یہی وقت کا تقاضہ ہے

تاثیر 7 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

مغربی بنگال کے مرشدآباد میں ’’بابری مسجد‘‘ کے نام سے ایک نئی مسجد کے سنگِ بنیاد رکھنے کا واقعہ محض ایک مذہبی پیش رفت نہیں، بلکہ سیاسی فضا میں گہری دراڑیں پیدا کرنے والا قدم ہے۔ 6 دسمبر، جو پورے بھارت کے لئے بڑا ہی حساس دن ہوتا ہے، کو اس طرح کا قدم  دراصل سماجی ہم آہنگی کےلئے ایک نیا چیلنج بن کر ابھرا ہے۔ یہ وہی دن ہے جب 1992 میں ایودھیا میں بابری مسجد منہدم کی گئی تھی، اور ملک کا ایک بڑا طبقہ اسے آج بھی ایک قومی زخم کے طور پر یاد کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں ’’بابری مسجد‘‘ کے نام سے ایک نئی مسجد کی بنیاد کا اعلان کسی بھی صورت میں ایک خیرسگال قدم نہیںہے۔
یہ عمل ترینمول کانگریس سے نکالے گئے ایم ایل اے ہمایوں کبیر نے انجام دیا ہے۔ انھیں پارٹی نے ’’فرقہ وارانہ سیاست‘‘ کے الزام میں پچھلے دنوں برخاست کیا تھا۔ لیکن پتہ یہ چلتا ہے کہ ان کی سیاسی تاریخ میں بارہا جماعتیں بدلنا، متنازع بیانات دینا اور اپنی ہی پارٹی قیادت پر حملے کرنا شامل رہا ہے۔ ایسے شخص کا اچانک ’’بابری مسجد‘‘ کے نام پر مسجد کی بنیاد رکھنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مذہبی جذبات کو انتخابی سرمائے کے طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔اس پیش رفت نے بنگال میں سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ بی جے پی اسے ٹی ایم سی کی ’’منافقت‘‘ قرار دے رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ ممتا بنرجی نے صرف ظاہر داری کے لئے ہمایوں کبیر کو نکالا ہے، جبکہ اصل مقصد مسلم ووٹ بینک کو متحد رکھنا ہے۔ دوسری طرف ٹی ایم سی بی جے پی پر الزام لگا رہی ہے کہ مرکزی سطح پر ہندو پولرائزیشن کو تیز کرنے کے بعد اب وہ بنگال میں مسلم پولرائزیشن کو ہوا دے کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔
یہ الزام تراشی کا سلسلہ دراصل اس خوف کی عکاسی کرتا ہے کہ بنگال کی سیاست رفتہ رفتہ اسی فرقہ وارانہ ڈگر پر چل پڑی ہے، جس نے ملک کے کئی خطوں میں پہلے ہی سماجی تقسیم کو بڑھایا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ ایک ایسی ریاست، جس نے ہمیشہ اپنی ثقافتی ہم آہنگی، مشترکہ وراثت اور گنگاجمنی تہذیب پر فخر کیا ہے، اس میں ایسی پیش رفت کو کس نظر سے دیکھا جائے؟ کیا ’’بابری مسجد‘‘ کے نام پر مسجد کی تعمیر واقعی مذہبی ضرورت ہے؟ یا پھر یہ ایک سیاسی چال ہے، جس کا مقصد صرف ہندو اور مسلم ووٹوں کو علیحدہ خیموں میں دھکیلنا ہے؟  حقیقت یہی ہے کہ اس نام کا انتخاب شعوری طور پر اس لئے کیا گیا ہے کہ عوامی جذبات بھڑکیں اور سیاسی زمین مزید نرم ہو۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس منصوبے کو 300 کروڑ روپے کا ’’پروجیکٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے اس میں اسپتال، ہوٹل، پارک اور ہیلی پیڈ شامل کیے جانے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ بیان مذہبی ضرورت سے زیادہ سیاسی نمائش کا پتہ دیتا ہے۔ دوسری جانب ہمایوں کبیر کا یہ دعویٰ کہ ’’تین سے چار لاکھ لوگ‘‘ اس تقریب میں شریک ہوئے، ایک واضح مبالغہ آرائی ہے، جو ان کے سیاسی عزائم کو مزید بے نقاب کرتی ہے۔
بنگال کی سیاست میں مذہبی خطوط پر تقسیم کا رجحان ایک خطرناک موڑ لے سکتا ہے۔ ملک پہلے ہی نفرت، عدم برداشت اور مذہبی تنازعات کے زخموں سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں ہمایوں کبیر کا یہ قدم ریاستی امن، بھائی چارے اور سیاسی استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بنگال کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی تاریخی روایات،ربندر ناتھ ٹیگور، نذر الاسلام، قائد اعظم فضل الحق اور دیگر شخصیات کی مشترکہ وراثت،کو سامنے رکھتے ہوئے سیاست کو بانٹنے کے بجائے جوڑنے کا ذریعہ بنائے۔
آخری حقیقت یہی ہے کہ نہ تو مذہب کو سیاسی ہتھیار بنانا ملک کے لئے اچھا ہے اور نہ ہی حساس تاریخی ناموں کو جذبات بھڑکانے کے لئے استعمال کرنا۔ بنگال اور پورے ملک کو آج پولرائزیشن نہیں، امن، محبت اور بصیرت کی سیاست کی ضرورت ہے،وہ سیاست جو مسجد یا مندر کے ناموں پر نہیں، انسانوں کے مسائل پر کھڑی ہو۔یہ وقت ہے کہ بابری مسجد کے نام پر نہیں، امن اور بھائی چارے کے نام پر سیاست کی جائے، یہی وقت کا تقاضہ ہے۔