تاثیر 25 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
آج 26 جنوری ہے۔حسب روایت آج ہمارا وطن عزیز بھارت اپنا 77 واں یوم جمہوریہ منا رہا ہے۔یوم جمہوریہ محض ایک قومی تہوار نہیں ہے، یہ ہماری آزادی کی جدوجہد، جمہوری اقدار اور قومی اتحاد کی زندہ علامت بھی ہے۔ 26 جنوری، 1950 کو جب بھارت کا آئین نافذ ہوا، تب سے یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک آزاد، خودمختار اور سیکولر جمہوریہ ہیں۔ یہاں ہر شہری کے حقوق کی ضمانت ہے۔ اس سال کی تقریبات کا مرکزی تھیم’’وندے ماترم کے 150 سال‘‘ ہے۔
یوم جمہوریہ کے اصل تقاضے آئین کی روح میں پنہاں ہیں۔ یہ دن ہمیں آئین کے بنیادی ڈھانچے کی یاد دلاتا ہے۔جمہوریت، سیکولرزم، قانون کی حکمرانی، بنیادی حقوق، سماجی انصاف اور اتحاد میں تنوع….. ، یہی ہماری جمہوریت کے اہم عناصر ہیں ۔ آئین کا آرٹیکل 14 سب کو قانون کے سامنے برابری کا حق دیتا ہے، آرٹیکل 15 مذہب، نسل، ذات یا جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک سے روکتا ہے، جبکہ آرٹیکل 25 سے 28 مذہبی آزادی کی ضمانت دیتے ہیں۔ یہ تقاضے گرچہ کاغذ پر لکھے گئے ہیں، مگر انہیں اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا ہر شہری کا فرض ہے۔
اگر ہم یوم جمہوریہ کو صرف تقریبات، پرچم کشائی اور تہواروں تک محدود رکھیں اور آئینی تقاضوں کو نظر انداز کر دیں تو اس جشن کا کوئی معنی باقی نہیں رہتا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں، بلکہ روزمرہ کی زندگی میں رواداری، انصاف اور احترام کا مظاہرہ ہے۔ جب مذہبی منافرت میں اضافہ ہوتا ہے، اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتاہے، یا سماجی تقسیم گہری ہوتی ہے تو ظاہر ہے یہ آئین کی روح کے خلاف ہے۔چنانچہ یوم جمہوریہ ہمیں اس ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے کہ ہم اپنے اعمال سے آئین کی پاسداری کریں، نہ کہ صرف الفاظ میں۔
یوم جمہوریہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ بھارت کی طاقت اس کے تنوع میں ہے۔ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، جین، بدھ اور دیگر تمام برادریاں، مختلف زبانیں، ثقافتیں اور روایات ایک ساتھ مل کر ’’گنگا جمنی تہذیب‘‘ کی تشکیل کرتی ہیں۔ یہ تہذیب صدیوں سےبھارت کی روح رہی ہے، جہاں گنگا اور جمنا کے پانی کی طرح مختلف مذاہب اور ثقافتیں مل کر ایک نئی ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں۔ آج جب دنیا میں تقسیم اور نفرت کے رجحانات بڑھ رہے ہیں، بھارت کے تمام شہریوں کو مل جل کر اس تہذیب کی حفاظت کرنی ہے۔ مذہبی منافرت، فرقہ وارانہ کشیدگی اور امتیازی رویوں کے خلاف آواز اٹھانی ہے۔
حب الوطنی کا حقیقی اظہار یہی ہے کہ ہم آئین کے تقاضوں پر عمل کریں۔یعنی سب کو برابر حقوق دیں، اختلاف رائے کا احترام کریں، کمزوروں کی مدد کریں اور سماجی انصاف قائم کریں۔ یہ دن ہمیں بابائے قوم مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزادؔ، بابا صاحب امبیڈکر اور سردار پٹیل جیسے عظیم رہنماؤں کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے ایک ایسے بھارت کاخواب دیکھا تھا، جہاں کوئی بھوکا نہ سوئے، کوئی خوفزدہ نہ ہو اور سب مل کر ترقی کریں۔
آج اپنے آپ سے یہ وعدہ کرنے کا دن ہے کہ ہم حب الوطنی کے جذبے کو زندہ رکھتے ہوئے اپنے ملک کے مذہبی، لسانی، ثقافتی اور علاقائی تنوع کوہمیشہ تحفظ دیتے رہیں گے۔ مذہبی منافرت اور تقسیم کی آوازوں کے مقابلے میں گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دیں گے۔ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، جین اور دیگر تمام برادریاں مل کر ایک خاندان کی طرح رہیں گی، جہاں ہر ایک کی شناخت اور عقیدے کا احترام ہوگا۔یقین جانیں یہی وہ حقیقی حب الوطنی ہے، جو نفرت کو شکست دے کر محبت اور اتحاد کی بنیاد پر ملک کو مزید مضبوط اور خوشحال بنائے گی۔آیئے ! ایک بار پھریہ عہد کریںکہ ہم اپنے وطن عزیز کے آئین کے وقار کو کبھی مجروح نہیں ہونے دیں گے، اس کی شان کی بقا کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے اور اس کی سربلندی کے لئے تا حیات جدو جہد کرتے رہیں گے۔7 7 واں یوم جمہوریہ آپ سب کو بہت بہت مبارک ہو !

