
ڈاکٹر جتیندر سنگھ
مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم، وزیرِ مملکت برائے وزیرِ اعظم دفتر، محکمۂ ایٹمی توانائی، محکمۂ خلاء، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن
جب مانسون پہلی بار دکن کی سرزمین کو چھوتا ہے تو بے شمار ننھی ندی نالیاں آپس میں جڑ کر دریا بن جاتی ہیں۔ پانی کو قوت میں بدلنے کے لیے گرج چمک ضروری نہیں ہوتی، اصل طاقت صبر آزما شمولیت میں ہوتی ہے، نالے سے نالا، گاؤں سے گاؤں، یہاں تک کہ بہاؤ اتنا مضبوط ہو جاتا ہے کہ کسی شہر کو روشن کر دے۔ ایٹم کے ساتھ ہندوستان کا سفر بھی کچھ ایسا ہی رہا ہے: سائنس کی خاموش نہریں دہائیوں میں یکجا ہوئیں اور آج ایک ایسے دریا کی صورت اختیار کر چکی ہیں جو آدھی رات کو ڈیٹا سینٹر کو توانائی دے سکے، دوپہر میں خوراک کو محفوظ بنا سکے اور شام تک کسی معالج کو ایک بچے کی جان بچانے میں مدد دے سکے۔
شانتی بل—یعنی پائیدار انداز میں جوہری توانائی کے استعمال اور ہندوستان کی تبدیلی کے لیے ترقی (2025) کے تعارف کے ساتھ ہم اس دریا کے لیے ایسا پاٹ بنا رہے ہیں کہ یہ بہاؤ ہر اس گھر، صنعت اور ادارے تک پہنچے جسے قابلِ اعتماد، صاف توانائی اور زندگی کو بہتر بنانے والی ایجادات درکار ہیں۔
اس لمحے کی اہمیت سمجھنے کے لیے پس منظر سے آغاز ضروری ہے۔ 2014 سے پہلے ہندوستان کا جوہری ڈھانچہ دو الگ قوانین پر قائم تھا: ایٹمی توانائی ایکٹ 1962، جو ترقی اور کنٹرول کی رہنمائی کرتا تھا اور جوہری نقصان کی شہری ذمہ داری ایکٹ 2010، جو بلاقصور معاوضے کا نظام فراہم کرتا تھا۔ دونوں اپنے وقت کے تقاضوں کے مطابق تھے، مگر وہ اس دور کی عکاسی بھی کرتے تھے جب جوہری صلاحیت بنیادی طور پر ریاستی کاوش سمجھی جاتی تھی اور صنعت، مالیات، بیمہ، اسٹارٹ اپس اور اعلیٰ تحقیق کے لیے شمولیت کے راستے محدود تھے۔ شانتی ان دھاروں کو یکجا کرتا ہے، دونوں قوانین کو منسوخ کر کے ایک جدید، واحد قانونی ڈھانچہ قائم کرتا ہے، جس کے ذریعے ہمارے نگران ادارے ایٹمی توانائی ریگولیٹری بورڈ کو آئینی حیثیت دی جاتی ہے، کردار اور ذمہ داریاں واضح کی جاتی ہیں اور حساس امور حکومت کے پاس محفوظ رکھتے ہوئے عوامی و نجی شراکت کے ذمہ دارانہ راستے کھولے جاتے ہیں۔
موازنہ بتاتا ہے کہ دریا کتنا پھیل چکا ہے۔ گزشتہ دہائی میں ہندوستان نے جوہری ایندھن کے پورے سلسلے میں خود انحصاری حاصل کی اور پروگرام کو ذمہ داری سے آگے بڑھایا، اب ہم توسیع کے لیے تیار ہیں، 2047 تک 100 گیگاواٹ جوہری صلاحیت کے قومی ہدف کی سمت، تاکہ مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، مقامی سیمی کنڈکٹر تیاری اور بڑے پیمانے کی ڈیٹا تحقیق کے لیے قابلِ اعتماد بنیادی توانائی میسر آئے۔ یہ بل اسی تیاری کو ضابطے میں ڈھالتا ہے: متحدہ لائسنسنگ اور حفاظتی اجازت ناموں کا نظام قائم کرتا ہے، آپریٹرز کے لیے درجہ بہ درجہ ذمہ داری مقرر کرتا ہے، بڑے ری ایکٹروں کے لیے 3,000 کروڑ روپے تک، اور چھوٹے ری ایکٹروں و ایندھن سہولتوں کے لیے 100 کروڑ روپے تک، تاکہ چھوٹے ری ایکٹرز اور چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز جیسی اختراعات مناسب تحفظات کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ اس کے علاوہ جوہری ذمہ داری فنڈ قائم کیا جاتا ہے اور بین الاقوامی اضافی معاوضہ کنونشن سے رجوع کی گنجائش دی جاتی ہے، کیونکہ ہمدردی بھی ٹیکنالوجی کی طرح قابلِ توسیع ہونی چاہیے۔
حقیقی تبدیلی وہ ہے جسے عام شہری محسوس کرے۔ صحت کے شعبے میں جوہری طب وعدے سے عمل میں آ چکی ہے: بچوں کے خون کے سرطان اور پروسٹیٹ کے سرطان کے لیے ہدفی علاج اب ٹاٹا میموریل جیسے مراکز سے فراہم ہو رہے ہیں، جہاں آئسوٹوپس شفا کے آلات بن چکے ہیں۔ ہم نے ایک دہائی میں خاصی پیش رفت کی ہے، اب تحقیق کے راستے مزید کھول رہے ہیں تاکہ اہل نجی ادارے قومی صلاحیت میں اپنی ذہانت شامل کر سکیں۔ خوراک اور زراعت میں شعاعی ٹیکنالوجیز پہلے ہی پیداوار کو محفوظ بنانے، مدتِ استعمال بڑھانے اور سلامتی یقینی بنانے میں مدد دے رہی ہیں، شانتی شعاعی سہولتوں اور آلات کو تسلیم کر کے ان کے روزمرہ استعمال، چاہے اسپتال کے علاجی حصے میں ہوں یا کسی فیکٹری کی معیار لائن میں—کے لیے وضاحت اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔
چند اصطلاحات کی وضاحت ضروری ہے۔ ’’جوہری واقعہ‘‘ ایسا واقعہ (یا اس سے جڑی سلسلہ وار صورتِ حال) ہے جو جوہری نقصان کا سبب بنے یا مناسب احتیاط کے باوجود اس کا سنگین اور فوری خطرہ پیدا کرے۔ ’’جوہری نقصان‘‘ پہلے سے زیادہ وسیع مفہوم رکھتا ہے: جان کا نقصان یا چوٹ (طویل مدتی صحت کے اثرات سمیت)، املاک کا نقصان، ماحول کی بحالی کے اخراجات، ماحول کے استعمال سے منسلک آمدنی کا نقصان اور روک تھام و تخفیف کے اقدامات کے اخراجات۔ ’’حفاظتی اجازت نامہ‘‘ اے ای آر بی کی تحریری اجازت ہے، یہی وہ بنیاد ہے جو یقینی بناتی ہے کہ شعاعی آلات، ریڈیو آئسوٹوپس اور وہ سہولتیں جہاں افراد کو آئنائزنگ شعاعوں کا سامنا ہوتا ہے، ان کی ڈیزائننگ، مقام، آپریشن اور برطرفی، ہمیشہ سلامتی کو اولیت دینے والے معیار کے تحت ہو۔
سلامتی کوئی نعرہ نہیں، یہ اعداد و معمولات پر قائم ایک نظم ہے۔ ہندوستان کے فعال پلانٹس کی تعمیر کے دوران ہر تین ماہ اور آپریشن کے دوران ہر چھ ماہ معائنہ ہوتا ہے، لائسنسز کی تجدید ہر پانچ سال بعد ہوتی ہے، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی ہمارے پیمانوں کا تقابل کرتی ہے اور اے ای آر بی کی آئینی حیثیت اسے مزید مؤثر بناتی ہے۔ شعاعی مقدار مائیکرو سیورٹس میں ناپی جاتی ہے: عوام کے لیے سالانہ حد 1,000 مائیکرو سیورٹس ہے، جبکہ ہمارے اسٹیشنوں کے اخراج اس سے بہت کم ہیں: مثلاً کوڈنکلم میں تقریباً 0.002 اور تاراپور میں،0.2 جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ڈیزائن اور آپریشن خوراک کو حد سے کہیں نیچے رکھتے ہیں۔ زلزلہ جاتی بصیرت بھی شامل ہے: مشرقی اور مغربی ساحلی مقامات بلند خطرے والے علاقوں سے سینکڑوں سے لے کر ہزار کلو میٹر سے زائد فاصلے پر منتخب کیے گئے ہیں، کیونکہ جغرافیہ بھی سلامتی کے انجینئرنگ کا حصہ ہے۔
تو شہری کی روزمرہ زندگی میں کیا بدلے گا؟
اول: ایسی بجلی جس پر بھروسہ ہو، چوبیس گھنٹے، کم کاربن اور موسم کی محتاج نہیں۔ جب کسی ٹیکسٹائل کلسٹر کے توانائی مرکب میں ایک چھوٹا ماڈیولر ری ایکٹر شامل ہوتا ہے تو لومز اور روزگار مستحکم ہوتے ہیں، جب کسی ضلع اسپتال کو تصویربرداری، شعاعی علاج اور ڈیجیٹل ریکارڈز کے لیے بلا تعطل بجلی ملتی ہے تو مریض کی بے چینی صرف اُس انتظار تک محدود رہتی ہے جسے کوئی قانون ختم نہیں کر سکتا۔ شانتی کی درجہ بہ درجہ ذمہ داری چھوٹے سرمایہ کاروں کی راہ میں رکاوٹیں کم کرتی ہے، جبکہ متحدہ قواعد ڈیزائن سے آپریشن تک کے سفر کو سادہ بناتے ہیں۔
دوم: خرابی کی صورت میں بہتر داد رسی۔ یہ بل ایٹمی توانائی داد رسی مشاورتی کونسل قائم کرتا ہے، جس میں اے ای سی کے چیئرپرسن، بارک کے ڈائریکٹر، اے ای آر بی کے چیئرمین اور مرکزی بجلی اتھارٹی کے چیئرمین شامل ہیں تاکہ نظرِ ثانی کی درخواستیں سنی جائیں اور فنی گہرائی کے ساتھ مصالحت ممکن ہو۔ مطلع شدہ واقعے کے تیس دن کے اندر دعویٰ کمشنرز نامزد کیے جاتے ہیں تاکہ معاوضہ فوری طور پر طے ہو اور سنگین معاملات میں حکومت کو جوہری نقصان دعویٰ کمیشن قائم کرنے کا اختیار ہے، نیم عدالتی اختیارات کے ساتھ، جو شہری عدالتوں کے نمونے پر مگر قدرتی انصاف کی روح کے تحت، رفتار اور حساسیت کے ساتھ کام کرے۔ یہ ہنگامی حالات کے لیے انجینئر کی گئی انصاف رسانی ہے۔
سوم: محفوظ اور شفاف ماحولیاتی نظام۔ محدود معلومات کی دفعات حساس ڈیٹا۔ مقامات، مواد، ڈیزائن، کا تحفظ کرتی ہیں، مگر سلامتی سے متعلق جائز عوامی رابطے کو روکتی نہیں۔ افزودگی، استعمال شدہ ایندھن کی ری پروسیسنگ، بھاری پانی کی پیداوار اور آئسوٹوپ علیحدگی پر حکومت کا خصوصی اختیار برقرار رہتا ہے، تمام استعمال شدہ ایندھن کو ٹھنڈا کر کے بالآخر حکومتی تحویل میں واپس دیا جاتا ہے، نجی آپریٹرز کے ہاتھ میں نہیں، یوں طویل مدتی نگہداشت ایک ریاستی فریضہ رہتی ہے۔ ساتھ ہی تحقیق، ڈیزائن اور اختراع کو لائسنسنگ سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے (سلامتی اور قومی تحفظ کی شرائط کے ساتھ) تاکہ اسٹارٹ اپس اور جامعات نمونے، سینسرز، مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی اور جدید مواد پر کام کر سکیں جو ری ایکٹروں کو مزید محفوظ اور شعاعی استعمال کو زیادہ دقیق بناتے ہیں۔
ہم نے قریبی شعبوں سے بھی سیکھا ہے۔ پانچ برس قبل خلاء کے شعبے کو نجی شراکت کے لیے کھولا گیا تو ایک نوخیز معیشت 8 ارب ڈالر تک پہنچی، 300 سے زائد اسٹارٹ اپس کے ساتھ اور ایک دہائی میں پانچ گنا بڑھنے کی راہ پر ہے۔ ہمیں یہاں بھی ایسا ہی اعتماد پیدا ہونے کی توقع ہے: شانتی کے ساتھ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کے لیے 20,000 کروڑ روپے کی مشن اسکیم اور نجی شعبے کو مہمیز دینے کے لیے 1 لاکھ کروڑ روپے کا تحقیق، ترقی اور اختراع فنڈ بھی اعلان کیا گیا ہے۔ جوہری توانائی ایک تنہا جزیرہ نہیں ہوگی، یہ ہندوستان کی وسیع اختراعی لہر کا ایک مضبوط گِرہ بنے گی۔
کچھ لوگ ذمہ داری اور عدالتوں کے بارے میں فکر مند ہیں، شانتی واضح ہے۔ ذمہ داری آپریٹر پر عائد ہے، تنصیبات کے لحاظ سے حد بندی کے ساتھ لازمی بیمہ یا مالی تحفظ کی پشت پناہی میں، حد سے تجاوز کی صورت میں جوہری ذمہ داری فنڈ اور ضرورت پڑنے پر بین الاقوامی اضافی معاوضہ پول سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ شہری عدالتیں تکنیکی دعوؤں سے بوجھل نہیں ہوں گی، خصوصی داد رسی کمیشن فیصلہ کرے گا، اپیلیں اپیلیٹ ٹریبونل برائے بجلی (جوہری فنی اراکین کے اضافے کے ساتھ) اور بالآخر سپریم کورٹ تک جائیں گی۔ مقصد انصاف سے گریز نہیں بلکہ رفتار، مہارت اور وقار کے ساتھ انصاف کی فراہمی ہے۔
اور کچھ کو خدشہ ہے کہ خود مختاری کمزور ہوگی، حقیقت اس کے برعکس ہے۔ منبع اور قابلِ انشقاق مواد حکومتی نگرانی اور حساب کے تحت رہتے ہیں، مقررہ درجات سے اوپر یورینیم اور تھوریم کی کانکنی حکومتی اداروں کے لیے محفوظ ہے، حساس معاملات میں حصولِ ملکیت کے حقوق مرکز کے پاس ہیں اور ہنگامی اختیارات حکومت کو ضرورت پڑنے پر تمام سہولتوں اور مواد پر کنٹرول سنبھالنے کی اجازت دیتے ہیں۔ خود مختاری، سلامتی اور پیمانہ، تینوں ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔
آخرکار، قانون اتنا ہی زندہ ہوتا ہے جتنا وہ لوگوں کی زندگیوں میں معنی رکھتا ہے۔ میں ایک چھوٹے قصبے کا تصور کرتا ہوں جہاں آدھی رات کو اسٹریٹ لائٹس اس لیے نہیں بجھتیں کہ قریب ہی کوئی ری ایکٹر مسلسل گونج رہا ہے، ایک کسان جو شعاعی عمل سے محفوظ کی گئی پیاز کی بہتر قیمت پاتا ہے، ایک ماں جو لینیئر ایکسیلیریٹر کو جان بچانے والی خوراک ناپتے دیکھتی ہے، ایک نوجوان انجینئر جو ایسا الگورتھم لکھتا ہے جو کسی خرابی کو واقعہ بننے سے پہلے پکڑ لیتا ہے۔ یہی وہ ہندوستان ہے جس کی دائی ترقی یافتہ بھارت، صاف اور قابلِ اعتماد توانائی سے روشن، مضبوط ضابطہ کاری سے محفوظ اور شہریوں کی ذہانت سے متحرک شانتی بننا چاہتا ہے۔
دریا سمندر تک پہنچنے کے لیے بحث نہیں کرتے، وہ راستہ پا لیتے ہیں۔ شانتی کے ساتھ ہندوستان کے جوہری دریا نے اپنا راستہ پا لیا ہے، محفوظ، خود مختار، اور اتنا فیاض کہ ہر شہری کو اپنے ساتھ لے جا سکے۔

