تاثیر 13 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمارپرسوں یعنی 16 جنوری سے ریاست میں’’سمردھی یاترا‘‘ کا آغاز کرنے والے ہیں۔ یہ یاترا ان کی طویل سیاسی زندگی کی 16ویںاور بعض ذرائع کے مطابق 17ویں مہم ہے۔یہ یاترا پچھلے برس کے اسمبلی انتخابات میں حاصل ہونے والے بھاری مینڈیٹ کے بعد شروع ہو رہی ہے۔یاترا کا پہلا مرحلہ 16 جنوری کو مغربی چمپارن سے شروع ہو کر 24 جنوری کو ویشالی میں اختتام پذیر ہوگا۔ یاترا کے پہلے مرحلے میں نو اضلاع مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، سیتامڑھی،شیوہر، گوپال گنج، سیوان، سارن، مظفر پور اور ویشالی کا احاطہ کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ یاترا نہ صرف سات نشچے۔2 اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کا ذریعہ تو ہے ہی ساتھ میں یہ مستقبل کی اقتصادی ترقی کی بنیاد رکھنے کا بھی موقع فراہم کرے گی۔
یہ یاترا نتیش کمار کی ایک مخصوص سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے، جو 2005 کی ’’نیائے یاترا‘‘ سے شروع ہوئی تھی اور اب تک جو مختلف ناموں سے جاری ہے۔ نتیش کمار کی ہر یاترا کا ایک مخصوص مقصد اور نام ہوتا ہے، جو ان کی ’’سائنسی‘‘ سیاست کی عکاسی کرتا ہے۔ منصوبہ بندی، عمل درآمد، جائزہ اور اصلاح اس ’’سمردھی یاتر‘‘ کا مرکزی ہدف ہے، جو بہار کی معاشی خوشحالی پر مبنی ہے۔یہ خاص طور پر فی کس آمدنی میں اضافہ، صنعت کاری، روزگار کی تخلیق اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کا بہتر استعمال کو یقینی بنائے جانے سے متعلق ہے۔ نتیش کمار اسے’’پرگتی یاترا‘‘ اور’’سات نشچے‘‘ کے تسلسل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس دوران وہ براہ راست عوام سے ملاقات، شکایات کا ازالہ، منصوبوں کا سائٹ وزٹ،سنگ بنیاد اور افتتاح جیسے اہم کاموں کو انجام دیں گے۔ انتظامیہ کی سطح پر بھی یہ یاترا جوابدہی کو یقینی بنانے کا آلہ ثابت ہونے والا ہے۔ اس دوران وزیر اعلیٰ ضلع افسران کے ساتھ میٹنگیں کرکے قانون و انتظام سے متعلق قوانین کے یقینی نفاذ پر توجہ مرکوز کریں گے۔
سیاسی تناظر میں یہ یاترا خاص طور پر ترہت ڈویزن، جس میں مذکورہ نو اضلاع شامل ہیں،کے لئے اہم ہے۔ 2025 کے انتخابات میں این ڈی اے نے یہاں تاریخی کامیابی حاصل کی تھی۔اس ڈویزن کے 49 اسمبلی نشستوں میں سے 47 پر فتح حاصل ہوئی تھی۔ سیوان، سیتامڑھی، شیوہر جیسے اضلاع میں کلین سویپ اور مظفر پور، مشرقی چمپارن میں غالب اکثریت نے نتیش کمار کی مقبولیت پر مہر تصدیق ثبت کر دی تھی۔ مبصرین اسے’’رٹرن گفٹ‘‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں، یعنی عوام نے این ڈی اے کو زبردست حمایت دی تو اب حکومت کی باری ہے کہ اس حمایت کا جواب ترقیاتی منصوبوں سےدیا جائے۔ یہ یاترا’’دھنیاواد‘‘ اور’’سمردھی‘‘ کے دوہرے مقصد کو پورا کرنے کے مقصد سے ترتیب دی گئی ہے۔یعنی عوام کا شکریہ بھی ادا ہو اور ترقی کی نئی راہوں کو بھی ہموار کیا جائے۔
تاہم، اس یاترا کی کامیابی کی راہ میں کئی چیلنجز بھی ہیں۔ بہار اب بھی قومی سطح پر فی کس آمدنی کے معاملے میں کافی پیچھے ہے۔ اس کو لے کر ریاست کو تنقید کا نشانہ بھی بننا پڑتا ہے۔ اگر یہ یاترا محض رسمی دوروں تک محدود نہیں رہ کر مثبت انداز میں آگے بڑھتی ہے ، تو واقعی یہ ایک بڑا اور تاریخ سازکام ہوگا۔ عوام کو حقیقی فائدہ پہنچانے کے لئے منصوبوں کی بروقت تکمیل، شفافیت اور نگرانی بے حد ضروری ہے۔ سیاسی مخالفین اسے انتخابی فائدہ اٹھانے کی کوشش قرار دے سکتے ہیں، لیکن نتیش کمار کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان کی یاترائیں اکثر ہمہ جہت ترقی اور انتظامی اصلاحات کا سبب بنی ہیں۔
مجموعی طور پر، پرسوں 16 جنوری سے شروع ہونے والی، وزیر اعلیٰ بہار کی ’’سمردھی یاترا‘‘ بہار کے لئے ایک مثبت قدم ہے۔ یہ نہ صرف ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کا موقع ہے بلکہ عوام اور حکومت کے درمیان براہ راست رابطے کو مضبوط کرنے کا بھی ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اگر اسے سنجیدگی اور نتائج پر مبنی طریقے سے آگے بڑھایا گیا تو یہ ریاست کی معاشی خوشحالی کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ نتیش کمار کی یہ کوشش بہار کے عوام کے اعتماد کو مزید مستحکم کرنے اور ریاست کو ترقی کے نئے دور میں لے جانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ریاست کے عوام کو بھی امید ہے کہ یہ’’سمردھی یاترا‘‘ محض ایک سیاسی مہم نہیں ہو کر حقیقی ترقی کی راہ ہموار کرے گی۔
*********

