بقائے باہمی کی روایت کو آگے بڑھا نے کے عہد کا دن

تاثیر 22 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بھارت کی عدلیہ نے ایک بار پھر ملک کی کثیر المذاہب ہم آہنگی کو برقرار رکھنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے۔سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں واقع کمال مولا مسجد اور بھوج شالہ کے متنازع مقام پر آج ہونے والی مذہبی سرگرمیوں کے لئے ایک متوازن حل پیش کیا ہے۔ چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں بنچ نے کل22 جنوری کو معاملے کی سماعت کے بعد ہندو برادری کو بسنت پنچمی کے موقع پر سارا دن پوجا ارچنا کی اجازت دی ہے ساتھ ہی اسی دوران مسلمانوں کو دوپہر ایک سے تین بجے تک نماز ادا کرنے کی سہولت فراہم کی ہے۔ اس فیصلے میں احاطے کے اندر الگ الگ داخلے اور خروج کا انتظام شامل ہے۔اس دوران قانون و انتظام کا ماحول بنائے رکھنے میں عدالت نے دونوں برادریوں سے انتظامیہ کو تعاون دینے کی اپیل کی ہے۔
بھوج شالہ کا تنازع کافی پرانا ہے۔ اس مقام کوہندو برادری دیوی سرسوتی کا مندر مانتی ہے، جبکہ مسلمان اسے کمال مولا مسجد کہتے ہیں۔ یہ مقام گیارہویں صدی کا تاریخی یادگار ہے، جو اب انڈین آرکیالوجیکل سروے (اے ایس آئی) کے تحفظ میں ہے۔ 2003 سے قائم انتظام کے تحت ہندو منگل کو پوجا اور مسلمان یہاں جمعہ کو نماز ادا کرتے ہیں۔ تاہم، اس سال بسنت پنچمی کا تیوہار جمعہ کو پڑنے کی وجہ سے تصادم کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ ہندو فریق کا کہنا تھا کہ بسنت پنچمی کی رسومات سورج نکلنے سے غروب تک جاری رہتی ہیں، لہٰذا نماز کو موخر کیا جائے۔ دوسری طرف، مسلمانوں کا موقف تھا کہ نماز جمعہ کے لئے دو گھنٹے کافی ہیں اور انہیں اپنے مذہبی حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔ کورٹ نے دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد ایک ایسا معقول حل نکالا ہے، جو قابل عمل ہونے کے ساتھ ساتھ مذہبی آزادی کے احترام کو بھی یقینی بناتا ہے۔
بلا شبہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ملک کے سیکولر اصولوں کے عین مطابق ہے۔ بھارت کا آئین تمام مذاہب کا برابراحترام کر تا ہے، اور سپریم کورٹ نے اس اصول کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے فیصلے میں کسی ایک فریق کو ترجیح نہیں دی ہے۔ کورٹ نے دونوں مذاہب کے ماننے والوں کو متعلقہ احاطہ میں بلا خلل داخل ہونے اور باہر نکلنے کے لئے الگ الگ راستے کا انتظام کیا ہے اورنظام کو یقینی بنانے کے لئے انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے،تاکہ مسلمان اطمینان کے ساتھ جمعہ کی نماز ادا کر سکیں اور ہندو عقیدتمندوں کو بھی پوجا ارچنا کرنے میں کوئی دقت نہیں ہو۔ کورٹ کا یہ متوازن اور قابل عمل فیصلہ در اصل یہ پیغام بھی ہے کہ مذہبی تنازعات کو تشدد یا نفرت کی بجائے مکالمے اور عدالتی راستے سے حل کیا جا سکتا ہے۔ کورٹ نےدونوں فریق سے’’باہمی احترام ‘‘کی اپیل ہے۔اسی طرح کی اپیل ہماری سماجی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتی ہے۔
عوامی سطح پر دیکھا جائے تو کورٹ کا یہ فیصلہ عام شہریوں کے مفاد میں ہے۔ مذہبی مقامات پر تنازعات اکثر فرقہ وارانہ کشیدگی کا باعث بنتے ہیں، جو نہ صرف امن کو متاثر کرتے ہیں بلکہ معاشی اور سماجی زندگی کو خطرے میںبھی ڈالتے ہیں۔ دھار جیسے علاقوں میں، جہاں دونوں برادریاں مل جل کر رہتی ہیں، ایسے فیصلے اعتماد کی بحالی میں مدد دیتے ہیں۔ انتظامیہ کو حکم دیا گیا ہے کہ قانون و انتظام برقرار رکھنے کے لئے ضروری اقدامات کریں، جو یہ یقینی بنائے گا کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ اس سے عام لوگوں کو یہ اطمینان ہو گا کہ ان کی مذہبی آزادی محفوظ ہے اور ریاست ان کے حقوق کی نگہبان ہے۔
اس فیصلے کا ایک اور اہم پہلو ہے، جو اے ایس آئی کی سائنٹیفک سروے رپورٹ سے وابستہ ہے۔ کورٹ نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کو ہدایت دی ہے کہ رپورٹ کو کھول کر دونوں فریقوں کو فراہم کیا جائے، اور تین ہفتوں میں کیس کی سماعت کی جائے۔ تاہم، سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا ہےکہ رپورٹ کے نتائج پر کوئی کارروائی اس کی اجازت کے بغیر نہ کی جائے،یعنی اسٹیٹس کو برقرار رکھا جائے۔ یہ احتیاط اس بات کی ضمانت ہے کہ کورٹ نہیں چاہتی ہے کہ اس تاریخی مقام کے ساتھ ، شعوری یا لاشعوری طور پر کوئی چھیڑ چھاڑ کرے، خاص طور پر اس صورت میں، جب کوئی پولس افسر کورٹ کے آرڈر کو ماننے سے انکار کر دے۔اتر پردیش کا حالیہ واقعہ ابھی دنیا کے سامنے ہے۔
  مجموعی طور پر، سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بھارت کی عدلیہ کی پختگی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک میں مذہبی تنازعات بڑھ رہے ہیں، یہ ایک امید کی کرن جیسا ہے۔ دونوں برادریوں کو چاہیے کہ وہ اس فیصلے پر عمل کریں اور ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کریں۔ ریاست اور ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے کامیابی سے نافذ کریں۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو یہ دیگر تنازعات کے لئے یہ ایک ماڈل بن سکتا ہے۔ عوام کی طرف سے، ہمیں ایسے اقدامات کی حمایت کرنی چاہئے، جو تقسیم کی بجائے اتحاد کو فروغ دیں۔ بسنت پنچمی کا تیوہار علم میںاضافہ اورموسم بہارکی آمد کے اعلانیہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ نماز جمعہ بھی اجتماعیت کا مظہر ہے۔ بہتر ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں بقائے باہمی کے اصولوں کو آج اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اس روایت کو آگے بڑھانے کا عہدبھی کریں۔
****************