تاثیر 27 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

ڈاکٹرمحمد اقتدار حسین ٖفاروقی
حیاتیاتی تنوع کی حفاظت اسلامی ذمہ داری
سورۂ فاطر کی یہ آیت انسان کو اپنا خلیفہ یعنی نائب تو ضرور قرار دیتی ہے لیکن اس سر زمین کا مالک ہرگز نہیں۔اسکو زمین کی ساری نعمتیں انصاف اور اعتدال کے ساتھ استعمال کرنے کی اجازت تو ہے لیکن کسی قسم کی ظلم و زیادتی بالکل نہیں۔
قرآن کی ایک دوسری اہم آ یت اس سچائی کو واضح کرتی ہے کہ جانور محض انسانی استعمال کی چیز نہیں ہیں، بلکہ وہ اپنی ایک الگ زندگی اور معاشرت رکھتے ہیں:
“اور زمین میں چلنے والا کوئی جانور نہیں اور نہ کوئی پرندہ جو اپنے پروں سے اڑتا ہو مگر یہ سب تمہاری ہی طرح جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے۔(سورۃ الانعام، 6:38 )
سورۃ الجاثیہ (45) کی آیت 4 کےحوالہ سےیہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ انسانوں کی اپنی تخلیق میں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھیلائی گئی مختلف جانوروں کی اقسام میں یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں موجود ہیں، جو غور و فکر کرنے والوں کو توحید اور قدرت الٰہی کی عظمت کا احساس دلاتی ہیں.
اسی طرح ۔۔سورۃ النمل میںحضرت سلیمان علیہ السلام کی چیونٹیوں کا واقعہ یا سورۃ الکہف میں اصحاب کہف اور کتے کا ذکر یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی علامتیں ہیں
قرآن میں جگہ جگہ جانوروں کا ذکر مختلف حوالوں سے ملتا ہے۔جانوروں کی برادریوں کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ تقریباً دو سو قرآنی آیات میں مختلف زاویوں سے جانوروں کا ذکر ہوا ہے، جب کہ چھتیس جانوروں کے نام واضح طور پر ذکر کیے گئے ہیں، جن میں پرندے، حشرات الارض، جنگلی جانور اور پالتو جانور شامل ہیں۔ مزید یہ کہ قرآن کی کئی سورتیں جانوروں کے نام پر رکھی گئی ہیں جیسے:
البقرہ (گائے)، الانعام (چرنے والا مویشی)، النحل (مکھی)، نمل (چیونٹی)، العنکبوت (مکڑی) اور الفیل (ہاتھی)۔ سورہ العادیات (The Chargers/The Racers) سے مراد گھوڑےکی ہے
اللہ انسان کو یوں تنبیہ بھی کرتا ہے پھر “وہ زمین میں فساد پھیلاتا ہے اور کھیتی اور جانوروں کو تباہ کرتا ہے۔”(سورۂ بقرہ 2:(20
قرآن پاک کی تعلیم کے مطابق، نبی کریم نے جانوروں پر رحم، مہربانی اور عدل کی متعدد ہدایات دیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”دنیا شیریں اور سرسبز و شاداب ہے، بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ بنانے والا ہے، وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو (ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ۔مسلم)
۔کچھ نہایت اہم ارشادات بسلسلہ حیوانات اسطرح بھی ہیں:
۔۔“جو مسلمان درخت لگاتا ہے اور اس کا پھل کوئی پرندہ، انسان یا جانور کھاتا ہے تو اسے صدقہ کا ثواب ملتا ہے (جابر رضی اللہ عنہ۔ بخاری)۔
۔۔“تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، اللہ کے نزدیک وہی شخص محبوب ہے جو اس کے کنبے کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔”( ( راوی انس رضی اللہ عنہ۔ بخاری)
۔۔کھیل تماشےکے طور پرندہ یا جانور کو ما رنا سخت گناہ قرار دیا۔۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ(مسلم)
۔۔جانور پر ظلم کرنا اتنا ہی برا ہے جتنا کہ انسان پر ظلم کرنا” ( بخاری)۔
۔۔فوجی مہم کے دوران ایک صحابہ نے ایک پرندے کے چوزے کو ان کے گھونسلے سے اٹھا لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے اور حکم دیا کہ چوزوں کو گھونسلے میں واپس کیا جائے۔ (ابو داؤد)
۔۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عام آدمی نے پیاس کی شدت سے ہانپ رہے کتے کو پانی پلایا، اللہ تعالیٰ نے یہ عمل پسند فرمایا۔پوچھے جانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ہاں) کسی بھی جاندار (جانور) کی خدمت کرنے کا ثواب ہے۔” (بخاری، مسلم)۔اس واقعہ کو یوں بھی بیان کیا گیا ہےکہ ـ ۔ ــ ایک بدکار عورت کو کتے کو جوتے سے پانی پلانے پر معاف کر دیا گیا
۔۔جانورں کو چہرے پر مارنا یا چہرے پر داغ لگانا بھی حرام بتایا۔(مسلم۔راوی۔ جابر رضی اللہ عنہ)
۔۔جانوروں پر ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈالنے سے منع فرما یا۔(بخاری)
۔۔جانور پر ظلم کرنا اتنا ہی برا ہے جتنا کہ انسان پر ظلم کرنا: (، بخاری)۔
۔۔سفر میں جانوروں کو آرام دینا لازمی قرار دیا : تفصیل:سفر کے دوران جب ہم رکتے تو ہم اپنی نماز اس وقت تک نہ پڑھتے جب تک کہ ہم اپنے اونٹوں کی پیٹھ سے بوجھ نہ اتار لیں اور ان کی ضروریات پوری نہ کر لیں۔(راوی ۔حضرت انس رضی اللہ عنہ۔ بخاری)
۔۔ایک طبیب نے مینڈکوں کو دوا میں ڈالنے کے بارے میں مشورہ کیا تو انہیں مارنے سے منع فرمایا۔ (راوی عبدالرحمٰن بن عثمان رضی اللہ عنہ۔ بخاری)
۔۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے آگ (جہنم) میں ڈال دیا کیونکہ اس عورت نے بلی کو قید کر کے رکھا، اسے نہ کھلایا نہ پلایا اور نہ ہی اسے آزاد کیا کہ وہ خود کچھ کھا لیتی، یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی،( بخاری ۔۔ مسلم )
۔۔مکہ کے حرم میں نقصان رساں جانور (فواسق۔ موزی) کے علاوہ کسی جانور کو مارنے سے منع
فرمایاگیا۔(بخاری) .
۔۔چھری تیز کرنے اور ذبیحہ کو آرام پہنچا نے کا حکم دیا۔تفصیل: ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے کہ ہم نے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنی بکریوں کو ذبح کرنے کے لیے باندھ رہا تھا۔ پھر بھی، وہ جانور کے سامنے اپنی چھری تیز کر رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو ڈانٹا: کیا تم اسےبار بار سے قتل کرنا چاہتے ہو؟ (مستدرک طبرانی)
۔۔اپنی بلی معزہ کااس قدر خیال رکھتے کہ کہیں اسکی کی نیند خراب نہ ہو ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ اپنی چادر کےپر اسے سونے دیتے
۔۔قصواءنامی اونٹنی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پیاری تھی۔
مردہ جانور “ہمارے لیے دو قسم کے مردہ جانوروں کوحلال کیا گیا ہے، وہ مچھلی اور ٹڈی ہیں،۔” (روایت: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، ابن ماجہ، مسند احمد، بیہقی)
بہرحال مختصر طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اسلام میں حیوانات کے حقوق پر قانونی و اخلاقی نظام موجود ہے۔جسے حضرت انسان کو سمجھنا لازم ہے۔
ولیم منٹگمری واٹ ((William Montgomery Watt اسکاٹ لینڈ کا ایک مشہور مورخ نے اپنی کتاب Prophet and Statesman Muhammad: ا میں لکھا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ایک ہمدرد انسان تھے اور جانوروں کے ساتھ ان کا حسن سلوک قابل ذکر تھا۔ اس سلسلے میں واٹ نے مندرجہ ذیل واقعہ کا حوالہ دیا:
مکہ مکرمہ کی طرف بڑھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کا سامنا ایک کتیا اور اسکے نوزائیدہ بچوں کے ساتھ ہوا ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف حکم دیا کہ انہیں نقصان نہ پہنچایا جائے، بلکہ ایک ساتھی کو تعینات کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ فوج کے گزرتے وقت ان کی حفاظت ہو جائے۔
********

