پاکستان میں 2.5 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر

تاثیر 21 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

اسلام آباد، 21 جنوری : پاکستان کے انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز کی ایک حالیہ رپورٹ نے وفاقی حکومت کی ہنگامی تعلیمی پالیسی کی قلعی کھول دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 2.5 کروڑ(25) ملین بچے اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔ تعلیم پر ملک کے کل اخراجات 5 کھرب (500بلین)روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ ان اخراجات کا بڑا حصہ اب حکومت کے بجائے عام پاکستانی خاندان برداشت کر رہے ہیں۔
دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق، انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار تعلیم پر گھریلو اخراجات حکومت کے تعلیمی بجٹ سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے 15ویں ایڈیشن کے مطابق 25 ملین سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ عوام تعلیم پر 280ارب روپے خرچ کر رہے ہیں، جب کہ حکومتی سرمایہ کاری کم ہو کر 220 ارب روپے رہ گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں، عوام تعلیم کا 56 فیصد مالی بوجھ برداشت کر رہے اور حکومت صرف 44 فیصد برداشت کرتی ہے۔ والدین نجی اسکولوں کی فیسوں پر 1310 ارب روپے، کوچنگ اور ٹیوشن پر 613ارب روپے اور تعلیم سے متعلق دیگر ذاتی اخراجات پر 878 ارب روپے خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔