تاثیر 2 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
بہار کی سیاست عموماً رسہ کشی، بیان بازی اور اتحادی اتار چڑھاؤ کے لئے جانی جاتی ہے، مگر رواں خصوصی اجلاس کے دوران جو منظر سامنے آیا، اس نے نہ صرف پورے ایوان کو چونکا دیا بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ جمہوریت صرف عددی برتری کا کھیل نہیں بلکہ روایات، احترام اور شائستگی کا ایک مکمل ضابطہ ہے۔ 18ویں اسمبلی کے لئے اسپیکر کے انتخاب کے موقع پر کل وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے جو طرزِ عمل اختیار کیا، اس نے بہار کی سیاسی زمین پر ایک مثبت اور خوشگوار نقش چھوڑا ہے۔
روایتی طور پر اسپیکر کو ایوان کی صدراتی کرسی پر وزیر اعلیٰ اور قائدِ حزبِ اختلاف دونوں مل کر بٹھاتے ہیں۔ جب پروٹیم اسپیکر نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما ڈاکٹر پریم کمار کے نام کا اعلان کیا تو نتیش کمار دائیں جانب کھڑے تھے، جبکہ تیجسوی یادو بائیں سمت سے آ رہے تھے۔ پریم کمار جیسے ہی کرسی پر بیٹھنے لگے، وزیر اعلیٰ نے نہایت تہذیب سے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا، ’’ارے رکیے……!‘‘ گویا وہ چاہتے ہوں کہ اس تاریخی لمحے میں دونوں سیاسی دھڑوں کی برابری اور ایک دوسرے کے احترام کا پیغام پوری شدت سے جھلکے۔ تیجسوی یادو کے پہنچتے ہی نتیش کمار نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’اب بیٹھئے….!‘‘، اور دونوں نے مل کر پریم کمار کو ان کے منصب پر بٹھایا۔اس وقت ایوان میں ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے بھی گونج رہے تھے۔یہ منظر محض ایک رسمی کارروائی کا حصہ نہیں تھا، بلکہ اس نے اس بات کی تصدیق کی کہ اختلاف اپنی جگہ، مگر جمہوری اداروں کی حرمت اور روایات کا احترام ہر ایک سیاست سے بڑا ہے۔ یہ وہی لمحہ تھا جب تیجسوی یادو رام کرپال یادو کو گلے لگا رہے تھے اور اتحادی سیاست کے تمام نشیب و فراز کے باوجود ذاتی رویوں میں شائستگی اور تہذیب کا عکس برقرار تھا۔
اس موقع پر ڈاکٹر پریم کمار کا بلامقابلہ انتخاب اس بات کا عکاس ہے کہ بہار کی تمام سیاسی جماعتوں نے تجربے، وقار اور غیر جانب داری کو ترجیح دی ہے۔ یہ انتخاب نہ صرف ایک اتفاقِ رائے کی علامت ہے بلکہ آنے والے دنوں میں ایوان کی کارروائی کے شائستہ اور بامقصد ہونے کی امید بھی پیدا کرتا ہے۔ پریم کمار کئی دہائیوں کا پارلیمانی تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کی شخصیت خود اعتمادی، تحمل اور سب کے ساتھ برابری کے سلوک کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔اس موقع پر اپنے اولین خطاب میں انہوں نے گیتا کے شلوک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے جس تاریخی اکثریت سے ریاست کی قیادت پر اعتماد کیا ہے، اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کا یہ پیغام نہ صرف حکومت کے لئے بلکہ اپوزیشن کے لئے بھی واضح تھا کہ ایوان کا وقار، بحث و مباحثہ کی روایت اور مر یادہ سب کے لئے برابر اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے غیر جانب داری اور توازن کے ساتھ ایوان چلانے کا عزم کیا اور تمام اراکین سے تعاون کی امید ظاہر کی۔
حکومت کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ خصوصی اجلاس کئی پیغامات لیے ہوئے تھا۔ اوّل، یہ کہ نتیش کمار کی قیادت میں حکومت جمہوری روایات کے فروغ کی حامی ہے؛ دوم، یہ کہ حکومت اختلاف رائے کو دشمنی نہیں سمجھتی؛ سوم، یہ کہ سیاسی استحکام اور باہمی احترام ہی وہ بنیاد ہے، جس پر بہار کی ترقی، نظم و نسق اور فلاحی پالیسیوں کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے۔اسی اجلاس کے دوران نو منتخب اراکینِ اسمبلی کی حلف برداری نے بھی جمہوری عمل کے تسلسل کو تقویت دی۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ایک تجربہ کار اور سب کے لئے قابلِ قبول اسپیکر ایوان کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔
اس وقت جب ملک کے مختلف حصوں میں سیاسی دراڑیں گہری ہوتی دکھائی دے رہی ہیں، بہار اسمبلی میں سامنے آنے والا یہ منظر ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ یہ پیغام ہے کہ سیاست صرف اقتدار کی کشمکش نہیں بلکہ جمہوری کردار، روایات اور باہمی احترام کے زندہ رہنے کا نام ہے۔چنانچہ اس پورے عمل نے ایک بار پھر ثابت کیا ہےکہ جمہوری اداروں کی مضبوطی الزام تراشی یا ٹکراؤ سے نہیں بلکہ شفافیت، تعاون اور سیاسی بالغ نظری سے آتی ہے۔ اسپیکر کے انتخاب میں، جس شائستگی اور پارلیمانی وقار کا مظاہرہ ہوا، وہ یقیناً نئی حکومت کےلئے نیک شگون ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ باہمی احترام اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی یہی فضا آئندہ قانون سازی کے ہر مرحلے میں برقرار رہے گی اور حکومت کی پالیسیوں اور عوامی مفاد کے امور پر صحت مند گفتگو کا ماحول بھی مزید مضبوط ہوگا۔بہار نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ اختلاف رائے کے باوجود جمہوری اخلاقیات کو قائم رکھا جا سکتا ہے، اور یہی ایک مضبوط ریاست کی اصل پہچان ہے۔

