تاثیر 4 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
سنگھواڑہ دربھنگہ (محمد مصطفی)سمری تھانہ حلقہ کے شو بھن گاؤں سے محمد امیر الحق کو پولیس نے دبیہ سے جان لیوا حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کر اتوار کے روز عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا ہے نجی زمین فروخت نہیں کرنے پر زمین مافیاؤں نے گاؤں کے چار افراد کو زخمی کر دیا تھا زخمی محمد شبیر نے درج ایف آئی آر میں کہا ہے کہ یکم جنوری کو چار بجے میں گاؤں کے محمد ظفیر الحق محمد، امیر الحق، انوار الحق، و شہناز بیگم نے گھیر کر میری بہن کے ساتھ فحش حرکت و لات مکوں سے مار پیٹ کر رہے تھے جب میں احتجاج کیا تو چاروں ملزمان الجھ کر ہاتھا پا ئی و لاٹھی ڈنڈا سے مار پیٹ کرنے لگے ظفیر الحق اپنے ہاتھ میں بانس کاٹنے والے دھار دھار دبیہ سے جان مارنے کی نیت سے پیشانی پر حملہ کر لہو لوہان کر دیا انوار الحق نے گالی گلوچ کر حکم دیا کہ زمین پر پٹک کر شبیر کی گردن پر دبیہ چلا کر قتل کر دو شور غل کی آواز سن کر جب گاچهی میں میرا بڑا بھائی محمد شکیل و میرے والد ابو الحسن عرف حبیب الحق آئے تو سبھی ملزمان ان لوگوں پر بھی دھار دھار ہتھیار سے جان لیوا حملہ کر زخمی کر دیا چاروں زخمیوں کا علاج سی ایچ سی اسپتال سنگھواڑہ میں کرایا والد کے جیب سے محمد امیر الحق نے ایک ہزار روپے نکال لیا سفینہ ناز کے گلے سے دو بھر چاندی کی چین شہناز بیگم نے زمین پر پٹک کر چھین لیا ظفیر الحق زمین مافیا کا کام کرتا ہے مجھے وہ اہل خانہ کے لوگوں کو دھمکی و رنگداری سے کہتا ہے کہ تم اپنی نجی زمین و گاچهی ہم لوگوں کے ہاتھ کم قیمت پر فروخت کر دو ورنہ کسی دن بھی قتل کر دیں گے یا باہر سے کریمنل کو بلوا کر جان سے مروا دیں گے یہ سبھی پیشور مجرم ہیں

