یوکرین میں ٹرمپ کے امن تجویز پر روس سے بات نہیں بن سکی

تاثیر 3 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

ماسکو، 3 دسمبر (ہ س)۔ امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور جیریڈ کشنر وفد کے ساتھ روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے مل کر وطن واپس آ رہے ہیں۔ ٹرمپ کے یوکرین میں قیام امن کی تجویز لے کر پہنچے وٹکاف و دیگر نے پوتن سے تقریباً 5 گھنٹے تک بات چیت کی۔
فی الحال دونوں کے درمیان جنگ رکنے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ وفد کی روس سے بات نہیں بن سکی۔امریکہ کے سی بی ایس نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق، بات چیت ختم ہونے کے بعد اس پیش رفت پر پہلا ردعمل پوتن کے اعلیٰ معاون یوری اوشاکوف نے دی۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین امن کی تجویز پر ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی تجویز پر غور کرنے کے لیے میٹنگ تقریباً 5 گھنٹے تک چلی۔ یہ میٹنگ ویک اینڈ میں فلوریڈا میں امریکی اور یوکرینی افسران کے درمیان ہوئی بات چیت کے فوراً بعد ہوئی۔یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ بات چیت مفید ضرور رہی، لیکن یوکرین میں لمبے وقت سے چل رہے علاقائی مسائل پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ علاقائی مسائل روس کے لیے ہی نہیں، امریکیوں کے لیے بھی سب سے ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا ہے، لیکن کچھ امریکی تجاویز کم و بیش ٹھیک لگ رہی ہیں، لیکن ان پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ کچھ طریقے جو ہمیں سجھائے گئے، وہ ہمیں ٹھیک لگتے ہیں۔