تاثیر 19 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
سیتامڑھی( مظفر عالم)وزیراعلیٰ بہار نتیش کمار نے سمردھی یاترا کے دوران سیتامڑھی اور شیوہر اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا اور افسران کو ہدایت دی کہ تمام اعلانات پر تیزی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے دونوں اضلاع میں 713 کروڑ روپے سے زائد کی اسکیموں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھا۔ سیتامڑھی ضلع میں وزیراعلیٰ نے باگمتی ندی پر 70.89 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ سیتامڑھی–بیرگنیا سڑک کے تحت چندولی گھاٹ پر اعلیٰ معیار کے آر سی سی پل کے پہنچ پاتھ کا افتتاح کیا۔ اس کے علاوہ بیلسنڈ بلاک کے چندولی پنچایت میں واقع پی ایم شری ہتنارائن پلس ٹو ہائی اسکول میں نوتر باٹیکا کا بھی افتتاح کیا۔
بیلسنڈ میں منعقدہ تقریب کے دوران وزیراعلیٰ نے ریموٹ کے ذریعہ 554.20 کروڑ روپے کی لاگت سے 67 ترقیاتی اسکیموں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھا، جن میں 208.12 کروڑ روپے کی لاگت سے 26 اسکیموں کا افتتاح اور 346 کروڑ روپے کی لاگت سے 41 اسکیموں کا سنگِ بنیاد شامل ہے۔ وزیراعلیٰ نے مختلف محکموں کی جانب سے لگائے گئے ترقیاتی اور فلاحی اسکیموں کے اسٹالوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر جیونکا سیلف ہیلپ گروپ سے وابستہ 386 دیدیوں کو 1 کروڑ 19 لاکھ روپے کی روزگار امداد اور 4813 گروپوں کی 19,124 دیدیوں کو 252 کروڑ روپے کی بینک لنکیج کے تحت علامتی چیک فراہم کیے گئے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جیونکا دیدیاں ریاست کی معیشت کو مضبوط بنا رہی ہیں اور حکومت انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ شیوہر پہنچے جہاں انہوں نے دیکولی واقع بابا بھونیشورناتھ مندر احاطہ میں 11.89 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار شدہ سیاحتی سہولت اور تزئین و آرائش کے کاموں کا افتتاح کیا۔ انہوں نے مندر احاطہ کے تالاب کے چاروں طرف سیڑھی گھاٹ کی تعمیر جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی اور پوجا ارچنا کر ریاست کی خوشحالی، امن اور ترقی کی دعا کی۔
شیوہر میں وزیراعلیٰ نے کملیشوری نندن سنگھ بس پڑاؤ کا افتتاح کیا۔ بس اسٹینڈ احاطہ میں منعقدہ پروگرام میں ریموٹ کے ذریعہ 59 کروڑ روپے کی لاگت سے 103 اسکیموں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ اس کے ساتھ ہی 6509 جیونکا سیلف ہیلپ گروپوں کو 125 کروڑ روپے کی بینک لنکیج امداد اور ادیمی یوجنا کے تحت 37 مستفیدین کو 99.75 لاکھ روپے کے علامتی چیک فراہم کیے گئے۔
تقریب میں وزراء، اراکینِ پارلیمنٹ، اراکینِ اسمبلی، قانون ساز کونسل کے اراکین، اعلیٰ افسران اور بڑی تعداد میں مقامی لوگ موجود تھے۔

