مظفرپور میں قید سے چھوٹی 6 کمسن لڑکیوں نے سنائی اپنی آپ بیتی

تاثیر 11 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

مظفرپور (نزہت جہاں)
ضلع کے نگر تھانہ علاقے کے ریڈ لائٹ ایریا سے آزاد کرائی گئی چھ کمسن لڑکیوں نے پولیس تفتیش میں بتایا کہ گرفتار خواتین ان سے زبردستی جسم فروشی کراتی تھیں۔ تمام لڑکیوں کے عدالت میں بیان درج کرانے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔ عدالت کے حکم پر آگے کی کارروائی کی جائے گی۔ ہفتہ کو نابالغ بچیوں سے غیر اخلاقی جسم فروشی کرانے کا انکشاف ہونے کے بعد ریسکیو فاؤنڈیشن نئی دہلی (این جی او) کے تفتیشی افسر سنجے کمار گپتا کے بیان پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
اس میں شوکلا روڈ، مینا گلی کی رہائشی ایک خاتون، اس کی بیٹی اور ایک فرار خاتون کو نامزد کیا گیا ہے۔ گرفتار ماں–بیٹی سے تحقیقات کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا۔
نابالغ بچیوں سے جسم فروشی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے کارروائی تیز کر دی ہے۔ پولیس ایکشن کے بعد اس دھندے میں ملوث خواتین اپنے گھروں پر تالے لگا کر فرار ہو گئی ہیں۔ ہفتہ کو بھی ان کے گھروں پر تالے لٹکے رہے۔ پولیس نے آس پاس کے لوگوں سے تحقیقات بھی کی، مگر فرار خاتون کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
پولیس تفتیش میں معلوم ہوا کہ فرار خاتون کا 13 سال قبل شوہر سے طلاق ہو گیا تھا۔ اس کے بعد اس نے جسم فروشی کا دھندہ شروع کر دیا۔ وہ زیادہ تر دوسرے شہروں میں رہ کر نیٹ ورک چلاتی ہے۔ ہائی پروفائل لوگوں کو آن ڈیمانڈ لڑکیوں کی سپلائی کرنے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔
شہر سے باہر رہنے کی وجہ سے وہ یو پی آئی کے ذریعے گاہکوں سے پیسے وصول کرتی تھی۔ چھاپے کے دوران اس کے گھر سے ایک اسکینر بھی برآمد ہوا ہے۔ پولیس کارروائی کے بعد وہ روپوش ہو گئی ہے۔ اس کے تمام ممکنہ ٹھکانوں کی تلاش میں پولیس چھاپے مار رہی ہے۔ کیس کی تفتیش کی ذمہ داری سب انسپکٹر نیہا کماری کو دی گئی ہے۔
چھاپہ ماری کے دوران پولیس نے ماں–بیٹی کے گھر سے قابلِ اعتراض سامان بھی برآمد کیا۔ ان سب کے بینک اکاؤنٹس کے بارے میں بھی پولیس معلومات اکٹھی کر رہی ہے تاکہ اس غیر قانونی کاروبار سے ہونے والی کمائی کا سراغ لگایا جا سکے۔ اس کے بعد ان اکاؤنٹس کو منجمد کیا جائے گا۔