تاثیر 20 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حالیہ فارما پالیسی، جن میں نو بڑی دوا کمپنیوں کے ساتھ قیمتوں میں کمی کی ڈیل شامل ہے، نےعالمی دوا بازار میں ہلچل پید اکر دی ہے۔ ٹرمپ نے اپنی ’’امریکہ فرسٹ‘‘ پالیسی کے تحت یہ دعویٰ کیا ہے کہ امریکی شہری اب دنیا کی سب سے سستی دوائیں حاصل کریں گے اور اس کے لئے’’موسٹ فیورڈ نیشن‘‘ پرائسنگ کا ماڈل اپنایا جا رہا ہے۔ اس ڈیل سے جن کمپنیوں نے اظہارِ اتفاق کیا ہے، ان میں ایمجین، برسٹل مائرز سکویب، گیلڈ، جی ایس کے، سانوفی اور نووارٹس وغیرہ ِ شامل ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق ان کمپنیوں نے چندمنتخب دوائیوں کی قیمتوں میں 70 فیصد تک کمی لانے پر اپنی رضامندی ظاہر کی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ’’ ٹرمپ آر ایکس‘‘‘ نامی نئی ویب سائٹ کے ذریعے یہ دوائیں عوام کو دستیاب ہوں گی۔ اس پالیسی کو امریکی مینوفیکچرنگ کے فروغ سے جوڑا گیا ہے۔ تاہم، یہ اقدامات صرف امریکہ تک محدود نہیں ہیں، ان کا اثر عالمی سپلائی چین، بالخصوص بھارت کی جینیریک دوا صنعت پر بھی پڑے گا۔
ٹرمپ کی پالیسی کا بنیادی مقصد امریکی شہریوں کو مہنگی دوائیوں سے نجات دلانا ہے۔ امریکہ میں دوائیں دیگر امیر ملکوں کے مقابلے میں تین گنا مہنگی ہیں۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ یہ ڈیل لاکھوں مریضوں کو ریلیف دے گی۔ کمپنیوں نے نہ صرف قیمتوں میں کٹوتی پر اتفاق ظاہر کیا ہے بلکہ میڈیکیڈ پروگرام کے لئے مفت دوائیں بھی فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، 150 ارب ڈالر سے زائد کی تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری اور تین سال کی ٹیرف چھوٹ بھی اس ڈیل کا حصہ ہے۔ دوا کمپنیوں کا موقف ہے کہ مہنگی قیمتیں تحقیق کےلئے ضروری ہیں، مگر ٹرمپ کی دھمکی آمیز ٹیرف پالیسی نے انہیں مجبور کر دیا ہے۔ نتیجتاً، کئی کمپنیوں کے شیئرز میں اضافہ دیکھا گیا، جو مارکیٹ کے مثبت ردعمل کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت کے تناظر میں، ٹرمپ کی یہ نئی فارما پالیسی ایک دو دھاری تلوارکی مانند ہے۔ بھارت دنیا کا سب سے بڑا جینیریک دوائیں برآمد کرنے والا ملک ہے۔ امریکہ اس کی 50 فیصد جینیریک دوائیں بھارت سے درآمد کرتا ہے، خاص طور پر دائمی امراض کی دوائیں۔ ٹرمپ کی پالیسی میں غیر ملکی حکومتوں پر ٹیرف کے ذریعے دباؤ ڈالنے کا عنصر شامل ہے، جو بھارتی برآمدات کو متاثر کر سکتا ہے۔ اگر امریکہ بین الاقوامی قیمتوں کی بنیاد پر اپنی قیمتیں کم کرے گا تو بھارتی کمپنیوں کو کم مارجن پر کام کرنا پڑے گا۔اس کے سبب منافع کم ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ امریکی پیداوار کو فروغ دینے کی پالیسی بھارتی سپلائی چین کو کمزور کر سکتی ہے۔چنانچہ یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے بھارتی کمپنیاں اپنی برآمدات کم کر سکتی ہیں، جو بھارتی معیشت کے لئے نقصان دہ ہوگا، کیونکہ فارما سیکٹر بھارت کی جی ڈی پی کا اہم حصہ ہے۔
حالانکہ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ یہ پالیسی مواقع بھی لائے گی۔ بھارت کی دوا صنعت اپنی کم لاگت اور اعلیٰ معیار کی وجہ سے عالمی سطح پر مضبوط ہے۔ ٹرمپ کی پالیسی اگر قیمتوں کو کم کرے گی تو یہ بھارتی جینیریک دوائیوں کی طلب کو مزید بڑھا سکتی ہے، کیونکہ امریکہ اب بھی سستی سپلائی کے لئے بھارت پر منحصر رہے گا۔ بھارتی کمپنیاں تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری بڑھا کر ایسی نئی دوائیں تیار کر سکتی ہیں، جو امریکی مارکیٹ پوری طاقت کے ساتھ کھڑی ہو سکے۔ساتھ ہی بھارت روس، نیدرلینڈز اور برازیل جیسی نئی مارکیٹوں کی طرف بھی رخ کر سکتا ہے۔ ٹرمپ کی نئی فارما پالیسی بھارت کو امریکہ کے ساتھ تجارت پر مبنی بات چیت کو مضبوط کرنے کا موقع بھی دے گی، جہاں دونوں ملک ٹیرف کی بجائے باہمی فوائد پر توجہ دے سکتے ہیں۔اپنی بھارتی حکومت کو چاہیے کہ وہ فارما ایکسپورٹ کونسل کے ذریعے لابنگ کرے اور نئی ٹیکنالوجیز جیسے بایو سیمیلرز میں سرمایہ کاری کرے۔
مجموعی طور پر، ٹرمپ کی فارما پالیسی امریکہ کے لئے ایک کامیابی ہے مگر عالمی تجارت کو بھی ایک نئی شکل دے گی۔ بھارت کےلئے یہ چیلنج ہے کہ وہ اپنی صنعت کو مزید مؤثر بنائے۔اس کے علاوہ مواقع کا اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کم قیمتوں کی عالمی لہر کے دوران بھارت کا کردار مرکزی رہے گا۔ اگر بھارت حکمت عملی سے کام لے تو یہ پالیسی اس کی معاشی ترقی کو مزید تیز کر سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ملک بات چیت کے ذریعے باہمی مفادات کا تحفظ فراہم کریں، تاکہ دوا کی رسائی ہر ایک کے لئے ممکن ہوسکے۔
***********

