تاثیر 1 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
سیتامڑھی ( مظفر عالم)
نیا سال 2026 ضلع سیتامڑھی کے لیے خوشخبری لے کر آیا ہے۔ برسوں سے جس میڈیکل کالج اور بڑے اسپتال کا انتظار کیا جا رہا تھا، وہ خواب اب حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ سیتامڑھی کو جلد ہی اپنا میڈیکل کالج اور جدید طبی سہولیات سے لیس بڑا اسپتال ملنے والا ہے، جس سے نہ صرف ضلع بلکہ آس پاس کے علاقوں کے لوگوں کو بہتر علاج اور طبی تعلیم دونوں کی سہولت حاصل ہوگی۔ مرادپور میں تعمیر ہو رہا ہے سیتامڑھی میڈیکل کالج کی تعمیر ضلع ہیڈکوارٹر ڈمرا کے قریب مرادپور علاقے میں کی جا رہی ہے۔ یہ مقام شہر سے نہایت قریب ہے، جس کی وجہ سے عام لوگوں کو اسپتال تک پہنچنے میں آسانی ہوگی۔ تقریباً 25 ایکڑ سے زائد زمین پر پھیلا یہ کیمپس اس انداز میں تیار کیا جا رہا ہے کہ علاج اور تعلیم ایک ہی احاطے میں ممکن ہو سکے۔میڈیکل کالج اور اسپتال کی تعمیر پر مجموعی طور پر 665 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ ابتدا میں بجٹ کم تھا، تاہم جدید سہولیات میں اضافہ کے پیش نظر بعد میں رقم بڑھا دی گئی۔ یہاں 500 بستروں پر مشتمل اسپتال بنایا جا رہا ہے، جس میں جدید مشینیں، بہتر تشخیصی سہولیات اور ماہر ڈاکٹروں کی دستیابی ہوگی۔ اس سے سنگین بیماریوں کا علاج اب سیتامڑھی میں ہی ممکن ہو سکے گا۔
سیتامڑھی میڈیکل کالج میں 100 ایم بی بی ایس نشستوں کے ساتھ تدریسی سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی اسی احاطے میں نرسنگ کالج بھی قائم کیا جا رہا ہے۔ اس سے سیتامڑھی، شیوہر اور آس پاس کے اضلاع کے طلبہ کو میڈیکل اور نرسنگ کی تعلیم کے لیے باہر جانا نہیں پڑے گا۔
تعمیراتی کام آخری مرحلے میں
میڈیکل کالج اور اسپتال کا تعمیراتی کام تقریباً 90 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ باقی ماندہ کام نئے سال کے آغاز میں مکمل کیے جانے کی امید ہے۔ اس کے بعد اسپتال اور کالج کے باضابطہ طور پر آغاز کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔ حکومت کا ہدف ہے کہ سال 2026 میں یہ منصوبہ پوری طرح فعال ہو جائے۔
سیتامڑھی میڈیکل کالج کے آغاز سے ضلع کے لوگوں کو معیاری اور سستی صحت سہولتیں دستیاب ہوں گی۔ سنگین مریضوں کو اب پٹنہ یا دیگر بڑے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ ساتھ ہی میڈیکل اور نرسنگ کالج کے قیام سے نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔ مجموعی طور پر یہ منصوبہ سیتامڑھی کی ترقی میں ایک تاریخی اور اہم قدم مانا جا رہا ہے۔

