تاثیر 14 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
سہسرام ( انجم ایڈووکیٹ ) پاؤں میں سفید چپل اور جوتے، سفید پاجامہ اور کرتا، سر پر رومالی ٹوپی پہننے والے شخص کانگریس لیڈر سماجی کارکن اور صحافی دشرتھ دوبے اب شہر میں نظر نہیں آ سکینگے ۔ پچاسی سالہ دشرتھ دوبے نے منگل کو سہسرام شہر کے کمپنی سرائے علاقہ میں اپنے بھتیجے وجئے دوبے کے گھر میں آخری سانس لے لی۔ اصل میں تتری گاؤں اور سہسرام شہر کے وارڈ نمبر 2 کے رہنے والے دشرتھ دوبے نے دی ہندو کے ساتھ کئی اخبارات اور رسالوں کے لئے کام کیا، جو کبھی کانگریس جنرل سکریٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے، شادی شدہ تو تھے مگر انکی کوئی بیوی یا بیٹا یا بیٹی نہیں رہ پائی تھی ۔ وہ اکیلے ہی مختلف گھروں میں کمرے کرائے پر کمرے لیکر رہا کرتے تھے ۔ انھوں نے اپنے آخری دن اپنے بھتیجے وجئے دوبے کے گھر گزارے ۔ انکی موت کے بارے میں وجئے دوبے نے کہا کہ وہ پیر کی رات کھانا کھا کر سو ئے تھے، جب وہ صبح دیر تک بیدار نہ ہوئے تو انکا دروازہ کھولا گیا تو وہ اپنے بستر پر مردہ پائے گئے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ میری آخری رسومات وارانسی میں ادا کی جائیگی ۔ شری دوبے نے شہر کے وسط میں واقع نہرو پارک کیلئے ریلوے سے لیکر سپریم کورٹ تک مقدمہ لڑا تھا اور جیتنے کے بعد، انھوں نے ایم پی، ایم ایل اے اور وزراء سے پارک کیلئے منصوبے بھی مانگے تھے اور شہر کے روشن خیال لوگوں میں بھیک مانگ کر درخت بھی لگائے تھے ۔ دو دہائیوں سے ان کا شوق ہر یکم جنوری کو پارک میں آنے والے تمام لوگوں کو ٹافیاں بانٹنا تھا ۔ شری دشرتھ دوبے خواجہ اجمیری چشتی سنجری رحمۃ اللہ علیہ کے سخت عقیدت مند میں سے تھے ۔ وہ ہر سال خواجہ غریب نواز کے عرس کیلئے اجمیر شریف جاتے تھے ۔ شیر شاہ سوری مقبرہ کی خدمات سے وہ خود کو شیر شاہ سوری کا بیٹا بھی بتاتے تھے ۔ وہ شہر میں سیکولرازم کی ایک مثال تھے ۔ انھوں نے ہمیشہ رومالی کی ٹوپی پہنی اور ہاتھ میں مقدس اجمیر شریف کا دھاگہ باندھا ۔ سبھی مذاہب کے لوگ انھیں پیار سے مولانا دشرتھ دوبے کہتے تھے ۔ انکی موت پر ایڈوکیٹ کرشن چندر، سی اے سنیل چمڑیا، تاجر گریش چندر، ابھیشیک رنگٹا، ایڈوکیٹ کمل بہادر، اشونی کمار چندن، ایڈووکیٹ اختر امام انجم، سردار مانک سنگھ، سابق ایم ایل اے جواہر پرساد، سابق ایم ایل اے راجیش کمار، کانگریس لیڈر منوج کمار سنگھ، رادھا پرساد سنگھ وغیرہم نے گہرے غم کا اظہار کیا ہے ۔

