تغیر پذیر روایت: کس طرح بھارتی دستکاری جدید ڈیزائن کی شناخت قائم کر رہی ہے

از: جناب پبترا مارگریٹا

لمحے کو قید کرنے والا لمحہ
حال ہی میں آسام کے دیہی علاقوں میں صناعوں کے ایک کلسٹر کے دورے کے دوران، ایک سادہ سے نظر آنے والے منظر سے بھارت کے دستکاری کے ماحولیاتی نظام میں ایک زبردست تبدیلی کا انکشاف ہوا۔ متعدد صناع خشک جل کمبھی بنا رہے تھے، لیکن وہ اسے ان روایتی ٹوکریوں میں نہیں بُن رہے تھے جو ان کی برادری نے صدیوں سے بنائی تھیں، بلکہ کارپوریٹ بورڈروم کے لیے ڈیزائن کیے گئے شاندار آفس فولڈرس میں بُن رہے تھے۔ ان کے ہاتھ اسی پرانی تکنیک کواپناتے ہوئے، اسی رفتار میں حرکت رہے تھے۔ پھر بھی، مصنوعہ اور اس کا مقصد مکمل طور پر تبدیل ہو گیا تھا۔
اب جبکہ ہم 8 سے 14 دسمبر 2025 تک قومی دستکاری ہفتہ منا رہے ہیں، یہ منظر آج بھارت کے دستکاری کے منظر نامے میں ہر طرف پھیل رہے خاموش انقلاب کی علامت بن گیا ہے۔ ہماری زندہ دستکاری کی روایات اہم تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہیں۔ وہ نئی جگہوں، نئی منڈیوں اور نئے مستقبل میں داخل ہو رہی ہیں۔ مرکزی خیال کی حقیقت برقرار ہے جبکہ وسیلے اور بناوٹیں وہ شکل اختیار کر چکی ہیں جن کا ہم نے ایک دہائی قبل شاید ہی تصور کیا ہو۔
زندہ علمی نظام کے طور پر دستکاری
اس ارتقاء کو سمجھنے کے لیے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ہندوستان کی دستکاری کبھی بھی محض خوبصورتی کی اشیاء نہیں رہی۔ وہ زندہ علمی نظام ہیں جو ثقافتی شناخت اور برادری کی روایات میں گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ مدھوبنی میں، روایتی طور پر خواتین تہواروں، شادیوں اور ریتی رواج کے دوران تازہ پلستر شدہ مٹی کی دیواروں پر چاول کے پیسٹ کا استعمال کرتے ہوئے پینٹنگز تخلیق کرتی تھیں۔ مچھلی زرخیزی کی علامت ہے، مور محبت کی نمائندگی کرتا ہے، اور نقش نگاری دراصل انفرادیت کے بجائے اجتماعیت سے متعلق ہے۔ گونڈ کمیونٹی کے لیے، پینٹنگ کا عمل روحوں سے متعلق عقائد، قدرتی قوتوں اور حفاظتی روحوں سے منسلک ہے جن کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ وہ جنگلات میں رہتی ہیں۔ ان کا فن محض جمالیاتی نہیں ہے بلکہ زبانی روایت میں مضمر رسمی کائناتی ہے۔
عمل نے ہمیشہ بناوٹ کو شکل دی ہے۔ آسام میں جل کمبھی جو پانی میں اگنے والا اور تیزی سے پھیلنے والی گھاس ہے، اسے خشک کرکے گھر میں استعمال میں لائی جانے والی ٹوکریاں بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ کرناٹک میں، چنّاپٹنا کے سنہری روغن والی لکڑی کے کھلونے بچوں کے کھیلنے کی آسان چیزوں کے طور پر کام آتے تھے، جنہیں گذشتہ کئی پیڑھیوں سے خراد پر بنایا جاتا تھا۔ میڈیم، بناوٹ اور مرکزی خیال کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا تھا، جو خاص رسموں اور کام کے ماحول میں بندھے ہوئے تھے۔
روایت کا عصری اظہار میں داخل ہونا
آج جو کچھ سامنے آرہا ہے، وہ روایت سے الگ نہیں ہے، بلکہ اس کی توسیع ہے۔ مرکزی خیال، نمونے اور تکنیکات اب بھی پہچانے جا سکتے ہیں، پھر بھی ان کا استعمال عصر حاضر میں بہت زیادہ ہوگیا ہے۔ یہ تبدیلی صرف ایک نہیں بلکہ کئی طرح کی ہے۔ مدھوبن کی مچھلی، جو کبھی زرخیزی کی بڑی داستان کا حصہ تھی، اب گدے تکیوں، تھیلوں اور فون کے ڈبوں پر نظر آتی ہے، جسے نکال کر آج کے استعمال کے لیے دوبارہ رنگا جاتا ہے۔ گونڈ حیوانات و نباتات اپنے نمایاں رنگوں اور جیومیٹری کے ساتھ آج بھی اپنی دیومالائی داستانوں کے باہر بھی پسند کیے جاتے ہیں۔
تاہم، سب سے بڑی تبدیلی میڈیم میں ہے۔ جل کمبھی سے آج کارپوریٹ فولڈرز اور ڈیزائنر ہینڈ بیگ بنائے جاتے ہیں۔ مدھوبنی مٹی کی دیواروں سے لکڑی کے فرنیچر، ملبوسات اور چمڑے کے لوازمات میں تبدیل ہوگیا ہے۔ چنا پٹنا کی دستکاری، جو کبھی صرف کھلونے بنانے تک محدود تھی، اب وہ آرائشی نقشوں، فانوس، گھر کی سجاوٹ اور ڈیزائنر فرنیچر میں دکھائی دیتی ہے۔ روایتی سنہری روغن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، لیکن شکلیں نئے دور کے لحاظ سے تبدیل گئی ہیں۔ یہ موافقت ہے، کمزوری نہیں۔
دستکاری پر مبنی بھارتی فیشن بھی عالمی اسٹیجوں پر ایک مخصوص شناخت بن چکا ہے، جس میں پیرس ہاؤتے کاؤچر ویک میں روایتی کشیدہ کاری دکھائی گئی۔ نیشنل گیلری آف وکٹوریہ کے ’’ٹرانسفارمنگ ورلڈس‘‘ جیسے میوزیم اب صرف ایتھنوگرافک کانٹیکسٹ کے بجائے عصری آرٹ مکالموں میں گونڈ، مدھوبنی اور ان کے ماڈرن اڈاپٹیشن دکھاتے ہیں۔
قیادت اور سرکاری اقدامات اس تغیر کو آگے بڑھا رہے ہیں
اس تغیر قومی قیادت اور حکمت عملی پر مبنی سرکاری اقدامات سے اہم تعاون حاصل ہوا ہے۔ عزت مآب وزیر اعظم کی قیادت نے اس تحریک کو غیر معمولی رفتار فراہم کی ہے۔ ان کے ’ووکل فار لوکل‘ اور ’لوکل ٹو گلوبل‘ جیسے بارہا دوہرائے جانے والے واضح نعرے ہمارے صناعوں کے لیے گہری محبت کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہ شہریوں سے ہمیشہ مقامی اشیاء خریدنے کی اپیل کرتے ہیں، اور وہ خود بھی کہتے ہیں کہ ’’جب ہم ایسا کرتے ہیں، تو ہم محض اشیاء نہیں خریدتے؛ بلکہ ہم ایک کنبے کے لیے امید لے کر آتے ہیں، ایک صناع کی محنت کو اعزاز دیتے ہیں اور نوجوان صنعت کاروں کے خوابوں کو پرواز عطا کرتے ہیں۔‘‘ ان کے حالیہ ’’من کی بات ‘‘ خطاب میں، انہوں نے بتایا کہ کس طرح وہ عالمی قائدین کے ساتھ میٹنگ کے دوران ہاتھ سے تیار شدہ بھارتی مصنوعات شعوری طور پر پیش کرتے ہیں، اور اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ بھارت کا مالامال دستکاری کا ورثہ ان کے ساتھ دنیا بھر میں پہنچے۔انہوں نے کہا کہ یہ محض علامت نہیں ہے، بلکہ بھارت کی فنکارے کے ورثے کی نمائش کا ، اور اس امر کو یقینی بنانے کا ایک طریقہ ہے کہ ہمارے صناعوں کی صلاحیت کو عالمی سطح پر پہچان حاصل ہو۔
حکومت کے مختلف اقدامات اس تبدیلی کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ٹیکسٹائل کی وزارت ڈیولپمنٹ کمشنر (دستکاری) کے توسط سے دستکاری کے کاریگروں کو ہنر مندی ترقیات، کلسٹر پر مبنی تربیتی پروگرام، مارکیٹنگ سپورٹ، بنیادی ڈھانچے اور تکنالوجی تعاون، قرض امداد، وغیرہ کے ذریعے قومی دستکاری ترقیاتی پروگرام (این ایچ ڈی پی) کے تحت براہ راست مدد فراہم کر رہی ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹکنالوجی (این آئی ایف ٹی) نے ہندوستان بھر میں اپنے 19 کیمپسز کے ذریعے کاریگروں اور عصری ڈیزائنروں کے درمیان رابطہ قائم کیا ہے، جس سے روایت سے جڑی ڈیزائن کی جدت طرازی کے لیے ایک ہموار راستہ بنایا گیا ہے۔ جغرافیائی اشاروں کی رجسٹری نے 366 سے زیادہ دستکاری کو محفوظ کیا ہے، کمیونٹی کے علم کی حفاظت اور ان کی صحیح پہچان کو یقینی بنایا ہے۔
آسام، یعنی وہ ریاست جہاں سے میرا تعلق ہے، وہاں روایتی دستکاری کو حالیہ جی آئی رجسٹریشنوں کے ذریعہ پہچان حاصل ہوئی ہے، جس میں سارتھیباری میٹل کرافٹ، ماجولی ماسک، بیہو ڈھول، جاپی، پانی میٹیکا، اشاری کنڈی ٹیراکوٹا اور بوڈو برادری کی متعدد دستکاری مصنوعات شامل ہیں۔ہر رجسٹریشن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آسام اور بھارت کے مختلف علاقے دہائیوں تک نظرانداز کیے جانے کے بعد آج قومی پلیٹ فارم پر نیا مقام حاصل کر رہے ہیں۔
وکست بھارت کے لیے ایک فعال اور ارتقا پذیر ورثہ
بھارت کی دستکاری کے ارتقا کا سب سے بڑا سبق یہ ہے: روایت جامد نہیں ہے۔ یہ اپناتی ہے، جذب کرتی ہے، اور ترقی کرتی ہے۔ گھروں میں استعمال ہونے والی ٹوکریوں سے لے کر عالمی لوازمات تک جل کمبھی کا سفر ہماری صناع برادریوں کی مضبوطی اور تخلیقی صلاحیتوں کی علامت ہے۔ اب جبکہ بھارت 2047 تک اپنے وکست بھارت کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی جانب آگے بڑھ رہا ہے، دستکاری کا شعبہ وراثت اور اختراعات، دیہی روزی روٹی اور عالمی امنگ، شناخت اور جدیدیت کے ایک طاقتور سنگم پر کھڑا ہے۔اب جبکہ یہ تحریک رفتار پکڑ رہی ہے، ایسے میں ہمارا یہ مشترکہ فرض بنتا ہے کہ ہم اس امر کو یقینی بنائیں کہ ہر کاریگر کو بااختیار بنایا جائے اور ہر روایت پروان چڑھتی رہے۔ ہندوستان کی دستکاری کا ورثہ محض یادگار کے طور پر زندہ نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہماری شناخت کے زندہ اظہار کے طور پر پروان چڑھنا چاہیے۔ جب بھی کوئی گھرانہ مقامی اشیاء کا انتخاب کرتا ہے، جب بھی کوئی ڈیزائنر دستکاری کلسٹر کے ساتھ شراکت قائم کرتا ہے، ہم آتم نربھر بھارت کے جذبے کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اور یہی وہ مضبوط اور تخلیقی ہاتھ ہیں جو صدیوں پرانی حکمت سے جڑے ہیں، اور یہی ہاتھ آنے والی پیڑھیوں کے لیے بھارت کا راستہ روشن کریں گے۔
****
(قلم کار کپڑے کی صنعت اور امور خارجہ کے وزیر مملکت ہیں)