پچھلے دنوں جب جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے بلڈوزروں کے سامنے ملبے کا ڈھیر بن گیا تو اس منظر نے صرف اس خاندان کو نہیں، پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ نوے ،پنچانوے سال کے بوڑھے والدین اور چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں والے خاندان کو، جو چالیس برس سے اسی گھر میں آباد تھا، بغیر پیشگی نوٹس اور بغیر کسی مہلت کے یوں سڑک پر لا کھڑا کرنا انصاف کے تمام تقاضوں کے منافی تھا۔ لیکن اس سخت ترین گھڑی میں، جس پیشانی سے انسانیت کی روشنی پھوٹی ہے، اس نے اس واقعے کی تلخی کو لوگوں کے لئے محبت اور اتحاد کے سبق میں بدل دیا ہے۔
یہ روشنی کلدیپ شرما اور ان کی شیر دل بیٹی تانیا شرما کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ ہندو پڑوسی، جنھوں نے نہ صرف ارفاز احمد کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا بلکہ وہ قدم اٹھایا، جس کی کسی سے توقع نہیں تھی۔ انہوں نے اپنے مسلمان پڑوسی کوپانچ مرلہ زمین گفٹ کر کے وہ مثال قائم کی ہے،جس کی بازگشت پورے ملک میں سنی جا رہی ہے۔اشکبار کلدیپ شرما کے الفاظ،’’یہ میرا بھائی ہے، اسے بے گھر نہیں رہنے دوں گا۔اگر یہ پانچ مرلہ بھی توڑا گیا تو میں دس مرلہ دوں گا۔ چاہے مجھے مانگ کر اس کا گھر بنانا پڑے، میں ضرور بناؤں گا۔‘‘یہ جملےبھارتی سماج کی اصل روح کی تصویر ہیں،وہ روح جو ایک طرف ظلم و ناانصافی سے نفرت کرتی ہے اور دوسری طرف معاشرے میں پھیلائی جا رہی مذہبی منافرت کا مقابلہ محبت کے ہتھیار سے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہی محبت ہے، جس نے وادی سے ہزاروں لوگوں کو صحافی ارفاز احمد کے خاندان کی مدد کے لئے کھڑا کر دیا ہے۔ کشمیر کے ایک تاجر نے کلدیپ شرما کے لئے مین شہر میںایک کنال زمین تحفے میں دینے کا اعلان کیا ہے۔کسی نے ڈل جھیل میں تیرنے والا ایک قیمتی شکارہ بطور تحفہ دینے کی پیش کش کی ہے۔ مختلف برادریوں، سماجی تنظیموں، سابق افسران، وکلا اور عام شہریوں نے ڈینگ خاندان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ یہ منظر کسی سیاسی ریلی کا نہیں، بلکہ دلوں کے میل ملاپ کا ہے۔ انسان انسان کے لئے کھڑاہے،ذات پات، مذہب وذہب سب پیچھے رہ گئے۔یہ لمحہ محض جذبات سے مغلوب نہیں بلکہ بھارت کی سماجی صحت کا ثبوت ہے۔ جب معاشرے کا ایک طبقہ کسی دوسرے طبقے کے ساتھ کی جارہی ناانصافی کے خلاف ڈھال بن کر کھڑا ہو جائے تو یہ صاف اشارہ ہوتا ہے کہ ملک کی روح ابھی زندہ ہے، اس میں باہمی محبت کی آگ ابھی گل نہیں ہوئی ہے۔
اس پورے واقعے نے کئی بڑے سوالات بھی کھڑے کیے ہیں،کیا صحافی ارفاز احمدکے چالیس سال پرانے مکان کو بلڈوز کرنا واقعی قانون کا معمولی عمل تھا؟ کیا اس مکان میں رہنے والے خاندان کو ایک نوٹس بھی دینا ضروری نہیں تھا؟ کیوں صرف ایک ہی گھر کو نشانہ بنایا گیا؟ یہ سوالات اپنی جگہ اہم ہیں اور حکومت کے ذمہ ہے کہ وہ ان کے جواب صاف شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھے تاکہ آئندہ ایسے معاملات میں شکوک و شبہات نہ پیدا ہوں۔لیکن اس وقت جو چیز سب سے زیادہ اہم ہے وہ یہ پیغام ہے کہ نفرت کے بازار جتنے بھی گرم کیوں نہیں ہوں، باہمی محبت ، رواداری اور صلہ رحمی کے جذبے سے معمور بھارت کی سرزمین کبھی بنجر نہیں ہو سکتی ہے۔
اس واقعے کا سب سے نمایاں پہلو وہ ہے، جس نےایک غیر انسانی عمل کے مقابلے میںآگے بڑھا کر پڑوسی کلدیپ شرما اور ان کی پیاری سی بیٹی تانیہ کو انسانی ہمدردی کی علامت بنا دیا۔انھوںنے ارفاز احمد کو پانچ مرلہ زمین گفٹ کر کے یہ واضح کر دیا کہ معاشرے کی اصل طاقت قانون کی سختی نہیں، لوگوں کے دلوں میں موجود انسانیت ہے۔ شرما کا یہ قدم نہ صرف متاثرہ خاندان کے لئے سہارا ثابت ہوا بلکہ یہ پورے ملک میں اس امید و یقین کو بھی تازہ دم کر دیا کہ اختلافِ مذہب یا شناخت سے بالاتر ہو کر بھی ہم ایک دوسرے کے غم میں برابر کےشریک ہو سکتے ہیں۔کلدیپ شرما اور بیٹی تانیہ کا یہ قدم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ گھٹیا سیاست کرنے والوں سے ملک کے عام لوگ بہت بڑے ہیں۔ نفرت کے سوداگروں سے ان کا کوئی رشتہ نہیں ہے۔ان کے نزدیک انسانیت کا سب سے اونچا مقام ہے۔یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ امید بظاہر کمزور محسوس ہو، مگر وہ زندہ ہو تو پہاڑ بھی ہلا سکتی ہے۔یقین ہے کہ جموں سے پھوٹنے والی محبت کی یہ ہلکی سی کرن، آنے والے دنوں میں پوری فضا کو روشن کرے گی۔ نفرت کےاسی اندھیرسے محبت کا سورج طلوع ہوکرعنقریب ہی پورے ملک پر چھا جانے کے لئے تیار ہے۔

