اتحاد و استحکام ہی کامیابی کی کنجی ہے

تاثیر 12 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بہار کاانتخابی دھوم دھڑاکا کب کا ختم ہو چکا ہے۔202 سیٹوں والی این ڈی اے حکومت نے ریاست کی کمان سنبھال لی ہے۔نتیش کمار دسویں بار وزیراعلیٰ بن گئے ہیں، تاہم اب بھی بہار کی سیاسی ہوا میں عجیب سی بے چینی محسوس ہو رہی ہے۔ جیت کا جشن ابھی ٹھنڈا بھی نہیں ہوا ہے کہ اتحادیوں کے بیانات نے بہار کی سیاسی ہوا کو ایک بار پھر گرم کر نا شروع کر دیا ہے۔ بی جے پی کوٹہ کے وزیر صحت منگل پانڈے لالو خاندان کی اندرونی لڑائی کا ڈھنڈھورا پیٹنے میں لگے ہیں۔جے ڈی یوکے  سینئر لیڈر اور پارٹی کے ریاستی ترجمان نِیرج کمار نے مہاگٹھ بندھن کے 17-18 اراکین کے ’’رابطے میں ہونے‘‘کا دعویٰ کر کے ریاست کی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اور اُدھر آر جے ڈی کے پرانے ساتھی شیوانند تیواری نے اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کو ان کی شادی کی سالگرہ کی مبارکباد ینے کے ساتھ ان کی قیادت پر طنز کا تیر چلا کر مہاگٹھ بندھن کی بنیادی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ سب کچھ ایک ساتھ ہو رہا ہے تو یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ    اسمبلی انتخابات کی واضح فتح و شکست کے بعد بھی ریاست میں آخر یہ بے سکونی کیوں ہے؟
دراصل یہ بہار کی سیاست کا یہ پرانا مزاج ہے۔ یہاں جیت بھی مکمل نہیں ہوتی اور ہار بھی ادھوری رہتی ہے۔ 202 سیٹوں کی اکثریت کے باوجود این ڈی اے کے اندر بی جے پی اور جے ڈی یو کی طاقت کی کشمکش ختم نہیں ہوئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ نتیش کمار جب تک اقتدار میں ہیں، بی جے پی کو لگتا ہے کہ بہار میں اس کی اپنی حکومت نہیں، ایک ’’کرائے کی حکومت‘‘ ہے۔ اسی لئے وزیر منگل پانڈے جیسے بیانات دراصل وزیر اعلیٰ نتیش کے سامنے بی جے پی کی طاقت کو ظاہر کرنے جیسے ہیں۔وہ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بی جے پی پارٹی کیا، گھر میں بھی انتشار پیدا کر سکتی ہے۔وہ دبی زبان میں شاید یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ اگر مہاگٹھ بندھن ٹوٹ سکتا ہے تو جے ڈی یو میں بھی ایسا کچھ ہو سکتا ہے۔مانا جا رہا ہے کہ یہ سیاسی دباؤ کی پرانی بہاری چال ہے۔
دوسری طرف گٹھ بندھن کی حالت واقعی تشویش ناک ہے۔ تیجسوی یادو نے 2020 سے 2025 تک پانچ سال میں جو سیاسی قد کاٹھ بڑھایا تھا،حالیہ انتخابی ہار نے اسے ایک جھٹکے میں زمین پر لا دیا ہے۔ شیوانند تیواری کا طنز، خواہ وہ کتنا ہی ذاتی کیوں نہ ہو، پارٹی کے اندر موجود بڑھتی ہوئی بے چینی کی علامت ہے۔ لالو یادو کی صحت، تیج پرتاپ کی بے وقت کی بولی، اور میسا بھارتی و روہنی آچاریہ کے درمیان چپقلش،ان سب عوامل نے مل کر آر جے ڈی کو ایک خاندانی ڈرامہ پارٹی جیسا بنا دیاہے۔ نیرج کمار کا دعویٰ خواہ من گھڑت ہی کیوں نہ ہو، لیکن اس نے مہاگٹھ بندھن کے اراکین کے دل میں یہ خوف ضرور ڈال دیا ہوگا کہ کوئی تو سچائی ہوگی، ورنہ اتنا بڑا دعویٰ بھلا کوئی کیوں کرے گا ؟
تاہم آر جے ڈی کے جنرل سیکریٹری اور پارٹی کے ریاستی ترجمان چترنجن گگن کی طرف سے جو فوری ردعمل سامنے آیا ہے، اس پر خوب چرچا ہو رہا ہے۔ انہوں نے صحیح کہا کہ 17-18 اراکین توڑنے کے لئے تین مختلف جماعتوں (آر جے ڈی، کانگریس اور بایاں محاذ) میں سیندھ ماری کرنی ہوگی، جو عملی طور پر بہت آسان نہیں ہے۔ یہ ردعمل بتاتا ہے کہ مہاگٹھ بندھن ابھی اندر سے کمزور نہیں ہوا ہے۔ اس کے اندر اب بھی لڑنے کا حوصلہ باقی ہے۔ویسے دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوںخیموں کے بیانات ایک دوسرے کے آئینہ دار ہیں۔ جے ڈی یو اور بی جے پی ایک دوسرے کے اندرونی تنازعات کو چھپانے کے لئے مہاگٹھ بندھن پر حملہ کر رہے ہیں، جبکہ مہاگٹھ بندھن اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے این ڈی اے کی اتحادی لڑائی کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔ حقیقت شاید درمیان میں کہیں کھڑی ہے۔
اس سیاسی ایپی سوڈ کی سب بڑی سچائی یہ ہے کہ بہار کے عوام اس سیاسی تماشے کو خاموشی سے دیکھ رہے ہیں۔ مہاگٹھ بندھن اگر اندرونی اختلافات کو کنٹرول نہ کر سکا تو 2029 کے لوک سبھا انتخابات میں اس کی واپسی مشکل ہو جائے گی، جبکہ این ڈی اے کو اپنی اتحادی اکائی کو مضبوط کرکے اپنی پوری توانائی بہار کو بنانے اور سنوارنے میں صرف کرنی ہوگی۔ ابھی بہار کے سیاسی گلیاروں میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے ، وہ عوام کی نظر میں محض سیاسی ڈرامہ ہے، جو بنیادی مسائل جیسے غربت، بے روزگاری اور انفراسٹرکچر کی بجائے قیادت کی لڑائیوں پر مرکوز ہے۔الغرض ، بہار کی سیاست کو مستحکم کرنے کے لئے تمام جماعتوں کو عوامی ایجنڈے پر واپس آنا ہوگا۔ اگر یہ ہلچل جاری رہی تو ظاہر ہے نئی حکومت کی توجہ منقسم ہو جائے گی۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کےر یاست ترقی کی راہ سے ہٹ جائے گی۔ بہار، جو ہمیشہ سے سیاسی جدوجہد کا مرکز رہا ہے، اب ایک ایسے دور میں ہے، جہاں اتحاد اور استحکام ہی اس کی کامیابی کی کنجی ہے۔
*******************